اسلام آباد(نیوزڈیسک)موسم گرما کی طلب میں اضافے کے باعث گزشتہ ایک ماہ کے دوران لیموں کی قیمتوں میں 150 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے اور یہ 1000 سے 1100 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ۔
یہ کھٹا پھل کھانے کی اشیاء کے ذائقے کو بہتر بنانے اور گھریلو علاج کے اجزاء کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، اپریل کے دوران خوردہ مارکیٹ میں 200-300 روپے فی کلو میں دستیاب تھا۔گرمی کی شدت کی وجہ سے لوگ اپنی پیاس بجھانے کیلئے مشروبات میں لموں استعمال کرتے ہیں،۔
مرغی کا گوشت 12 روپے فی کلو سستا، فروٹ و سبزیوں کے ریٹ بھی جانیں
تاہم لیموں کی اونچی قیمتوں کے باعث شہری گرمی کی گرمی کو شکست دینے کے ایک سستے اور صحت بخش طریقے سے محروم ہوگئے۔ پنجاب (سرگودھا، ساہیوال، سیالکوٹ، ملتان اور سندھ سکھر، خیرپور، نوابشاہ) میں کم بارشوں کے باعث لیموں کی پیداوار میں کمی دیکھنے میں آئی۔۔
کسان عام طور پر اپنی پیداوار ٹھیکیداروں کو فروخت کرتے ہیں جو بڑے شہروں کو پھل فراہم کرتے ہیں۔قیمتوں میں اضافہ اس سال بڑے پیداواری علاقوں سے سپلائی میں کمی کی وجہ سے ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ لیموں کی کوالٹی اچھی ہے لیکن اس کی سپلائی کافی نہیں ۔
پاکستان میں لیموں کی کاشت بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے اور مقامی پیداوار سے ملکی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ پنجاب اپنے موزوں موسمی حالات کی وجہ سے لیموں کی 95 فیصد پیداوار کرتا ہے لیکن بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے ہر موسم گرما میں قیمت بڑھا دی جاتی ہے۔


