سوئٹزرلینڈ نے امریکا کو اسلحہ برآمدات روک دیں اور ایران جنگ میں غیر جانبداری برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی فریق کا حصہ نہیں بنے گا۔
حکام کے مطابق سوئٹزرلینڈ نے نہ صرف امریکا بلکہ ایران جنگ میں شامل تمام ممالک کو اسلحہ فراہم کرنا معطل کر دیا ہے۔ یہ اقدام اس کی غیر جانبدار پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور کئی ممالک محتاط حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔
دوسری جانب سری لنکا نے بھی امریکا کی درخواست مسترد کر دی۔ صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ امریکا نے دو جنگی طیارے تعینات کرنے کی درخواست کی تھی جسے قبول نہیں کیا گیا۔
ادھر سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔ چینی وزیر خارجہ نے فرانسیسی صدر کے مشیر سے گفتگو میں کہا کہ بحران کا حل صرف مذاکرات میں ہے اور دونوں ممالک کو مل کر امن کے لیے کام کرنا چاہیے۔
ترکی نے بھی سفارتی کردار ادا کیا۔ ترک وزیر خارجہ نے اماراتی قیادت کو پیغام پہنچاتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتکاری کو ترجیح دینے پر زور دیا۔
صورتحال تاحال کشیدہ ہے لیکن کئی ممالک جنگ کے بجائے بات چیت کو ترجیح دے رہے ہیں۔


