Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سانحہ 9مئی اور سائبیریا کے بھیڑیئے

دنیا بھر میں بھیڑیوں کو خونخواری کی ایک خوفناک علامت سمجھا جاتا ہے لیکن سائبیریا کے بھیڑیوں کی خون آشامی ایسی لرزہ خیز ہے کہ جب کسی گروہ کی خونخواری تمام حدوں کو پار کر جائے تو انہیں سائبیریا کے بھیڑیئے قرار دیا جاتا ہے، خونخواری کی یہ انتہا کیا ہے ؟ اور ہم نے 9 مئی واقعات کو سائبیریا کے بھیڑیوں سے کیوں جوڑا ؟ یہ زیر نظر کالم کا وہ دلچسپ اور لرزہ خیز پہلو ہے کہ جو آپ کو مدتوں یاد رہے گا ۔
لیکن اس سے پہلے تھوڑا سا ذکر ہو جائے اولیا اللہ اور صوفیا کرام کے اس فرمان کا کہ برائی کو برائی کے ذریعے ختم کرنا ایسے ہی ہے کہ میلے کپڑے کو صاف کرنے کیلئے گندے جوہڑ یا گٹر کے پانی سے دھویا جائے ۔ اس کوشش کا انجام یہ ہو گا کہ میلی چادر مزید غلیظ ہو جائے گی اور برائی کو جب آپ مزید برائی کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کریں گے تو اس کے نتیجے میں صورتحال پہلے سے بھی بدتر ہوتی چلی جائے گی ۔
سانحہ 9 مئی کے متنازع واقعات کیوں پیش آئے اس حوالے سے اہل فکر و نظر مختلف توجیہات پیش کرتے ہیں جن میں سے بہت سی درست بھی ہو سکتی ہیں ، لیکن ہمارے خیال میں 9 مئی واقعات کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلسل برین واشنگ کے ذریعے پی ٹی آئی کارکنوں کی ذہنی حالت یہ کر دی گئی تھی کہ وہ بانی چیئرمین عمران خان کی ٹیم کو فرشتے اور مخالف سیاسی جماعتوں کے لیڈروں اور ارکان اسمبلی کو شیطان سمجھنے لگ گئے تھے ۔ نئے خون اور نئے جذبے کی دو دھاری تلوار سے لیس اس نئی نسل کی کمان ہر انتخابی حلقے میں چونکہ جرائم پیشہ کاروباری سوچ اور رسہ گیری و جاگیردارانہ کلچر رکھنے والوں کے ہاتھوں میں آ گئی تھی اس لئے مقامی ہینڈلرز نے نظریاتی ورکرز کی اس ساری فورس کو پرتشدد طریقے اور جلائو گھیرائو کے انداز میں استعمال کیا۔ اسے پی ٹی آئی کی حریف مین اسٹریم سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی نااہلی کہیں یا کاہلی ، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ نئی نسل میں اس مائنڈ سیٹ کی تشکیل کیلئے جاری میڈیا وار میں وہ کارکردگی نہ دکھا سکے کہ جو دور جدید کی سیاست کی ایک انتہائی لازمی ضرورت بن چکی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کا جو سب سے بڑا المیہ ہے وہی اس کی سب سے بڑی طاقت بھی بنا ہوا ہے ، واقعہ یہ ہے کہ ضلعی و تحصیل کی سطح پر اپنے اپنے علاقے کے انتہائی خوفناک قبضہ گروپ ، مافیاز ، اسمگلرز ، ذخیرہ اندوز ، بلیکیئے ، فراڈیئے اور انتہائی عیار اور بے رحم نودولتیئے اور جاگیردار پی ٹی آئی میں شامل ہو کر آنیوالے کئی عشروں تک اپنی نئی نسل کے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنا چکے ہیں ، کالم کی تنگ دامانی کی وجہ سے ہم پورے ملک میں موجود ایسی سینکڑوں مثالیں تو شامل نہیں کرسکتے لیکن کسی ایک ضلع کے چند ارکان اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کے مختصر ضرور زیر نظر کالم میں بیان کریں گے تاکہ آپ کو اندازہ ہو جائے کہ ہم نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈرز اور ارکان اسمبلی کی اکثریت کو سائبیریا کے بھیڑیئے کیوں لکھا ہے ؟
پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان نے ایک بار کہا تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو کرپشن سے کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ پی ٹی آئی نے جس قماش کے لوگوں کو 2018 اور 2024 کے عام انتخابات میں ٹکٹ دیئے ، اس سے صاف نظر آ رہا ہے کہ خود عمران خان کو بھی کرپشن اور غنڈہ گردی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ اگر آپ کریمنل پس منظر والے اور مجرمانہ سوچ والے ٹکٹ ہولڈرز اور ارکان اسمبلی پر مشتمل ملک گیر ٹیم بنائیں گے تو ان کے احتجاج کا انداز بھی مجرمانہ طرزِ عمل اور کریمنل سوچ سے لتھڑا ہوا ہوگا ، جیسا کہ 9 مئی کو ملک کے مختلف حصوں کے اندر دیکھنے میں آیا ، اسی لیئے ہم نے لکھا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا جو سب سے بڑا المیہ ہے وہی اس کی سب سے بڑی طاقت بھی بنا ہوا ہے ، سوشل میڈیا کے ذریعے پی ٹی آئی نے نئی نسل میں ایک نظریاتی سوچ والے نئے پاکستان کی خواہش تو پیدا کر دی ہے لیکن نئے پاکستان کی تعمیر کیلئے مستری اور کاریگر سارے پرانے بھرتی کر رکھے ہیں اور ان کی اکثریت کاروباری و اخلاقی حوالے سے خوفناک حد تک مجرمانہ سوچ رکھتی ہے ، اس لیئے ہمیں تو اس وقت سے خوف آ رہا ہے کہ جب پی ٹی آئی پلیٹ فارم پر اکھٹے ہو جانے والے سارے مگر مجھ اقتدار کی طاقت سے لیس بھی ہو گئے۔
9 مئی کو جو افسوسناک واقعات پیش آئے اس کیلئے ضروری ماحول بنانے پر پی ٹی آئی کے ایک مخصوص گروہ نے ڈیڑھ دو برس تک پوری تیاری کرکے اپنے کارکنوں کے ذہنوں میں زہر بھرا ، انکوائری رپورٹس میں یہ انکشافات سامنے آئے ہیں کہ اس مقصد کیلئے یورپ اور امریکہ میں سینکڑوں سوشل میڈیا ورکرز بھرتی کیئے گئے جنہوں نے اشتعال انگیز نفرت کی لہر باقاعدہ منصوبے کے تحت لانچ کی ۔ 9 مئی واقعات کا باعث بننے والے بیانیہ کی جلتی پر تیل گرانے کیلئے درجنوں یوٹیوبرز کو مخصوص ٹاسک دیئے گئے ، سال بھر سے جاری تفصیلی انکوائری کے دوران اب یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ مذکورہ چند درجن یوٹیوبرز کا ان 18 ، 20 افراد کے ساتھ مستقل رابطہ تھا جو 9 مئی کے اصل منصوبہ ساز تھے ، اس سرغنہ گروپ کی بڑی تعداد اب یا تو جیلوں میں ہے یا روپوش ہے ، چند ایک بیرون ملک جا چکے ہیں ۔اس حوالے سے بہت سے شواہد مل چکے ہیں اور مل رہے ہیں ، 9 مئی کے پیچھے چار پانچ ماسٹر مائنڈز تھے جبکہ 14 ، 15 پلانرز تھے۔پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 9 مئی واقعات میں ملوث 51 ملزمان کو پانچ، پانچ برس کی سزائیں سنائیں ، جج نتاشا سپرا نے فیصلہ سنایا ، ملزمان پر گوجرانوالہ کینٹ میں توڑ پھوڑ اور جلا گھیرا کے الزامات کے تحت مقدمات درج تھے۔ ان حملوں اور جلائوگھیرائوکے دوران ایک ایس پی سمیت 10 پولیس اہلکار زخمی اور ایک شہری قتل ہوا تھا۔ مظاہرین کی جانب سے چار گاڑیاں بھی توڑی گئیں۔ ان مقدمات میں پی ٹی آئی کے مقامی رہنما کلیم اللہ خان ، جمال ناصر چیمہ ، رضوان ظفر چیمہ ، رضوان مصطفی سیان اور سابق ایم پی اے شبیر مہر نامزد تھے، مجموعی طور پر 51 نامزد اور 400 نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں