Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ریکوڈک سے سونے اور تانبے کی کان کنی، چالیس سال کی آمدن کا باب کھل گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑی پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جو ملک کی معاشی تاریخ کا رخ بدل سکتی ہے۔ بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ریکوڈک کے حوالے سے وہ اہم سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے جس کا پاکستان گزشتہ تین دہائیوں سے منتظر تھا۔ امریکی ادارے یو ایس ایگزیم بینک نے ریکوڈک مائننگ منصوبے کے لیے 25 ارب ڈالر کا تاریخی قرضہ منظور کر لیا ہے، جبکہ منصوبے کے لیے درکار 3.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا نصف حصہ بھی لائن اپ ہو چکا ہے۔

ریکوڈک دنیا کے بڑے کاپر اور سونے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔ حالیہ فیزیبلٹی رپورٹس کے مطابق اس مقام پر 13 ارب ٹن تانبہ اور 17.9 ملین اونس سونا موجود ہے، جس کی مجموعی مالیت 60 ارب ڈالر سے زائد بنتی ہے۔ یہ ذخائر مسلسل چالیس سال تک کان کنی کے قابل ہیں، جو پاکستان کے لیے ایک روشن معاشی مستقبل کا اشارہ سمجھے جا رہے ہیں۔

منصوبے کو کینیڈا کی عالمی کمپنی بیرک گولڈ چلا رہی ہے۔ کمپنی اس منصوبے کی پچاس فیصد مالک ہے جبکہ بقیہ حصہ پاکستان کے پاس ہے۔ بیرک گولڈ نے 2022 میں منصوبے کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اسے دوبارہ بین الاقوامی معیار کے مطابق فعال کیا۔

یو ایس ایگزیم بینک کا منظور کردہ 25 ارب ڈالر کا قرض عام حکومتی قرض نہیں بلکہ خصوصی طور پر ریکوڈک کے انفراسٹرکچر، مائننگ آپریشنز اور ٹرانسپورٹ سسٹم کی تعمیر کے لیے مختص ہے۔ یہ قرض منصوبہ خود اپنی آمدن سے واپس کرے گا اور قومی بجٹ یا عوامی ٹیکس پر کسی قسم کا بوجھ نہیں پڑے گا۔ عالمی مالیاتی اداروں نے پہلی مرتبہ ریکوڈک کو ایک قابل اعتماد اور منافع بخش منصوبہ قرار دیا ہے، جس کے بعد بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ریکوڈک منصوبے کے مکمل فعال ہونے سے بلوچستان میں ہزاروں براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ صوبے میں سڑکوں، پانی، بجلی اور ہاؤسنگ کے بڑے منصوبے شروع ہوں گے۔ پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کی آمدن حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے روپے پر دباؤ کم ہوگا اور ملکی معیشت کو طویل المدت استحکام ملے گا۔

ریکوڈک کو پاکستان کی نئی نسل کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر منصوبہ شفافیت اور قومی مفاد کے تحت چلایا گیا تو یہ ملک کی معاشی بحالی اور ترقی کی بنیاد ثابت ہوگا۔ یو ایس ایگزیم بینک کی منظوری کے بعد منصوبے کی فنانسنگ آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور تعمیراتی کام جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔
مزیدپڑھیں:اڈیالہ جیل میں ملاقات کا وقت ختم ہو گیا

یہ بھی پڑھیں