اسلام آباد(نیوزڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مختلف صنعتی شعبوں میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ میں تاخیری حربوں کے انکشافات کے بعد جانچ کی زد میں آگیا ۔ان تاخیری حربوں کے ایک حصے کے طور پر چار صنعتی شعبے متاثر ہوئے ہیں، جن میں سیمنٹ، تمباکو، چینی اور کھاد شامل ہیں۔
یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان چار سیکٹرز میں 146 فیکٹریوں میں کل 649 پروڈکشن لائنیں پھیلی ہوئی ہیں۔ تاہم، ایف بی آر کی ٹینڈر دستاویزات میں صرف 290 پروڈکشن لائنیں ہیں۔
اندرونی ذرائع کے مطابق ان میں سے 50 پروڈکشن لائنیں سیمنٹ سیکٹر، 50 تمباکو، 160 چینی اور 30 فرٹیلائزرز کے لیے مختص ہیں سیمنٹ کے شعبے میں کام کرنے والی کل 200 پروڈکشن لائنوں میں سے ایف بی آر نے ان میں سے صرف 50 کی تفصیلات درج کی ہیں۔
ایف بی آر نے نان فائلرز کی سمیں بلاک کرنے کی ٹھان لی، ٹیلی کام آپریٹرز ’طلب‘
مزید برآں، ایف بی آر نے ان 50 پروڈکشن لائنوں میں سے صرف ایک کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی تنصیب کے لیے تحریری ہدایات جاری کیں۔تاہم ایف بی آر کے بیان کے مطابق تقریباً 62 فیصد ٹرانسمیشن لائنوں پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نصب کیے گئے ہیں۔ یہ تفاوت ایف بی آر کے معاہدے کے معاہدوں کی پابندی کے بارے میں مزید سوالات اٹھاتا ہے۔

