ایران کا نیتن یاہو کے دفتر پر میزائل حملے کا دعویٰ سامنے آنے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب گارڈز نے کہا ہے کہ اس نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا۔
یہ بیان اتوار کو تہران سے جاری کیا گیا۔ پاسداران انقلاب کے مطابق حملے میں اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر ٹومر بار کی رہائش گاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
پاسداران انقلاب نے اپنے سرکاری خبر رساں ادارے سپاہ نیوز کے ذریعے بتایا کہ حملہ مقامی طور پر تیار کردہ خیبر شکن بیلسٹک میزائلوں سے کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ ایک اچانک کارروائی تھی۔ نیتن یاہو کی حالت کے بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی گئی اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کرنے کا کہا گیا ہے۔
خیبر شکن میزائل کی رونمائی مئی 2023 میں کی گئی تھی۔ ایرانی حکام کے مطابق اس کی مار کرنے کی صلاحیت دو ہزار کلومیٹر ہے۔
یہ میزائل پندرہ سو کلوگرام وزنی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران اسے اپنے جدید دفاعی نظام کا حصہ قرار دیتا ہے۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے ایران کے نیتن یاہو کے دفتر پر میزائل حملے کے دعوے کی فوری تصدیق نہیں کی گئی۔
خطے کی صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔


