ملک بھر کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی(Inflation) کا طوفان تھم نہ سکا، جس کے باعث غریب اور متوسط طبقے کے لیے بنیادی اشیائے ضروریہ کی خریداری دن بہ دن مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، سرف، دالیں اور چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ درآمدی لاگت اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث قیمتیں قابو میں نہیں رہ رہیں۔
تفصیلات کے مطابق درجہ اول کا گھی اور کوکنگ آئل 590 سے 595 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ درجہ دوم کا گھی اور آئل 540 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔ اسی طرح درجہ سوم کا گھی اور آئل بھی بڑھ کر 470 روپے فی کلو کی بلند سطح پر دستیاب ہے، جو عام صارف کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
مزید برآں چاول کی مختلف اقسام بھی مہنگی ہو چکی ہیں اور اس وقت 320 سے 640 روپے فی کلو کے درمیان فروخت کی جا رہی ہیں۔ دالوں اور چینی کی قیمتوں میں بھی مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس سے گھریلو بجٹ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
جیٹ فیول سستاہوگیا
شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ان کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے اور سفید پوش طبقہ بھی اب شدید مالی دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔ کئی گھروں میں ضروری اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے جبکہ بچت کا تصور تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی پڑیں گے۔
عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کرنے اور مارکیٹ کی مؤثر نگرانی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عام آدمی کو کچھ ریلیف مل سکے۔

