اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، جب کہ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق برینٹ نارتھ سی کروڈ آئل اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ، جو دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے تیل کے اشاریے ہیں، بالترتیب 4.4 فیصد اور 4.3 فیصد بڑھ گئے۔ منگل کو برینٹ کی قیمت 76.45 ڈالر اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 74.84 ڈالر فی بیرل پر جا پہنچی۔بدھ کی علی الصبح دونوں اشاریوں میں مزید 0.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری طرف، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کا مطالبہ کرتے ہوئے، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف سخت لہجہ اپنایا اور ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ امریکہ ان کی موجودگی سے باخبر ہے، لیکن “کم از کم فی الحال” انہیں قتل نہیں کرے گا۔
امریکہ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے اثرات اسٹاک مارکیٹ پر بھی ظاہر ہوئے۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 0.84 فیصد اور ٹیکنالوجی پر مشتمل نیسڈیک کمپوزٹ میں 0.91 فیصد کمی آئی۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیل نے جمعے سے اب تک ایران کی کئی تیل اور گیس تنصیبات پر حملے کیے ہیں، جن میں ساؤتھ پارس گیس فیلڈ، فجر جم گیس پلانٹ، شہران آئل ڈپو اور شہر ری ریفائنری شامل ہیں۔ اگرچہ فی الحال عالمی توانائی کی فراہمی میں کوئی بڑی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی، لیکن امریکہ کی ممکنہ شمولیت نے منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
