(گذشتہ سے پیوستہ)
ہو صداقت کیلئے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے
پھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے
شاعر مشرق نے یہ اشعار کس پیرائے میں اور کس مقصد کیلئے کہے تھے اس پر غور کرنے کی بجائے لگ یہ رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عملی طور پر سب زمین و آسمان پھونک ڈالنے پر تل گیا ہے کہ جب سب کچھ جل کر راکھ ہو جائے گا تو وہ اس خاکستر سے ایک نیا جہان پیدا کرنے کی کوشش کرے گا، یہ طرزِ عمل بلاشبہ 20 ویں صدی کا نیرو بننے کے مترادف ہے کہ ڈی چوک جل رہا تھا اور چند لاشیں حاصل کرنے کے اپنے خفیہ منصوبے کی کامیابی پر اڈیالہ جیل میں بیٹھا بانی پی ٹی آئی بانسری بجا رہا تھا۔
24 نومبر کی حقیقت اور افسانہ کے عنوان سے اپنے تحقیقی مقالے میں در اکرم مزید لکھتی ہیں کہ پی ٹی آئی کے لابیسٹوں کا مضبوط نیٹ ورک اور بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ ان کا خفیہ گٹھ جوڑ کوئی راز نہیں رہا۔ اس وقت جب کہ پاکستان کے مین اسٹریم سیاست دان سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے پیغامات پھیلانے کے اس نئے فاشسٹ طور طریقوں کو نظر انداز کرتے رہے، پی ٹی آئی کے نوجوان کارکنوں نے خاموشی سے اپنا کام جاری رکھا اور ایک ایسا نیا سوشل میڈیا ڈھانچہ تیار کر لیا جو رفتہ رفتہ اتنا مثر بن کر ابھرا ہے کہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے میں انتہائی ماہر ہو چکا ہے۔
دنیا اس وقت ایک ایسے طلسم ہوشربا میں داخل ہو گئی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے جاری کیا گیا پیغام روشنی کی رفتار سے گونجتا ہے، ایک جھوٹ انتہائی مختصر وقت میں دنیا کے آدھے حصے میں پھیل کر بازگشت کی صورت میں واپس بھی آ سکتا ہے، جبکہ سچ ابھی پہلا قدم اٹھانے کی تیاری کیلئے اپنے جوتے کے تسمے باندھ رہا ہوتا ہے۔
پاپولسٹ لیڈر اپنی مقبولیت میں معمولی سی کمی پر بھی بھڑک اٹھتے ہیں اور اس مقبولیت کو بچانے کیلئے ملک میں ناقابلِ تصور آفات لا سکتے ہیں۔ عمران خان نے کئی بار یہ کہا ہے کہ جمہوریت کی بنیاد تب تک کچھ نہیں جب تک کہ وہ خود اس میں شامل نہ ہوں تاکہ کشتی کو سنبھال سکیں۔ یہی بات ان کے حامیوں کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے، جنہوں نے یہ تک کہا کہ خان کے بغیر جمہوریت یا ریاست کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ اس کلٹ کا علانیہ نعرہ ہے کہ خان ہی سب کچھ ہے۔ ہم نے اسی ذہنیت کا ایک منظر بحر اوقیانوس کے پار کیپیٹل ہل میں دیکھا، جہاں پچھلے امریکی صدارتی الیکشن کے نتائج سے ڈونلڈ ٹرمپ جو مسیحا سمجھنے والے بے حد غصے میں آ گئے اور جمہوریت کو ہی ختم کرنے کے لیے کیپیٹل ہل پر چڑھ دوڑے۔ کیونکہ وہاں بھی ایک عقیدہ بن چکا تھا، اور اس کی تکمیل ہی سب کچھ تھی۔ عالمی حکمرانی اور سیاسی نظاموں کی ماہر ڈاکٹر ایلگزینڈرا کالڈ ویل نے حال ہی میں اپنی ایک تحقیق شائع کی ہے، جس میں انہوں نے 6 جنوری کی کیپیٹل ہل کی واردات اور پی ٹی آئی کے اسلام آباد احتجاج کے درمیان مماثلتوں کا دلچسپ نقشہ کھینچا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ نومبر 2024 کا احتجاج اور اس دوران پیش آنے والے واقعات اہل پاکستان کیلئے یہ سخت یاد دہانی ہیں کہ کس طرح ایک ملک میں سیاسی افراتفری دوسرے ملکوں سے اقتصادی و سفارتی تعلقات اور حکومتی ڈھانچوں تک کو متاثر کر سکتی ہے۔ سوشل میڈیا اب معلومات کی غلط بیانی اور تقسیم کا ایک انتہائی خطرناک اوزار بن چکا ہے۔ پی ٹی آئی نے اس مہلک اوزار کو باقاعدہ ایک ہتھیار کی شکل دیدی ہے اور نہ صرف امریکی و برطانوی سیاست دانوں بلکہ عالمی مالیاتی اداروں تک کو اپنے گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر کرنے میں کئی بار جزوی کامیابیاں بھی حاصل کر لیں، یہ صورتحال خبردار کر رہی ہے کہ اگر حکومت اور ریاست نے اس کلٹ کی ڈیجیٹل دہشت گردی کو جڑ سے نہ اکھاڑا تو یہ فاشسٹ گروہ ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ وہ لوگ جو دن رات پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور جمہوریت کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا تذکرہ کرتے ہیں، وہ خود اس متوقع سانحے کو کیوں نہیں دیکھ پا رہے؟ یہ ایک بڑا سلگتا سوال بنا ہوا ہے۔ اسی طرح کا ایک انتباہ حال ہی میں اسٹیٹ بینک نے بھی دیا یے، جس میں سیاسی بدامنی اور غیر یقینی کی موجودگی کے ملک کی حالیہ اقتصادی بحالی پر انتہائی منفی اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ مرکزی بینک کا مزید کہنا ہیکہ پی ٹی آئی کا سابق دور حکومت ملکی معیشت کو جس دلدل میں دھنسا گیا وہ معاملہ ہی کم تشویشناک نہیں تھا اوپر سے خیبرپختونخوا کی حکومت نے اپنے منصب کی گڈ گورننس کے حوالے سے ذمے داریاں نبھانے کی بجائے بار بار وفاق پر چڑھائی کرکے پورے ملک کو معاشی دہشت گردی کا شکار کر دیا ہے۔
مسلم لیگ ن کی قیادت اور حکومت خاص طور پر وزیراعظم، وزیر داخلہ اور وزیر اطلاعات نے فرنٹ فٹ پر کھیلنے کی کوشش میں جو حکمت عملی اختیار کی اسے غلط یا درست قرار دیا جا سکتا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کی وجہ سے مظاہرین کو بیلاروس کے ایک اعلی سطحی وفد کے متوقع دورے کی روشنی میں مظاہرہ ختم کرنے پر مجبور کرنے کا ہدف کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیا گیا۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ان آئے روز بھڑک اٹھنے والیاحتجاجوں کی وجہ سے ملک کے سفارتی معاملات اور تعلقات میں خلل آیا، جس سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ چین سے پاکستان آنے والے وفود نے اپنے دورے کم کر دیئے ہیں، جس سے سی پیک میں پاکستان کی شراکت داری پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ روزانہ کے اقتصادی نقصانات نے 190 ارب روپے تک جا پہنچے جو مجموعی طور پر 3 کھرب روپے کے ناقابل تلافی معاشی نقصانات کا پہاڑ بن گئے ، لیکن ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ملکی معیشت کی راکھ کا یہ پہاڑ بھی بانی پی ٹی آئی کا کلیجہ ٹھنڈا نہیں کر سکا، اس لیئے اڈیالہ جیل کے نیرو کی طرف سے بانسری بجانے اور اپنا وہی پرانا اور گھسا پٹا راگ الاپنے کا سلسلہ جاری ہے۔
تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے’’دشمن جاں‘‘
کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہو گا