جرمنی ایران جنگ مؤقف اس وقت واضح ہوا جب جرمنی کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف کسی جنگ میں حصہ نہیں لے گا۔ انہوں نے ایران میں حکومت گرانے کی کسی کوشش کی بھی سختی سے تردید کی۔
جرمن وزیر خارجہ جوہان وڈیفل نے کہا کہ جرمنی ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی یا حکومت کی تبدیلی کے منصوبے میں شامل نہیں ہوگا۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق جرمنی ایران جنگ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ برلن مسئلے کا حل سفارتکاری اور مذاکرات میں دیکھتا ہے۔
دوسری جانب چین نے بھی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
چینی وزیر خارجہ نے روس، ایران، عمان، فرانس، اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفون پر رابطے کیے۔
چینی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ معاملات اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل کیے جائیں اور تمام ممالک فوجی کارروائی ختم کرکے مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔


