Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن ایران سے مزید دور منتقل ہونے کی خبریں

ابراہم لنکن ایران سے دور منتقل

ابراہم لنکن ایران سے دور منتقل ہونے کی خبریں اس وقت سامنے آئیں جب سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی ڈرونز نے امریکی طیارہ بردار جہاز کو نشانہ بنایا۔

امریکی فوج نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاز کو کسی ایرانی ڈرون یا میزائل نے نشانہ نہیں بنایا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹس میں کہا گیا کہ طیارہ بردار جہاز ایرانی ساحل سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر منتقل ہوگیا ہے۔

کچھ پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جہاز عمان کے قریب بحیرہ عرب کے شمالی حصے میں موجود ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ان کے ڈرونز نے امریکی جہاز کو نشانہ بنایا جس کے بعد اسے اپنی پوزیشن تبدیل کرنا پڑی۔

تاہم امریکی حکام نے کہا کہ ایسا کوئی حملہ نہیں ہوا اور جہاز محفوظ ہے۔

ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے صرف جہاز کی نئی پوزیشن کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس سے کسی حملے کی تصدیق نہیں ہوتی۔

اسی دوران خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے کیونکہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع شدت اختیار کرچکا ہے۔

آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے نہایت اہم راستہ سمجھا جاتا ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

حال ہی میں اس علاقے میں سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل نے لبنان اور غزہ میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

خلیجی ممالک میں ڈرون حملوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جس کے باعث دبئی میں پروازیں عارضی طور پر معطل کردی گئیں جبکہ سعودی عرب نے کئی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں اور فوری جنگ بندی یا مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں