Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

آپریشن سندور 2 اور جیش محمد

مشہور زمانہ ممبئی حملوں سے لے کر نئی دہلی کے حالیہ لال قلعہ کار بم دھماکے تک، بھارت کو جب بھی پاکستان کو بدنام کرنے کی ہنگامی ضرورت پیش آتی ہے تو اس سلسلے میں ڈیزائن کیئے گئے فالس فلیگ آپریشن میں جیش محمد کا نام ضرور شامل ہوتا ہے؟ کیا یہ محض اتفاق ہے یا اس کے پیچھے کوئی ایسا سچ ہے کہ جسے چھپایا جا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جیش محمد کو ملوث قرار دے کر اگر کوئی بیانیہ بنایا جائے تو قرین انصاف یہ ہے کہ اس میں افغانستان کی طالبان حکومت کا نام پہلے آنا چاہیئے کہ جیش محمد کو ماضی میں بھارت اس کی علانیہ ’’فرنچائز‘‘ قرار دیتار ہا ہے ، لیکن بھارت اپنے کسی من گھڑت پروپیگنڈے میں افغان طالبان کا نام نہیں لیتا کہ جن کے ساتھ ان کا خفیہ گٹھ جوڑ افغان عبوری حکومت کے وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی کے حالیہ 6 روزہ دورے کی مشکوک سرگرمیوں سے اظہر من الشمس ہو چکا ہے۔
نئی دہلی میں لال قلعہ کے سامنے کار بم دھماکہ والے فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے بھارت کاٹھ کی ہنڈیا” میں نیا سفارتی بھوجن تیار کرنا چاہتا تھا لیکن جس طرح مثل مشہور ہے کہ کاٹھ کی ہنڈیا بار بار نہیں چڑھتی، یہی حشر اس نئے فالس فلیگ بھوجن کا ہوا ہے اور جو بھی ترکاری و مرچ مصالحہ ڈالا گیا تھا وہ کاٹھ کی ہنڈیا سمیت منطق کے چولہے کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔
ایک گھوسٹ پوسٹر کو بنیاد بنا کر اور دبا ڈال کر گرفتار کیئے گئے ڈاکٹرز کے مبینہ بیانات پر دہشت گردی کی ایک بہت بڑی سازش کی کہانی گھڑی گئی ہے جو کھلے تضادات کا مجموعہ ہے۔ بھارتی انٹیلی جنس اداروں نے یہ کہانی غالباً ممبئی فلم انڈسٹری کے کسی سستے رائٹر سے لکھوائی ہے اس لیئے اس میں لاجک اور تسلسل کا فقدان ہے کیونکہ اگر یہ گروہ 8 نومبر سے ان کے ریڈار پر آ چکا تھا تو پھر لال قلعہ کار بم دھماکہ کرنے میں کیسے کامیاب ہوگیا؟
من گھڑت کہانی کے مطابق سری نگر کے نوگام بازار میں ایک وارننگ پوسٹر نمودار ہوتا ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج سے سراغ اتر پردیش کے علاقے سہارنپور میں تعینات کلگام مقبوضہ کشمیر کے ڈاکٹر عدیل تک پہنچتا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر پولیس انہیں گرفتار کرتی ہے اور اس دوران دو تین دوسرے ڈاکٹروں کو بھی دھر لیتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ گھوسٹ پوسٹر ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آیا جس کے گرد یہ ساری کہانی گھمائی گئی ہے، یہ ناقابلِ یقین لگتا ہے کہ ایک اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹر صرف ایک پوسٹر چسپاں کرنے کے لیے خود سری نگر جائے اور پھر سی سی ٹی وی کیمروں کے سامنے دیوار پر پوسٹر چسپاں کرنے کی بونگی بھی مارے۔ اس کی مقبوضہ کشمیر کی سابقہ رہائش گاہ سے بھی رائفل برآمد کی گئی جہاں سے وہ ایک سال پہلے شفٹ ہو چکا تھا۔
برآمد شدہ بارودی مواد کی مجموعی مقدار 2,900 کلو گرام بتائی جا رہی ہے کہ جو تقریباً ایک چھوٹے پک اپ ٹرک کے لوڈ کے برابر ہے پانچ چھ ڈاکٹروں کے ایک چھوٹے سے نیٹ ورک نے اتنی بڑی مقدار میں بارود تیار کیسے کیا اور اتنا عرصہ اسے محفوظ کیسے رکھا؟ اس کی بھی کوئی ٹیکنیکل تفصیلات نہیں دی جا رہیں۔
