Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

اسرائیل ایران تنازعہ: شدید بمباری کے باوجود اسرائیل اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا

اسرائیل ایران تنازعہ

اسرائیل ایران تنازعہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جہاں مسلسل فضائی حملوں کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے 21 دن تک مسلسل بمباری کی۔ اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کی اعلیٰ قیادت کو بھی نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود اسرائیل اپنے بڑے اہداف حاصل نہ کر سکا۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کئی دن بعد منظر عام پر آئے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ صرف فضائی حملے کافی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی میزائل اور یورینیم افزودگی صلاحیت متاثر ہوئی ہے، لیکن زمینی فوج کے بغیر حکومت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ زمینی کارروائی کے لیے مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔ نیتن یاہو نے ساؤتھ پارس پر حملے کی تصدیق بھی کی، تاہم مزید کارروائی امریکا کے دباؤ پر روک دی گئی۔

دوسری جانب امریکا خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مزید جنگی طیارے اور تقریباً 4 ہزار امریکی میرینز اور سیلرز مشرق وسطیٰ بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکا کے کم از کم تین بحری بیڑے سان ڈی ایگو سے روانہ ہو چکے ہیں۔ ریپڈ رسپانس فورس کی ممکنہ تعیناتی سے ایران کے خلاف زمینی حملے کی قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔

اسرائیل ایران تنازعہ اب خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں