اسرائیل غزہ میں بین الاقوامی فوج تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ اقدام جنگ کے بعد کے منصوبے کے اگلے مرحلے کے طور پر کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق یہ بین الاقوامی فورس یکم مئی سے کام شروع کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس فورس میں تقریباً پانچ ہزار فوجی انڈونیشیا سے شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ قازقستان، مراکش، البانیہ اور کوسوو کے فوجی بھی اس دستے کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ابتدائی مرحلے میں یہ فوج جنوبی غزہ کے علاقے رفح کے قریب قائم ہونے والے ایک نئے فلسطینی شہر کے اطراف تعینات کی جائے گی۔ اس شہر کی تعمیر متحدہ عرب امارات کی مدد سے کی جا رہی ہے۔
بعد ازاں یہ بین الاقوامی فوج غزہ کے دیگر علاقوں تک اپنی موجودگی بڑھا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شریک ممالک کے فوجی وفود آئندہ دو ہفتوں کے اندر اسرائیل پہنچ سکتے ہیں۔ یہ وفود تعیناتی سے پہلے غزہ کے مختلف علاقوں کا جائزہ لیں گے۔
اطلاعات کے مطابق بعض غیر ملکی فوجی اگلے مہینے اردن جائیں گے جہاں انہیں تربیت دی جائے گی۔ تربیت کے بعد انہیں غزہ میں تعینات کیا جائے گا۔
یہ منصوبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ کے خاتمے سے متعلق منصوبے کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔ اس منصوبے میں غزہ کے عبوری انتظام کے لیے مختلف اداروں کی تشکیل بھی شامل ہے۔
ان اداروں میں امن بورڈ، غزہ انتظامی کونسل اور غزہ انتظامیہ کے لیے قومی کمیٹی شامل ہیں۔
بین الاقوامی استحکام فورس کا مقصد غزہ میں سکیورٹی کی نگرانی کرنا، مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنا اور انسانی امداد اور تعمیر نو کے سامان کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق غزہ کی تباہ حال بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو پر تقریباً ستر ارب ڈالر خرچ آ سکتا ہے۔


