پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے باوجود مہنگائی کا دباؤ کم نہ ہو سکا اور اس کے اثرات اب ہول سیل مارکیٹ میں بھی نمایاں طور پر سامنے آ رہے ہیں، جہاں گھی اور کوکنگ آئل(cooking oil) کی قیمتوں میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کریانہ مرچنٹس کے مطابق درجہ اول کے گھی اور آئل کی قیمت میں فی کلو تقریباً 30 روپے اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 560 روپے سے بڑھ کر 590 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح درجہ دوم کے آئل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو 35 روپے بڑھ کر 510 روپے سے 545 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
مزید برآں درجہ دوم کے گھی کی قیمت میں بھی 25 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 510 روپے سے بڑھ کر 535 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت، ٹرانسپورٹ اخراجات اور دیگر عوامل کی وجہ سے قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق اگرچہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بعض اوقات کمی دیکھنے میں آتی ہے، تاہم اس کا مکمل فائدہ عام صارفین تک منتقل نہیں ہو پاتا، جس کے باعث روزمرہ استعمال کی اشیاء بدستور مہنگی رہتی ہیں۔
مزیدپڑھیں:پاسپورٹ بنوانے کے خواہشمند افراد ہوشیار ہوجائیں!
تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے، جس سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔ دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ان کی قوت خرید کو متاثر کر رہا ہے اور گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر حکومتی اقدامات اور مارکیٹ کی نگرانی ضروری ہے تاکہ قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم ہو۔

