(گزشتہ سے پیوستہ)
امریکہ کی بھارت نوازی کی ’’سلور جوبلی‘‘ کی تاریخ حیران کن ہے، 1999 ء میں بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر صرف 35ارب ڈالر تھے جو 2025 ء تک بڑھ کر 700 ارب ڈالر ہو چکے ہیں۔ اسی عرصے میں بھارت کی معیشت 459ارب ڈالر سے بڑھ کر 4.13 ٹریلین ڈالر یعنی 4013 بلین ڈالر تک جا پہنچی یے اور وہ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن چکا ہے حالانکہ 25سال پہلے وہ دنیا کی 17ویں بڑی معیشت تھا۔
چند برس قبل تک دہلی واشنگٹن اسٹریٹجک تعلقات اپنے جوبن پر تھے، امریکا کے ساتھ مشترکہ دفاعی و خارجہ مذاکرات (2+2 ڈائیلاگ)باقاعدگی سے منعقد ہوتے رہے پھر وہ سب کچھ ماضی کا قصہ محسوس ہونے لگا۔ بھارت کی خارجہ و دفاعی پالیسی کی یہ قلابازیاں کسی سرکس میں دکھائے جانے والے کرتب سے کم نہیں، نئی دہلی نے 50برس تک سوویت یونین سے دفاعی و معاشی فائدے لیے، پھر پچھلے 25 برس امریکا و مغرب سے خصوصی تجارتی سہولتیں حاصل کیں، حالیہ تین چار برس وہ دوبارہ واپس پرانے ٹریک پر چڑھتے ہوئے روس و چین کی طرف پلٹ گیا اور اب ایک بار پھر امریکی ’’منگل سوتر‘‘پہن لیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی یہ ’’کرتب پالیسی‘‘بھارت کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگی یا نقصان دہ، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اپنے مدارس میں عسکری سوچ (طالبانائزیشن)کو فروغ دے کر بھارت بھی اسی آگ سے کھیل رہا ہے جس کا خمیازہ آج پاکستان اور افغانستان بھگت رہے ہیں۔ بھارت میں مسلمان آبادی 20 سے 25کروڑ کے درمیان ہے، اور اگر عسکری سوچ ان میں پھیل گئی تو بھارت کی کوہ ہمالیہ جیسی یہ ’’اقلیت‘‘ایک بڑا آتش فشاں بن جائے گی،جو بھارت کے وجود، سلامتی اور وحدت کو بھی بھسم کر کے رکھ دے گی۔بھارتی انٹیلی جنس ذرائع میں ایک اور کھچڑی یہ بھی پک رہی ہے کہ افغان عبوری حکومت کے وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی کو بھارت کے ڈیڑھ صدی سے بھی پرانے مدرسے کا دورہ کروا کر مودی سرکار نے ہندوستان کے اندر موجود عسکریت پسند طالبانائزیشن کے جس ’’عظیم پوٹینشل‘‘کو شو کیا ہے امریکہ کی طرف سے بھارت پر اچانک مہربان ہوجانے کے پس پردہ یہی پوٹینشل ہے، بھارتی انٹیلی جنس ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ ماضی قریب میں چین کیخلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ بننے کی بھارتی کوشش اس لیئے کامیاب نہیں ہو سکی تھی کیونکہ تبت میں بدھ مت تحریک اور دلائی لامہ فیکٹر کو چین نیوٹرلائز کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے، بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور اس کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دووال اپنی پوری کوشش کے باوجود تبت کے بدھ بھکشوئوں کو عسکریت پسند فورس میں تبدیل نہیں کر سکے، لیکن اب بھارت، بنگلہ دیش‘ پاکستان اور افغانستان کے 70کروڑ مسلمانوں کے سب سے بڑے مدارس نیٹ ورک کے نظریاتی ہیڈ کوارٹر کو برصغیر جنوبی ایشیاء سے وسط ایشیاء تک عسکریت پسند اسلام کو پھیلانے کی پلاننگ وہ ’’پوشیدہ طاقت‘‘ہے کہ جس کے ذریعے امریکہ اور بھارت مل کر چین کو شدید عدم استحکام کا شکار کر سکتے ہیں۔ایک انتہائی اہم پہلو دارلعلوم دیو بند کی حالیہ نصف صدی کی تاریخ میں یہ ہے کہ گزشتہ 47برس سے یہ مدرسہ عسکری فکر اور شدت پسندی والی سرگرمیوں سے عملاً بالکل الگ تھلگ رہا، لیکن اب نریندر مودی اور اجیت دووال کے نئے منصوبے نے اس تاریخی دینی مرکز کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ بھارت کی آزادی کے بعد 78برس میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی عسکری مذہبی رہنما نے دارالعلوم دیوبند کا دورہ کیا ہے جو پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش اور خود بھارت میں بھی حیرت و تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔پچاس برس سے بھارتی مدارس اس سوچ سے دور تھے، مگر اب اپنے مدارس میں طالبانائزیشن کے فروغ کی پہلی اینٹ خود مودی سرکار نے رکھ دی ہے، اس نئی سوچ کے ذریعے بھارت نے افغانستان کی طالبان عبوری حکومت کو ’’رام‘‘ کرنے اور امریکہ کو بلیک میل کرنے کا وقتی فائدہ (ٹیکٹیکل گین)ضرور حاصل کر لیا ہے لیکن اس پرخطر مہم جوئی کے ذریعے اس نے اپنی قومی سلامتی کو ایک طویل المیعاد خطرے (اسٹریٹجک بلنڈر) سے دو چار کر دیا ہے۔یہ نیا فکری تعلق وقتی طور پر کچھ فائدے ضرور دے گا، مگر طویل المدت طور پر یہ ایک تباہ کن غلطی ہی ثابت ہو گی۔اس لیئے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ درحقیقت، مودی حکومت نے وہ جن آزاد کر دیا ہے جو جلد ہی خود بھارت کی وحدت اور سالمیت کے درپے ہو جائے گا۔
اجیت دووال کی یہ ’’گریٹ گیم‘‘ کہ جس کے تحت دارالعلوم دیوبند میں عسکریت کو فروغ دیا جا رہا ہے یقینا پاکستان و افغانستان میں بھی شدت پسندی کو مزید ہوا دے گی ، اور پھر آخر کار پورا خطہ شدت پسندی کی اس نئی لہر کی لپیٹ میں آ سکتا ہے ،لیکن بھارت سرکار کی یہ نئی مہم جوئی داعش خراسان سے ترکستان اسلامک موومنٹ تک، مختلف چھوٹے بڑے شدت پسند گروہوں کے لئے کسی ’’سرپرائز گفٹ‘‘سے کم نہیں، جو عرصے سے شدت پسندی کی ’’نئی منڈیوں‘‘کی تلاش میں ہیں۔مودی سرکار کے بارے میں ایک تاثر یہ تھا کہ اس میں قیادت 70 برس سے زائد عمر کے جہاندیدہ سیاست دانوں کے پاس ہے لیکن یہ ’’جہاندیدگی‘‘ نئی دہلی کو اس خوفناک مہم جوئی سے باز نہیں رکھ سکی اور کہا جا رہا ہے کہ بھارت نے شدت پسندی کے شعلوں میں پچھلی نصف صدی سے جلنے والے پاکستان اور افغانستان کے تلخ تجربات سے سبق سیکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی اور خود آگ میں چھلانگ لگا دی ہے۔