سستے فلمی رائٹر نے لکھن سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈاکٹر شاہین سعید کو بھی اس سازش میں شامل کر دیا ہے تاکہ ہیروئن کی کمی محسوس نہ ہو، ڈاکٹر شاہین کو مبینہ گروہ کے ایک اور رکن ڈاکٹر مزمل غنی کی گرل فرینڈ قرار دیا گیا ہے اور پورے فلمی انداز میں تفتیش کیلئے طیارے کے ذریعے سری نگر لایا گیا، مزید سنسنی بڑھانے کیلئے اس کی کار سے AK-47 رائفل بھی برآمد کی گئی تاکہ وہ پوری ’’پھولن دیوی‘‘ لگے۔
ڈاکٹر مزمل غنی کا تعلق پلوامہ مقبوضہ کشمیر سے ہے وہ بھی فرید آباد ہریانہ کی الفلاح یونی ورسٹی میں میڈیکل اسٹوڈنٹس کو پڑھاتا تھا اور ہسپتال میں بھی کام کرتا تھا، اسی نیٹ ورک سے مبینہ تعلق رکھنے والے حیدرآباد دکن کے ڈاکٹر احمد محی الدین کو گجرات پولیس نے 8 نومبر کو گرفتار کیا، اس نے چین سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی تھی، کہانی میں یہ لنک اس لیئے ڈالا گیا تاکہ بوقت ضرورت اس ایلیٹ ٹیرر نیٹ ورک میں چین کو بھی شامل کیا جا سکے، کہانی کے مطابق ڈاکٹر احمد محی الدین داعش خراسان کے ایک مبینہ ہینڈلر ابو خدیجہ سے رابطے میں تھا، ’’ابو‘‘ کنیت والا نام اس لیئے ڈالا گیا تاکہ کسی مرحلے پر لشکر طیبہ کو شامل کرنا پڑے تو آسانی رہے۔ اس کے قبضے سے دیگر ہتھیاروں کے ساتھ 4 کلو گرام کیمیکل زہر بھی برآمد کیا گیا جو کہانی کے مطابق پاکستان سے بذریعہ ڈرون اسے سپلائی کیا گیا تھا اور دہلی ، لکھنئو اور احمد آباد کی حساس فوجی تنصیبات پر کیمیائی حملے کیلئے استعمال ہونا تھا ، کہانی میں کیمیکل اٹیک شامل کرنا انٹرنیشنل سطح کی سنسنی پھیلانا ہے۔
کہانی کے آغاز میں دہلی کے قریب دو رائفلیں اور تقریبا 350 کلو امونیم نائٹریٹ برآمد کیا جاتا ہے، اس مبینہ ’’ریڈیکلائزیشن‘‘ کا آغاز 2021-22 ء میں ’’ہاشم‘‘ کے تحت ہوا، جو بعد میں کشمیری ڈاکٹر عمر کے نام سے جانا گیا، وہ بھی ہریانہ کے ضلع فرید آباد کے قصبے دھوج میں قائم الفلاح یونی ورسٹی میں جاب کرتا تھا، اور مبینہ طور پر بم دھماکہ کرنے والی گاڑی میں موجود تھا اور تاحال فرار ہے اور پولیس اسے ڈھونڈ رہی ہے۔ اس گروہ پر الزام ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر بارودی مواد تیار کر کے آئی ای ڈی بم بنانے اور ان سے پورے بھارت میں حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اور اس کا مقصد ایک نئی تنظیم قائم کرنا تھا جس نے جیش محمد سے منسلک ہونا تھا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے “ہم بیعت” اور ہم نوالہ و ہم پیالہ ملا امیر خان متقی کا بھارت میں پرجوش استقبال کیا جاتا ہے، انہیں بڑے اہتمام سے اتر پردیش کے ضلع سہارن پور میں واقع دارلعلوم دیو بند لایا جاتا ہے اور ہندوستانی طالبان سے خطاب فرمانے کا موقع مہیا کیا جاتا ہے، کیا یہ بھی محض اتفاق ہے کہ طالبان وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی اسی سہارن پور میں ریڈیکلائزیشن ایڈریس کرکے جاتے ہیں اور اسی سہارنپور میں تعینات کشمیری ڈاکٹر عدیل کو گرفتار کرکے اس پر سری نگر میں بھارتی فوج کے خلاف پوسٹر لگانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں