Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

زرعی آمدن پر ٹیکس کی شرح کو کارپوریٹ سیکٹر کے برابر کر دیا گیا، کتنی آمدن پر کتنا ٹیکس دینا ہوگا؟

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کے حصول کے لیے اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں، جن میں پالیسی سطح کے امور پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق، پاکستان نے آئی ایم ایف کی سخت شرائط پر عملدرآمد مکمل کر لیا ہے اور اس حوالے سے مشن کو تفصیلی طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ زرعی انکم ٹیکس سے متعلق قانون سازی کے بارے میں رپورٹ آئی ایم ایف کو پیش کر دی گئی ہے، جس کے تحت زرعی آمدن پر ٹیکس کی شرح کو کارپوریٹ سیکٹر کے مساوی کر دیا گیا ہے۔تمام چاروں صوبوں نے زرعی انکم ٹیکس سے متعلق قانون سازی مکمل کر لی ہے اور ٹیکس کی شرح بھی مساوی طور پر نافذ کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، قانون سازی کے مطابق زرعی آمدن پر درج ذیل ٹیکس لاگو ہوگا:

6 لاکھ روپے سالانہ آمدن تک کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔
6 سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 15 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
12 سے لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 90 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور 12 لاکھ سے زائد آمدن پر 20 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
16 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 1 لاکھ 70 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور 16 لاکھ سے زائد آمدن پر 30 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
32 سے 56 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 6 لاکھ 50 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور 32 لاکھ سے زائد آمدن پر 40 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
56 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن پر 16 لاکھ 10 ہزار روپے ٹیکس اور 56 لاکھ سے زائد آمدن پر 45 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نئے ٹیکس ڈھانچے کے تحت زرعی شعبے میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور محصولات میں اضافے کی توقع ہے، جو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کا ایک اہم جزو ہے۔

یہ بھی پڑھیں