(گزشتہ سے پیوستہ)
اور اپنی حکومتوں میں اہم عہدے دیتے ہیں لیکن دعوی یہ کرتے ہیں کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو کرپشن سے کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔ پی ٹی آئی کے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے کی لوٹ مار اور کرپشن کی سنسنی خیز کہانیاں 2018 ء کے عام انتخابات کے بعد مختلف قومی اخبارات اور سوشل میڈیا پر سال ڈیڑھ سال تک شائع ہوتی رہیں ، لوگوں کو امید تھی کہ خان صاحب اس کیخلاف ایکشن لیں گے ، لیکن الٹا اثر ہوا اور مذکورہ ایم پی اے کو ایک پرکشش صوبائی محکمے میں اہم عہدہ دیدیا گیا ۔پی ٹی آئی بانی چیئرمین سے یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ آپ کا وہ ایم پی اے کون تھا جو پچھلے 30 ، 40 برسوں سے مسلسل مالیاتی اسکینڈلز کی زد میں ہے 35 ، 40 سال پہلے جس نے سندھ کے ایک ہندو سیٹھ کے ساتھ 2 کروڑ روپے کا مبینہ فراڈ کیا ، 14, 15 سال پہلے اسی پر اپنے بزنس پارٹنر کو پولیس کی ملی بھگت سے گیارہ بارہ ماہ نجی ٹارچر سیل میں قید رکھ کر 36 کروڑ روپے کی من مرضی کی وصولی کا الزام لگا، اور مغوی کو اس وقت چھوڑا گیا جب ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ اب یہ مرنے والا ہے اور گھر واپسی کے کچھ ہفتوں بعد وہ بدنصیب انتقال بھی کر گیا ، پی ٹی آئی کا وہ کون سا ایم پی اے تھا کہ جو ایک مشترکہ نجی کمرشل سینٹر میں اپنے بزنس پارٹنر کو اغوا کر کے نجی ٹارچر سیل میں قید رکھ کر سب کچھ اپنے نام لکھوا لینے کے لرزہ خیز اسکینڈل میں ملوث ہے ، پی ٹی آئی کا وہ کون سا ایم پی اے تھا کہ جس نے محکمہ ریلوے کی کم و بیش 40 کروڑ روپے مالیت کی قیمتی کمرشل اراضی اپنے نجی کمرشل سنٹر میں شامل کر کے بیچ کھائی ۔پی ٹی آئی ایم پی ایز بجلی چوری ، جعلسازی ، آٹے میں ملاوٹ ، ایرانی تیل کی اسمگلنگ ، مردہ اور بیمار مرغیوں کے مکروہ چکن کی سپلائی اور رمضان بازار کی کروڑوں روپے مالیت کی چینی بیچ کھانے کے مختلف اسکینڈلز میں ملوث ہونے کی وجہ سے برسوں اخبارات کے مین پیجز پر شائع ہونے والے سنسنی خیز اسکینڈلز کی “زینت” بنے رہے ؟ کئی اسکینڈلز کے حوالے سے نیب ، ایف آئی اے ، اینٹی کرپشن ، آئی جی پنجاب اور ڈپٹی کمشنرز و ڈی پی اوز کو درخواستیں دی گئیں ، بہت سے اسکینڈلز پر تو باضابطہ انکوائریاں بھی شروع ہوگئیں لیکن خود پی ٹی آئی حکومت کی بااثر شخصیات کے دبا پر دبا دی گئیں ، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی نیک پاک وفاقی و صوبائی سرکاریں اپنے ان کرپٹ ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی نہ کر سکیں اور دعوی خان صاحب کا یہ ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف ہیں ، گویا کپتان صرف اس کرپشن کیخلاف ہے جو اس کی مخالف ٹیم کے کھلاڑی کریں ، اپنے کھلاڑیوں کی کرپشن کے نہیں۔ گویا ، اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت ۔
ناظرین کرام ! ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں کہ اغوا برائے تاوان کی سرپرستی ہو یا ٹوکہ پرمٹ والا ڈاکہ اور یا پھر اپنے بزنس پارٹنرز یا انویسٹرز کو لوٹنے کا مافیا سٹائل فارمولا ‘ پی ٹی آئی کے مذکورہ سابق و موجودہ ارکان اسمبلی “اپنا بنا کر” لوٹنے یا “اپنوں کو لوٹنے” کے فن میں طاق ہیں ، اپنے حلقہ انتخاب کے لوگوں کا اغوا برائے تاوان کروانے اور اپنے ایریا کے گنے ، کپاس اور گندم کے کاشتکاروں کو لوٹنے میں ملوث ہیں ۔ اسی لیئے ہم نے انہیں سائبیریا کے بھیڑیوں سے تشبیہہ دی ہے۔ سائبیریا کے بھیڑیوں کے حوالے سے مشہور ہے کہ سردیوں میں جب برف باری کی وجہ سے سائبیریا ویران ہو جاتا ہے تو یہ بھیڑیئے بچے کھچے جانوروں کی مل کر چیر پھاڑ کرتے رہتے ہیں اور جب شکار ختم ہو جاتا ہے تو پھر اپنے سب سے کمزور ساتھی بھیڑیئے کو چیر پھاڑ دیتے ہیں اور اس کا گوشت کھا جاتے ہیں ، اپنوں کو چیر پھاڑ کر کھا جانے کا یہ سلسلہ سردیوں کے خاتمے تک جاری رہتا ہے ۔۔سائبیریا کے بھیڑیوں جیسی فطرت رکھنے والے پی ٹی آئی کے گراس روٹ لیول کے شکاری سیاستدانوں کا غول جمع کر کے بانی پی ٹی آئی جس قسم کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں اس کے نتیجے میں ان کی جماعت ایک طرف تو لوکل لیول پر اپنے ووٹرز ، اپنے عوام ، اپنے انویسٹرز اور اپنے بزنس پارٹنرز کی نجی چیر پھاڑ کر رہی ہے تو نیشنل لیول پر اپنے قومی اداروں پر حملہ آور ہے اور اپنے شہدا کی یادگاروں کو بھنبھوڑنے تک میں ملوث ہے ، آج کل 9 مئی کو ایک سال پورا ہونے کے حوالے سے خبروں اور تبصروں کا ایک طوفان آیا ہوا ہے ، عمران خان صاحب اگر اپنے طرز عمل میں جوہری تبدیلی نہ لائے تو ان کی ٹیم میں موجود سائبیریا کے بھیڑیئے اپنی سرشت سے مجبور ہو کر ایک بار پھر اپنے اداروں اور اپنے شہدا کیخلاف کوئی نیا 9 مئی بھی برپا کر سکتے ہیں ، مشتری ہوشیار باش ۔