Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

راحیل شریف اور عاصم منیر

ایک آبنائے ہرمز خلیج فارس، خلیج اومان اور بحیرہ عرب کے درمیان ہے جبکہ ایک اور ’’آبنائے ہرمز‘‘ پاکستان کے تین صوبوں بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے سنگم پر دریائے سندھ کے کچہ ایریا میں ہے، خلیج فارس والی آبنائے ہرمز کی وجہ سے دنیا کو پچھلے چند ماہ سے مسائل درپیش ہیں لیکن پاکستان کے تین صوبوں کے سنگم والی ’’آبنائے ہرمز‘‘تین عشروں سے ایک سلگتا ہوا ناسور بنی ہوئی تھی اور خدا کی قدرت دیکھئے کہ ان دونوں راستوں یا گزرگاہوں کو محفوظ بنانے کا کام اللہ رب العزت نے پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے لیا ہے، خلیج فارس والی آبنائے ہرمز کھلوانے میں عاصم منیر کا کردار تو ایک ’’اوپن سیکرٹ‘‘ہے اور اسے دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے لیکن دریائے سندھ کے کچہ ایریا کی ’’آبنائے ہرمز‘‘کھلوانے میں سید عاصم منیر نے انتہائی خاموشی سے جو کلیدی کردار ادا کیا وہ تاحال منظر عام پر نہیں آیا، یہ بہت ہی سیکرٹ اور حیران کن آپریشن انتہائی خاموشی سے کم و بیش تین ماہ جاری رہا اور اس دوران فیلڈ مارشل کی ٹیم راولپنڈی سے رحیم یارخان تک ناقابل فراموش انداز میں متحرک رہی اور فرنٹ لائنز پر کمان کرنے والے اس کے آفیسرز اور جوانوں نے اپنے آپ کو خطرات میں ڈال کر ایسے ایسے ٹاسک مکمل کئے کہ جن کی ’’ہوشربا تفصیلات‘‘سن کر بے اختیار ابن صفی اور مظہر کلیم کی عمران سیریز کے ’’افسانوی کردار‘‘یاد آ جاتے ہیں، ان خفیہ ٹیکٹیکل اور اسٹریٹجک آپریشنوں میں سندھ پولیس کی ڈرون فورس اور پنجاب پولیس نے بھی اہم کردار اداکیا لیکن کلیدی اور بنیادی کردار فیلڈ مارشل کی ٹیم کا ہی رہا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ فیلڈ مارشل کی ٹیم نے پچھلے 30برسوں میں پہلی بار جو ’’رشماتی حکمت عملی‘‘اختیار کی اس کی وجہ سے تین عشروں سے سلگتا ہوا یہ مسئلہ مستقل طور پر حل ہوتا نظر آ رہا ہے۔
آج اس اس حوالے سے کچھ چونکا دینے والی تفصیلات پیش خدمت ہیں لیکن معاملے کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے چند لمحوں کے لئے 10سال پیچھے چلتے ہیں۔ اپریل 2016ء میں ضلع راجن پور اور رحیم یار خان کے کچے کے علاقے میں ایک انتہائی المناک واقعہ پیش آیا، بدنامِ زمانہ چھوٹو گینگ کے خلاف پنجاب پولیس کے ایک آپریشن کے دوران شدید جھڑپ ہوئی، جس میں راجن پور پولیس کے ایک ایس ایچ او سمیت 7پولیس اہلکار شہید ہو گئے اور 24کو یرغمال بنا لیا گیا، اس واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا، ان دنوں جنرل راحیل شریف پاک فوج کے سربراہ تھے، انہوں نے ریاست کی رٹ کو انتہائی حد تک جا کر چیلنج کرنے والے اس واقعے کا سخت نوٹس لیا، جس کے بعد پاک فوج نے راجن پور اور رحیم یارخان کے درمیان کچہ ایریا میں سرگرم اغوا برائے تاوان گینگز خاص طور پر چھوٹو گینگ کیخلاف ’’آپریشن ضرب آہن‘‘شروع کیا، جس میں رینجرز اور فوج کے افسر و جوان اور کمانڈوز ایک دوسرے کے شانہ بشانہ شریک ہوئے۔ انہوں نے اپنے چیف کے حکم پر چھوٹو گینگ کی کمین گاہوں کو گن شپ ہیلی کاپٹرز ، ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور کمانڈوز کے ذریعے گھیرے میں لے لیا، بچ نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہ آنے پر خوفزدہ ہو کر چھوٹو گینگ کے سرغنہ غلام رسول چھوٹو نے اپنے 15ساتھی ڈاکوئوں سمیت پاک فوج کے سامنے غیر مشروط ہتھیار ڈال دیئے اور تمام یرغمالی پولیس اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا، خود کو فوج کے حوالے کرنے والے اس اغوا برائے تاوان گینگ کے تمام کارندوں کو 2019ء اور 2024ء میں عدالتوں کی جانب سے سخت سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ جبکہ بچوں اور خواتین کو انہی دنوں رہا کر دیا گیا تھا۔