پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر بھارتی جبر و استبداد کے شکار مقبوضہ جموں و کشمیر سے امن و امان کے حوالے سے جان و مال کے تحفظ اور آزادی کی نعمتوں سے مالا مال ہے ہی ترقی و خوشحالی، مہنگائی اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے بھی کہیں آگے یے۔ یہاں تک کہ بہت سے شعبوں میں آزاد کشمیر کے عوام خود بھارت اور پاکستان سے بھی بہتر معیار زندگی سے فیض یاب ہو رہے ہے، زیر نظر “فیکٹ چیک” میں ہم آزاد اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو حاصل مختلف سہولتوں کا تقابلی جائزہ پیش کر رہے ہیں، یہ فیکٹ چیک یعنی حقیقی زمینی حقائق ملک دشمن قوتوں کے من گھڑت پروپیگنڈے کا پردہ چاک کر رہے ہیں جو یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات زندگی اور دیگر سہولتوں کا معیار آزاد جموں و کشمیر سے نسبتاً بہتر ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ ساتھ خود ہندوستانی عوام کی بڑی اکثریت بھی اس بات سے ناواقف ہیں کہ آزاد جموں و کشمیر کتنا ترقی یافتہ، محفوظ اور خوبصورت خطہ ہے۔ بہتر معیار زندگی کو صحت، تعلیم، رابطے، روزگار کے مواقع اور مہنگائی کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے، تمام پہلوؤں سے مرحلہ وار جائزہ لیتے ہیں1۔ ڈیموگرافی : آزاد جموں و کشمیر میں بہترین رابطہ سڑکوں اور اعلیٰ درجے کی شاہراہوں کا جال بچھا ہوا ہے، یہاں کے عوام شہری سہولتوں کی فراہمی (ڈیموگرافی) میں نہ صرف مقبوضہ جموں و کشمیر بلکہ پاکستان اور بھارت سے بھی کہیں آگے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر میں یہ سہولیات 0.66 کلومیٹر فی 2 کلومیٹر ہیں، جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 0.52 کلومیٹر فی 2 کلومیٹر اور پاکستان میں 0.32 کلومیٹر فی 2 کلومیٹر ہیں۔2۔ تعلیم : آزاد جموں و کشمیر میں بہترین شرح خواندگی 76.86 فیصد ہے، جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں 67 فیصد ہے اور پاکستان میں 62.3 فیصد ہے، پاکستانی پنجاب کی 22 یونیورسٹیوں میں 125 اور میڈیکل کالجوں میں 36 مخصوص نشستیں ہیں۔ پنجاب حکومت کی طرف سے 75 کروڑ روپے کشمیر اینڈوومنٹ فنڈ رکھا گیا ہے۔3۔ بجلی : پاکستان میں بجلی کی کل پیداوار 46035 میگاواٹ ہے، جس میں سے ہائیڈل پاور 10635 میگاواٹ ہے، خیبرپختونخوا میں 54.5 فیصد ہائیڈل پاور جنریشن ہے۔ آزاد جموں و کشمیر ہائیڈل پاور کا 28.5 فیصد پیدا کرتا ہے، جبکہ قومی گرڈ میں آزاد جموں و کشمیر کا کل حصہ 6.44 فیصد ہے۔ آئی پی پیز/ تھرمل پاور 28111 میگاواٹ ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں بجلی کی قیمتیں پہلے ہی سب سے کم یعنی3.95 روپے فی یونٹ تھیں، یہ ٹیرف میں مجوزہ کمی سے پہلے کے ریٹس ہیں، اس وقت موجودہ ٹیرف گھریلو استعمال کیلئے 3 روپے/ کلو واٹ (100 یونٹ تک) اور تجارتی استعمال کے لیے 10 روپے/ کلو واٹ (300 یونٹ تک) ہے۔ جو پاکستان کے باقی تمام علاقوں سے کہیں زیادہ کم ہے۔4۔ گندم : آزاد جموں و کشمیر میں گندم پورے ملک کے مقابلے میں سب سے سستی یعنی 2000 روپے فی 40 کلوگرام ہے، پنجاب میں گندم کا ریٹ 3900 روپے فی 40 کلوگرام، سندھ میں 4000 روپے، بلوچستان میں 4300 روپے، خیبرپختونخوا میں 3950 روپے فی 40 کلوگرام اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں روپے 4680 روپے فی 40 ہے، آزاد جموں و کشمیر میں میں گندم کی کل پیداوار 113000 ٹن سالانہ ہے جبکہ سالانہ کھپت 520000 ٹن سالانہ ہے۔5۔ روزگار: آزاد جموں و کشمیر کی 30 فیصد آبادی سرکاری ملازمت کی سہولت سے فیض یاب ہو رہی ہے، جس میں سے 25 فیصد آزاد جموں و کشمیر حکومت کے ملازم ہیں، 3 فیصد پاک فوج میں ملازم ہیں، جبکہ 2 فیصد فیڈرل کوٹہ کے تحت سرکاری ملازم ہیں۔ سرکاری ملازمین کی سب سے زیادہ شرح والی ٹاپ 15 ریاستوں میں آزاد جموں و کشمیر کا نمبر چھٹا ہے، پاکستان میں سرکاری ملازمت سے فیض یاب آبادی کی شرح 7.3 فیصد ہے، جبکہ بھارت میں یہ شرح 3.8 فیصد ہے۔ آزاد کشمیر میں سابق فوجیوں کی کل تعداد ایک لاکھ 5 ہزار 2 سو ہے، جبکہ 40 ہزار ایک سو 72 حاضر سروس فوجی ہیں،6۔ غربت انڈیکس : آزاد جموں و کشمیر میں غربت کی شرح 23 فیصد، پاکستان میں 43 فیصد اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں 49 فیصد ہے۔7۔ ٹیلی کام سروسز : آزاد جموں و کشمیر میں 1411 ٹیلی کام ٹاورز ہیں، ٹیلی کام آپریٹرز منافع بخش کاروباری ماڈل کے تحت کام کرتے ہیں، مقامی آبادی کے مراکز کو اس حوالے سے بطور ملازم ترجیح دی جاتی ہے۔ SCOM ایک سرکاری ادارہ ہونے کی وجہ سے گھاٹے کے باوجود سروسز فراہم کرتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں مختلف کمپنیوں کے ٹاورز کی تعداد کچھ یوں ہے۔ ٹیلی نار: 425، زونگ: 310، جاز: 260، ایس سی او ایم: 216، یوفون: 2008۔ صحت کی دیکھ بھال : آزاد جموں و کشمیر میں ڈاکٹر/مریض کا تناسب خطے میں سب سے بہترین یعنی (1:2315) ہے، کیونکہ آزاد جموں و کشمیر میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو گراس روٹ لیول تک فراہم کرنے میں پاک فوج خصوصی خدمات انجام دے رہی ہے۔ پچھلے 5 برسوں میں 86 لاکھ مریضوں کا فوجی ہسپتالوں اور طبی مراکز میں علاج کیا گیا۔ آزاد جموں و کشمیر کے رہائشیوں کو فوجی ہسپتالوں اور مراکز صحت میں مفت علاج کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں اسٹاف کی کمی کی وجہ یہ ہے کہ کشمیری گریجویٹس اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں اور واپس آزاد کشمیر نہیں جاتے۔9۔ عالمی توجہ : پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر نے پچھلے ایک برس کے دوران 13 سے زیادہ مرتبہ کشمیر اور غزہ کے معاملے کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