مجتبیٰ خامنہ ای نئے ایرانی سپریم لیڈر، کے معاملے پر عالمی ردعمل سامنے آ رہا ہے اور شمالی کوریا نے ایران کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا نے مجبتیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیے جانے کا خیر مقدم کیا ہے۔ شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران کی اسمبلی آف ایکسپرٹس کے فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے۔
ترجمان نے کہا کہ ایرانی عوام کو اپنی قیادت کے انتخاب کا مکمل حق حاصل ہے۔ شمالی کوریا کے مطابق یہ ایران کا داخلی معاملہ ہے اور اس کی خودمختاری کا احترام ضروری ہے۔
دوسری جانب شمالی کوریا نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حالیہ فوجی حملوں کی سخت مذمت کی۔ ترجمان نے ان حملوں کو غیر قانونی جارحیت قرار دیا۔
پیانگ یانگ کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ کسی ملک کی سیاسی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانا ناقابل قبول ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کے بعد ایران کی اسمبلی آف ایکسپرٹس نے ان کے بیٹے مجبتیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔
ادھر شمالی کوریا نے ایک جدید جنگی بحری جہاز “چوئے ہیون” سے اسٹریٹیجک کروز میزائل کا ایک اور تجربہ بھی کیا۔ یہ تجربہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی نگرانی میں کیا گیا۔
اس موقع پر کم جونگ اُن نے ملک کی جوہری دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے اور مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا اپنے جوہری پروگرام کو بیرونی خطرات خصوصاً امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دفاع کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔ امریکا طویل عرصے سے پیانگ یانگ پر جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہا ہے۔
حالیہ مہینوں میں امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ تعلقات میں بہتری اسی وقت ممکن ہے جب امریکا اسے جوہری طاقت کے طور پر تسلیم کرے۔