1996ء سے 2026 ء تک کم و بیش 30برس تک اس علاقے میں اغوا برائے تاوان گینگز کیخلاف چھ سات بڑے آپریشن ہو چکے ہیں جن پر مجموعی طور پر اربوں روپے خرچ ہوئے، ان 3عشروں کے دوران مسلسل جھڑپوں اور حملوں میں سینکڑوں پولیس افسر و جوان شہید و زخمی ہوئے، ہزاروں افراد کو ہنی ٹریپ کا شکار بنا کر یا اغواء برائے تاوان کے ذریعے مجموعی طور پر اربوں روپے تاوان وصول کیا گیا، اب تو حالت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ اغوا برائے تاوان گینگز نے پولیس کانوائے اور پولیس چوکیوں پر حملے شروع کر رکھے تھے اور ملتان سکھر سی پیک موٹر وے پر حملے کر کے کوچز کے مسافروں کو لوٹنا اور ان کا اغوا برائے تاوان بھی شروع کر رکھا تھا، صورتحال اتنی مخدوش ہو چکی تھی کہ 3صوبوں کے اضلاع ڈیرہ بگٹی، راجن پور، رحیم یارخان، کشمور، جعفر آباد، شکار پور اور گھوٹکی کے درمیان سفر کرنا گویا ’’آبنائے ہرمز‘‘ پار کرنا بنا ہوا تھا۔ معاملات میں خرابی کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی تھی اور یہ خدشات پیدا ہو گئے تھے کہ بلوچستان میں سرگرم فنتہ الہندوستان کے دہشت گردوں اور ان اغوا برائے تاوان گینگز میں کوئی گٹھ جوڑ نہ ہو جائے جس سے صورتحال ناقابلِ تصور حد تک خراب ہو سکتی تھی۔
اس معاملے سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس پہلو کو مد نظر رکھ کر ایک اسٹریٹجی ترتیب دی اور کچھ ٹیکٹیکل اور اسٹریٹجک فیصلے کرتے ہوئے اپنے ترکش کا وہ تیر چلایا جس کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں تھا، فیلڈ مارشل کے ان گمنام مجاہدوں میں شامل جو ’’اللہ کا بندہ‘‘فیلڈ میں کمان کر رہا تھا اس نے اپنے چیف کے وژن کے مطابق سب سے پہلے دریائے سندھ کے کچہ ایریا میں موجود کریمنلز کی میپنگ کی اور کام شروع کردیا ، دوسرا مرحلہ کچہ کے قبائلیوں کا اعتماد حاصل کرنا تھا لیکن چونکہ ماضی میں پولیس کی طرف سے بھی بہت سی زیادتیاں اور وعدہ اخلافیاں کی گئی تھیں اس لئے یہ مرحلہ سب سے نازک اور مشکل تھا، لیکن اگر خلوص نیت سے جدوجہد کی جائے تو اللہ کی مدد شامل حال ہو جاتی ہے اور ایسا ہی معاملہ اس ’’اللہ کے بندے‘‘کے ساتھ ہوا، اور بیک وقت دو محاذوں پر کام کرنے کا کرشماتی نتیجہ نکلا، جو اغواء برائے تاوان گینگز ’’راہ راست‘‘پر آنے کے لئے تیار نہیں تھے ان کے خلاف سندھ پولیس کے ذریعے ڈرون طیاروں کے ذریعے آپریشن شروع کر دیا گیا اور جن قبائل کا اعتماد جیتا جا چکا تھا پنجاب پولیس کے ذریعے ان سے سرنڈر کروانے کا سلسلہ بھی ساتھ ہی شروع کر دیا گیا، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پرامن زندگی کی طرف لوٹنے کے اس موقع سے پورے کچہ ایریا نے فائدہ اٹھانے کا ذہن بنا لیا اور تین صوبوں کے سنگم کی ’’آبنائے ہرمز‘‘محفوظ ہو گئی، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی طرف سے کچہ ایریا میں تعمیر و ترقی کے لئے 23ارب روپے مختص کئے جا چکے ہیں، اسی طرح کا بڑا پیکج سندھ حکومت کی طرف سے بھی آ رہا ہے، اربوں روپے کی ڈویلپمنٹ کے ذریعے کچہ میں کئی عشروں کے مجرمانہ کلچر کو کس طرح بدلا جائے گا اور اس ایریا کو کرپٹ، سفاک اور لٹیرے پولیس افسروں سے کس طرح پاک رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں