خلیجی ممالک کی امریکا میں سرمایہ کاری پر نظرثانی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور معاشی دباؤ کے باعث اس معاملے پر غور جاری ہے۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق تین بڑی خلیجی معیشتیں امریکا میں اپنی سرمایہ کاری کم کرنے یا واپس لینے پر بات چیت کر رہی ہیں۔ اس فیصلے کا تعلق خطے میں جاری جنگی صورتحال سے پیدا ہونے والے معاشی دباؤ سے جوڑا جا رہا ہے۔
گزشتہ سال امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کا دورہ کیا تھا۔ اس دوران امریکا میں سینکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے کیے گئے تھے۔
ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کی امریکا میں سرمایہ کاری امریکی معیشت اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ خلیجی سرمایہ کاری نے کئی شعبوں میں مالی مدد فراہم کی ہے۔
اگر خلیجی ممالک کی امریکا میں سرمایہ کاری میں کمی آتی ہے تو اس سے امریکی حکومت پر معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کسی بھی تبدیلی کے اثرات عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ خلیجی ممالک کے خودمختار ویلتھ فنڈز کے پاس سینکڑوں ارب ڈالر کے اثاثے موجود ہیں۔ اس لیے ان کے بڑے سرمایہ کاری فیصلے عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
فی الحال اس معاملے پر بات چیت جاری ہے اور کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم عالمی مالیاتی ماہرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔


