بغاوت پر اکسانے کے الزام میں سزا یافتہ دو سابق فوجی افسر یوٹیوبرز میجر ریٹائرڈ عادل فاروق راجہ اور کیپٹن ریٹائرڈ حیدر رضا مہدی نے حال ہی میں دہشت گردی کی ترغیب اور بغاوت پر اکسانے کی نئی مہم شروع کی ہے اس کے حوالے سے ایک نئے دہشت گردی و بغاوت کیس کے اندراج کے ساتھ ہی برطانیہ و کینیڈا کی حکومتوں کو ان کی تازہ ترین ویڈیوز کے ثبوتوں کے ساتھ قانونی کارروائی کیلئے رابطہ کیے جانے کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں ۔
عادل راجہ کیخلاف تو حال ہی میں ایک برطانوی عدالت نے ریٹائرڈ پاکستانی بریگیڈئیر راشد نصیر کی طرف سے دائر ہتک عزت کے کیس میں ہزاروں پائونڈ ہرجانے و کیس اخراجات کے حوالے سے فیصلے دیئے ہیں یہ قانونی معاملات تو چلتے رہیں گے لیکن اس سے بھی سنگین معاملہ وہ گفتگو ہے جو حیدر مہدی اور عادل راجہ نے اپنے 16 اپریل 2024 ء کے وی لاگ میں کی ہے ، اس میں انہوں نے پی ٹی آئی کارکنوں کو اپنی پارٹی قیادت سے مکمل طور پر مایوس ہو کر فوج ، عدلیہ اور پولیس اور انٹیلی جنس اداروں میں مبینہ طور پر ان سے تعاون پر تیار افسروں و اہلکاروں سے رابطے کی ترغیب دی اور کہا کہ پی ٹی آئی قیادت سے آپ رتی برابر امید نہ رکھیں اور خود گلی محلے کی سطح پر چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بنا کر حرکت میں آئیں ، اسی طرح کے ایک اور خوفناک اشارے میں انہوں نے فوج سمیت مختلف ریاستی اداروں کے افسران کے گھریلو ملازمین اور گارڈز کو ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں سسٹم کا تختہ الٹنے کے دوران ان افسران کے گھر جلیں گے اور ان کے اپنے ملازمین ان کے ، ان کی بیویوں کے ، ان کے بیٹوں کے اور ان کی بیٹیوں کے گلے کاٹیں گے ، برطانیہ اور کینیڈا سمیت دنیا کے کسی ملک کا قانون علانیہ اس طریقے سے دہشت گردی اور بغاوت پر اکسانے کی اجازت نہیں دے سکتا ، اس لئے یہ کہا جا رہا ہے کہ اب جبکہ حکومت پاکستان سنجیدگی سے اس معاملے کو دیکھنے کا فیصلہ کر چکی ہے ملک میں 9 مئی سے بھی زیادہ خونریز جلائو گھیرائو اور خانہ جنگی کروانے کی نئی سازش کو پیشگی اقدامات کے تحت روکا جا سکے گا ۔
اپنے اسی 16 اپریل کے وی لاگ میں عادل فاروق راجہ نے اپنے خلاف دائر ہتک عزت کیس میں قانونی معاونت و رہنمائی کیلئے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین سے رابطہ کرنے کا اشارہ دیا ، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ یوٹیوبرز انٹرنیشنل لیول پر کن شخصیات اور کن قوتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں، اس لئے پی ٹی آئی قیادت کو چاہیئے کہ وہ مزید واضح اور دوٹوک پیغام کے ذریعے اپنے کارکنوں کو سختی سے روکیں کہ وہ ایسے کسی میڈیا پرسن کے خونی پرچار پر توجہ نہ دیں کہ جو انہیں اپنی پارٹی قیادت سے مایوس کر کے غیر قانونی ، غیر آئینی اور غیر جمہوری راستے پر چلنے کی ترغیب دے رہے ہیں ۔
یاد رہے کہ پچھلے سال فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں سابق افسران کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کیا گیا جس کے تحت نہ صرف انہیں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں سزائیں سنائی گئیں بلکہ ان کے رینک بھی ضبط کر لیے گئے ۔ میجر ریٹائرڈ عادل فاروق راجہ کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی جبکہ کیپٹن ریٹائرڈ حیدر رضا مہدی کو 12 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ۔آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں وضاحت کی تھی کہ دونوں سابق افسران کو پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) کے تحت فوجی اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے، یوٹیوبر اور وی لاگر میجر ریٹائرڈ عادل فاروق راجہ کو تحریک انصاف کا حامی سمجھا جاتا تھا۔ وہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے 10 روز بعد پاکستان سے برطانیہ چلے گئے تھے۔ لیکن پھر بعد ازاں پی ٹی آئی قیادت کی طرف سے ان سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا گیا ۔
میجر(ر)عادل فاروق راجہ اور کیپٹن(ر) حیدر رضا مہدی کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت حاضر سروس اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے پر فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تحت سزا سنائی گئی۔ مقدمے کے فیصلے میں سزا میں فرائض کی انجام دہی، جاسوسی کے بارے میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 کی دفعات کی خلاف ورزی، ریاست کے تحفظ اور مفاد کے خلاف منفی سرگرمیوں کی دفعات بھی شامل تھیں ، دونوں ریٹائرڈ افسران کے خلاف سات اور نو اکتوبر 2023 ء کو عدالتی کارروائی کے بعد سزا سنائی گئی جبکہ سابق افسران کے رینکس بھی 21 نومبر 2023 ء سے ضبط کر لیے گئے۔ یاد رہے کہ ان دونوں مجرمان کے خلاف اسلام آباد کے تھانے میں لوگوں کو فوج اور حکومت کے خلاف اکسانے کے مقدمات بھی درج ہیں۔ پولیس نے انھیں اشتہاری قرار دینے سے متعلق ضابطے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
پاکستان آرمی ایکٹ 1952میں ان جرائم کا حوالہ دیا گیا ہے جن کا ٹرائل اس ایکٹ کے تحت اس صورت میں ہوتا ہے جب ان جرائم کا ارتکاب فوجی اہلکار کریں۔ تاہم اسی ایکٹ کے اطلاق کے حوالے سے کچھ شقوں میں یہ قانون بعض صورتوں میں عام شہریوں پر بھی نافذ ہوتا ہے۔فوجی ایکٹ کے تحت کارروائی کی صورت میں ملزم کے خلاف ہونے والی عدالتی کارروائی کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کہا جاتا ہے اور یہ فوجی عدالت جی ایچ کیو ایجوٹنٹ جنرل(جیگ) برانچ کے زیر نگرانی کام کرتی ہے۔اس عدالت کا صدر ایک حاضر سروس (عموماً لیفٹیننٹ کرنل رینک) فوجی افسر ہوتا ہے۔ استغاثہ کے وکیل بھی فوجی افسر ہوتے ہیں۔ یہاں ملزمان کو وکیل رکھنے کا حق دیا جاتا ہے۔اگر کوئی ملزم پرائیویٹ وکیل رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو فوجی افسر ان کی وکالت کرتے ہیں۔ انھیں فرینڈ آف دی ایکیوزڈ کہا جاتا ہے۔ یہاں ہونے والی کارروائی کے بعد ملزم اپیل کا حق رکھتا ہے۔