ایران ٹرمپ دھمکی کے معاملے پر تہران کی قیادت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر کے بیانات کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ایران خود کرے گا اور جب تک حملے جاری رہیں گے مزاحمت بھی جاری رہے گی۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ خطے میں جاری جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔ تاہم ایران نے اس دعوے کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں پسپائی کا کوئی ارادہ نہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران ہزاروں سال پرانی تہذیب کا حامل ملک ہے۔ ان کے بقول تاریخ میں کئی طاقتیں ایران کو مٹانے کی کوشش کرتی رہیں لیکن ملک اپنی جگہ قائم رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ ایران کو ختم کرنے کا خواب دیکھتے ہیں وہ تاریخ سے ناواقف ہیں کیونکہ ماضی میں آنے والے حملہ آور بھی اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران مکمل طور پر دفاع کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر میزائل حملے جاری رکھے جائیں گے اور فی الحال امریکا کے ساتھ مذاکرات ایجنڈے میں شامل نہیں۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے بھی ٹرمپ کے بیانات کو سختی سے مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم کو دھمکیوں سے ڈرایا نہیں جا سکتا اور ماضی میں بھی زیادہ طاقتور مخالفین ایران کو جھکا نہیں سکے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی بیان میں کہا کہ جنگ بندی کا فیصلہ ایران کرے گا۔ حکام کے مطابق اگر حملے جاری رہے تو خطے سے تیل کی برآمدات محدود کرنے کی پالیسی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل اسی سمندری راستے سے ہوتی ہے۔
سعودی عرب کی تیل کمپنی کے سربراہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال طویل ہوگئی تو عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


