Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

اداروں میں اداروں کی مداخلت

تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو مرے نام سیاہ میں تھی
مشہور عوامی پھبتی ہے کہ ’’ہمارا کتا ، کتا اور تمہارا کتا ٹومی ‘‘ پنجابی ضرب المثل ہے کہ ’’ساڈا ابا پیو تے تہاڈا ابا ڈیڈی‘‘… جبکہ سکھ کہتے ہیں کہ ساڈا باپو بوڑھا تے تہاڈا باپو ڈیڈی …اس سے ملتے جلتے محاورے اور ضرب الامثال کم و بیش دنیا کے ہر خطے اور ہر زبان میں پائے جاتے ہیں کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے اور اس سے فرار ممکن نہیں ، سرائیکی کا مشہور محاورہ ہے کہ ’’ڈوجھے دی کٹوری وچ بھاجی ڈھیر لگدی اے ‘‘ یعنی دوسرے کی پلیٹ میں سالن ہمیشہ زیادہ نظر آتا ہے اور پاکستان میں اداروں کی ایک دوسرے کی حدود میں ’’گھس بیٹھ‘‘ اور اختیارات کی پلیٹ میں سالن کی حقیقت بھی کچھ ایسی ہی ہے … انتظامیہ ، مقننہ اور سکیورٹی ادارے چیختے رہتے ہیں کہ عدلیہ نے ڈائریکشن کی آڑ میں ڈکٹیشن دے دے کر ان کے سارے اختیارات سلب کر لیے ہیں اور عدلیہ دہائی دے رہی ہے کہ سکیورٹی اداروں نے ٹینشن دے دے کر ان کے سارے اختیارات سلب کر لیئے ہیں ۔
ہر فرد اور ہر ادارے کی دوسروں کے معاملات میں مداخلت ان کے مزاج ، ان کی فطرت ، ان کی تربیت اور ان کے حالات کار کی عکاس ہوتی ہے ‘سرمایہ دار جب مداخلت کرتا ہے تو اپنی پیسے کی طاقت استعمال کرتا ہے اور پہلوان جب مداخلت کرتا ہے تو اپنی جسمانی طاقت سے مدمقابل پر چڑھ دوڑتا ہے‘ جس طرح طاقت کے زور پر کسی پر مسلط ہو کر اس سے اپنی مرضی کے مطابق کام کروانا غلط ہے اسی طرح پیسے کے زور پر کسی پر مسلط ہو کر اس سے اپنی مرضی کے مطابق کام کروانا بھی غلط ہے ‘ پولیس جسے بلیک میل کرنا چاہے اس کیخلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کر لیتی ہے یا گرفتاری ڈالے بغیر اٹھا کر نجی ٹارچر سیل میں پہنچا دیتی ہے اور میڈیا کسی کو بلیک میل کرنا چاہے تو اس کیخلاف جھوٹی خبریں چھاپتا اور نشر کرتا ہے ، اور سنسنی خیزی پھیلا کر اسکینڈلائز کرتا ہے اور پٹواری کا بلیک میل کرنے کا اپنا انداز ہے وہ قلم کی ایسی مار دیتا ہے کہ یار لوگ چیخ اٹھتے ہیں۔ کسی کی چیخیں نکلوانے کیلئے جسمانی تشدد ضروری نہیں یہ کام کوئی بھی فرد یا ادارہ ’’قانون کی مار‘‘ یا قلم کی مار دے کر بھی کر سکتا ہے اور پٹواری انہی میں سے ایک ہیں اور اتنے طاقتور ہیں کہ مثل مشہور ہو گئی ، عرش پر ذات باری اور فرش پر پٹواری ۔
آپ یہ اعتراض نہیں لگا سکتے کہ اپنے مدمقابل کو ڈرانے کیلئے سانپ پھنکارتا کیوں ہے اور کتا بھونکتا کیوں ہے ؟ یکساں سلوک اور ایک جیسے مواقع کا مطلب یہ نہیں کہ سانپ کتوں پر اعتراض کرنا شروع کر دیں کہ جب وہ ان کے مقابل آئیں تو بھونکنے کی بجائے انہیں پھنکارنا چاہیئے یا کتے سانپوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ کا درس دیتے ہوئے ’’ڈاگ فائٹ‘‘ کے دوران ان کے پھنکارنے پر پابندی لگا کر بھونکنے کی شرط رکھ دیں یا یہ مطالبہ کریں کہ سانپ جب کاٹیں تو اس دوران مہلک زہر ریلیز نہیں ہونا چاہیئے ۔
پولیٹیکل سائنس اور جیورس پروڈنس کا ایک بہت بڑا اصول یہ ہے کہ خلاف فطرت اور رسم و رواج سے متصادم قانون سازی سعی لاحاصل رہتی ہے کہ اس پر عملدرآمد ممکن نہیں رہتا ۔ اس لئے اداروں میں اداروں کی مداخلت کے حوالے سے لیول پلیئنگ فیلڈ لاگو کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے بالکل بند کر دیا جائے ، یہ لیول پلیئنگ فیلڈ تو ممکن ہے کہ مچھر اور شہد کی مکھی دونوں کو ڈنگ مارنے روک دیا جائے ، یہ ممکن نہیں کہ شہد کی مکھی سے کہا جائے کہ وہ جب ڈنگ مارے تو درد اور سوجن بالکل نہ ہو ، اور معاملہ مچھر کے ڈنگ جیسی ہلکی سی ٹیس اور کھجلی تک محدود رہے ۔
ہر مخلوق اپنی فطرت کے مطابق ایکٹ اور ری ایکٹ کرتی ہے ، میراثیوں کا مدمقابل کی ’’ٹرولنگ‘‘ کا اپنا کھردرا سا انداز ہے جبکہ خواجہ سرائوں کا اپنا انداز کہ جس میں کھردرا پن کم اور ملائمت زیادہ نظر آتی ہے ، پنجاب والے جب فریق مخالف پر برستے ہیں تو لب و لہجے اور الفاظ کا چنائو کچھ زیادہ ہی فری اسٹائل ہوتا ہے کہ جسے ہم موسلا دھار بارش بھی کہہ سکتے ہیں جبکہ لکھنئو والوں کا فریق مخالف پر برسنا ’’بوندا باندی‘‘سے آگے نہیں بڑھتا ۔
یہ دلچسپ تضادات انسانی فطرت ہیں اور ہمیں اعلیٰ عدلیہ کے چھ ججز کے بذریعہ خط کیے گئے حالیہ مطالبے پر یاد آ گئے ہیں کہ جس میں جج صاحبان نے زور دیا ہے کہ عدالتی معاملات میں دیگر اداروں کی مداخلت بند ہونی چاہیے ‘ حق اور انصاف کی بات یہ ہے کہ یہ مطالبہ انتہائی جائز اور خوش آئند ہے ، پاکستان کے آئین اور وفاقی پارلیمانی جمہوریت دونوں کی روح بھی یہی ہے کہ تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں کام کریں اور کوئی ایسی علانیہ یا غیر علانیہ ایکٹیویٹی نہ کریں کہ جو آئینی و قانونی طور پر دوسروں کی حدود میں مداخلت ہو ‘ ستم ظریفی یہ ہے کہ دوسرے اداروں کی حدود میں مداخلت کے مروجہ کلچر کے ’’عادی مجرموں‘‘ میں الا ماشااللہ ہماری پاکستانی عدلیہ خود بھی شامل ہے اور یہ مداخلت بیجا اتنی زیادہ اور مسلسل کی جاتی رہی ہے اسے یہ مداخلت اب اپنا آئینی و قانونی حق نظر آنے لگی ہے اور اس ایکسٹرا جوڈیشل ایکٹیویٹی کو گلیمرائز کر کے جوڈیشل ایکٹیو ازم کہا جانے لگا ہے، گویا
تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو مرے نام سیاہ میں تھی
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں