کم جونگ اُن نے ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر ردعمل دیا ہے۔
شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق کم جونگ اُن نے کہا کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا، لیکن اس سے بچنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
یہ بیان فوجی افسران اور حکومتی حکام کے ایک اجتماع میں دیا گیا۔ اس موقع پر کم جونگ اُن نے مغربی ممالک خصوصاً امریکا کو تنبیہ کی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے شمالی کوریا کی فوجی طاقت کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی حالات میں مضبوط دفاع بہت ضروری ہے۔
کم جونگ اُن نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہونے والے حملوں کو شرمناک اور غیرقانونی جارحیت قرار دیا۔
ان کے مطابق اس طرح کے حملے کسی بھی ملک کی علاقائی خودمختاری اور قومی سلامتی کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ہر ریاست کو اپنی سرزمین کے دفاع کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ شمالی کوریا جنگ نہیں چاہتا۔ تاہم کم جونگ اُن نے واضح کیا کہ اگر ملکی سلامتی کو خطرہ ہوا تو ان کا ملک جنگ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے بھی جڑا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کم جونگ اُن مشرق وسطیٰ کے بحران کو اپنے جوہری پروگرام کے جواز کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا اس وقت طاقت کی سیاست پر چل رہی ہے۔ کم جونگ اُن کے مطابق صرف وہی ممالک محفوظ رہ سکتے ہیں جن کے پاس مضبوط طاقت ہو۔


