سعودی عرب اسرائیل تعلقات پر نئی بحث
سعودی عرب اسرائیل تعلقات ایک بار پھر زیرِ بحث آ گئے ہیں۔ سابق سعودی انٹیلی جنس سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ فی الحال دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر آنے کی بات بھول جانی چاہیے۔
انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور ایران سے متعلق تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے یہ بیان دیا۔
شہزادہ ترکی الفیصل کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے امریکا کے متعدد دورے کیے اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ پر قائل کیا۔
انہوں نے اس صورتحال کو نیتن یاہو کی جنگ قرار دیا۔
ایران کے ممکنہ ردعمل پر تبصرہ
شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی پر ٹرمپ کا حیران ہونا بھی حیرت انگیز بات ہے۔
ان کے مطابق کئی حلقوں کی جانب سے پہلے ہی ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے سے روکا جاتا رہا تھا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
خطے میں جنگ کے خدشات
شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو امریکا بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اس کے اثرات کئی ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اسرائیل تعلقات کی بحالی کی بات فی الحال ممکن نہیں۔


