Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

یوکرین اور نواز شریف کا توپخانہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
ہم پاکستانیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے ہیروز کو مر جانے کے بعد سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں اور ان کی زندگی میں سینگوں پر بٹھائے رکھتے ہیں ۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن اس حقیقت میں کوئی دو رائے نہیں کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی طرح میاں محمد نواز شریف کی بھی پاکستان کیلئے طویل سیاسی جدوجہد ہے ، اگر محترمہ بینظیر بھٹو کے نام پر بینظیر کارڈ بن سکتا ہے تو نواز شریف کے نام یا تصویر کے ساتھ کسان کارڈ کیوں نہیں بن سکتا ، خدا جانے مرنے کے بعد قبروں کو ’’پوجنے‘‘ والی ہماری یہ سوچ کب ہمارا پیچھا چھوڑے گی ۔ دنیا بھر میں بڑی شخصیات کو ان کی زندگیوں میں خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے ، کہیں لائف اچیومنٹ ایوارڈ دے کر اور کہیں لائف ممبر شپ دے کر‘ لیکن ہمارے ہاں پہلے مرنا شرط بن چکا ہے ، استغفر اللہ ۔شخصیات کو خراج عقیدت اور خراج تحسین ان کے کارناموں پر پیش کیا جاتا ہے اور اس عمل کے دوران ان کی ناکامیوں کا دفتر نہیں کھولا جاتا ، کیونکہ تاریخ کی ہر بڑی شخصیت آخر کار انسان ہی تھی اور انسان انسان ہی ہوتا ہے فرشتہ نہیں ہو سکتا ۔ شاعر مشرق نے خوبیوں کو کمی و کوتاہی کے ساتھ سرآنکھوں پر رکھنے کی کیا خوبصورت عکاسی کی ہے کہ فرشتہ مجھ کو کہنے سے مری تحقیر ہوتی ہے میں مسجود ملائک ہوں مجھے انسان رہنے دوپاکستان کی تاریخ کے نازک ترین مرحلے پر جب چاغی میں ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کی پہلی مسلمہ ایٹمی قوت کا اعزاز حاصل کیا گیا تو اس کارنامے میں دوسرے بہت سے گمنام ہیروز کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور میاں محمد نواز شریف کا کردار انتہائی کلیدی نوعیت کا تھا ، اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ان دونوں سے ان کی زندگیوں میں کسی ہیرو والا سلوک ہم سے نہیں کیا جا سکا ۔
طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی سیاسی جماعتوں پر ایک منفی اثر یہ پڑتا ہے کہ مفاد پرست ان کی صفوں میں گراس روٹ لیول تک مستقل جگہ بنا لیتے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کا کلچر بھی ریل گاڑی والا ہوتا ہے کہ ایک اسٹیشن پر جو مسافر دروازہ کھولنے اور ہر مسافر کے آزادی سے اندر داخل ہونے کیلئے دلائل دے رہا ہوتا ہے آدھی رات گذرنے کے بعد اگلے کسی اسٹیشن پر دروازہ اندر سے بند کرنیوالوں سے مل کر باہر سے گھس بیٹھ روکنے کیلئے زور لگا رہا ہوتا ہے ۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کی طاقت کے انتہائی خوفناک حد تک بڑھ جانے والے موجودہ دور میں ن لیگ کا المیہ یہ ہے کہ ضلعی اور تحصیل کی سطح تک اس کی صفیں پریس کلبوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں جہاں اب ورکنگ جرنلسٹس کی جگہ سرکاری محکموں میں ٹھیکیداری کرنے والوں ، پراپرٹی کا بزنس کرنے والوں ، کیبل آپریٹرز کا نیٹ ورک چلانے والوں ، تھانوں میں باقاعدہ چٹی دلالی کرنے والوں ، ایرانی تیل کی سپلائی دینے والوں اور کچھ دیگر ناقابل بیان غیر قانونی دھندے کرنے والوں کا راج ہے ، ان لوگوں نے اپنے ’’کاروباروں‘‘کو تحفظ اور ترقی دینے کیلئے اخبارات اور نیوز چینلز کی نمائندگی بطور فرنچائز حاصل کر رکھی ہے ۔ چونکہ یہ لوگ نہ فطری طور پر صحافی ہیں نہ عملی طور پر ورکنگ جرنلسٹ ، اس لئے جب بھی جنگ چھڑتی تو یہ انکشاف ہوتا ہے کہ کئی عشروں تک ن لیگ سے میڈیا کے نام پر مفادات حاصل کرنے والے اس “توپخانے” کے پاس بڑی مشکل سے چند ہفتوں کا’’گولہ بارود‘‘تھا۔
جس طری آپ کسی پیدائشی بانجھ عورت سے اولاد پیدا نہیں کر سکتے ، اسی طرح کسی خواجہ سرا کو کشتے کھلا کھلا کر باپ نہیں بنا سکتے ۔ میڈیا وار کا گولہ بارود جن دماغوں میں تیار ہوتا ہے قدرت نے انہیں اسی مقصد کیلئے پیدا کیا ہوتا ہے ، پی ٹی آئی کے ’’توپخانے‘‘ کے انتہائی کارگر اور فعال ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے میڈیا بریگیڈ میں جینوئن جرنلسٹس کی شرح ن لیگ سے کئی گنا زیادہ ہے ۔
ن لیگ جب تک رائٹ پرسن فار دی رائٹ جاب کے اصول پر عملدرآمد کرتے ہوئے اپنے آرٹلری ڈویژن کی ملک گیر اور گراس روٹ لیول تک اوورہالنگ نہیں کرتی ، اس کی ملک گیر فیکٹریوں کی پروڈکشن تین چار گنا ہونا ممکن نہیں ، حالیہ روس یوکرین جنگ کا ایک بڑا سبق یہ ہے کہ اگر گولہ بارود تیار کرنے والی فیکٹریاں دشمن کے مقابلے کی پیدوار نہ دے رہی ہوں تو میدان جنگ میں برتری برقرار نہیں رکھی جا سکتی ، خدا کارگر توپخانے والی فوج کے ساتھ ہوتا ہے والا نپولین بونا پارٹ کا تاریخی مقولہ پھر یاد آ رہا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں