Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

بھارتی آرمی چیف اور 4 سالہ جنگ کی بڑھکیں

مختصر جنگ میں ٹیکنیکل ناک آئوٹ ہونے کے بعد اب بھارت کی طرف سے پاکستان کو چار ماہ سے چار سال تک کی طویل جنگ لڑنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور اس حوالے سے تازہ ترین گیدڑ بھپکی ہندوستانی آرمی چیف جنرل اپیندر دویدی نے ایک بار پھر جارحانہ بیان دیتے ہوئے جاری کی ہے اور کہا ہے کہ آپریشن سندور 1.0 صرف ایک ٹریلر تھا جو 88گھنٹوں میں مکمل ہو گیا، اصل فلم ابھی شروع بھی نہیں ہوئی، یہ گفتگو انہوں نے چانکیا ڈیفنس ڈائیلاگ کے دوران کی جب ان سے آپریشن سندور کے نتائج سے متعلق سوال کیا گیا، بھارتی آرمی چیف نے کہا کہ اصل فلم چار ماہ بھی جاری رہ سکتی ہے اور چار سال بھی، اس لئے ہمیں دیکھنا ہے کہ اتنی لمبی جنگ جاری رکھنے کے لئے ہماری تیاری کتنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ طویل جنگ کے لئے اب بھارت اپنی تیاری مکمل کر کے بیٹھا ہوا ہے، پاکستان نے اب ہمیں موقع دیا تو ہم اسے سکھا دیں گے کہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ احترام سے کیسے رہنا ہے؟ بھارتی انٹیلی جنس اداروں کا لال قلعہ کار بم دھماکہ فالس فلیگ آپریشن پنکچر کیسے ہو چکا ہے اس کی تفصیلات انتہائی دلچسپ ہیں، دوسری طرف اب یوں لگتا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کو بھی مودی سرکار نے ممبئی فلم انڈسٹری کے آنجہانی ولن ’’امریش پوری‘‘کی طرح بس بڑھکیں مارنے کیلئے ہی رکھا ہوا ہے اور ’’پاکستان نے اب ہمیں موقع دیا تو‘‘ والا ان کا تازہ ترین بیان ’’اب کے مار‘‘والا روایتی لکھنوی ڈائیلاگ ہی نظر آتا ہے۔ بھارت آج کل بظاہر پاکستان کیخلاف آپریشن سندور 2شروع کرنے کا جواز تراشنے کے لئے ایک ’’کیس‘‘تیار کرنے میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں نئی دہلی سمیت پورے شمالی بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں چھاپے مار کر ایک ڈرامائی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے اور چائے کی پیالی میں طوفان اٹھایا جا رہا ہے، اس دوران فالس فلیگ آپریشن کے تحت لال قلعہ نئی دہلی اور نوگام پولیس اسٹیشن سری نگر میں جو 2دھماکے ہوئے ان دونوں کو اب حادثاتی واقعات قرار دے دیا گیا ہے۔
چند روز قبل کشمیری پروفیسر ڈاکٹر عمر النبی کی والدہ اور والد کو پولیس اسٹیشن لے جا کر ان کے سیمپل لئے گئے اور لال قلعہ کار بم دھماکے کے دوران کار میں موجود شخص کی لاش کے چیتھڑوں سے سیمپلز لے کر ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا، اب اس ٹیسٹنگ کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے مطابق لال قلعہ کار بم دھماکہ کے دوران کار میں موجود شخص کشمیری ڈاکٹر عمر النبی ہی تھا، اس تصدیق نے بھارتی حکومت کی طرف سے تیار کئے گئے پورے کیس کا بھٹہ بٹھا دیا ہے۔بھارتی پولیس نے اپنی ابتدائی تحقیقات کے بعد اعلان کیا تھا کہ نئی دہلی کے مضافات میں ہریانہ کے ضلع فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی میں قائم مسلمان ڈاکٹروں کے وائٹ کالر ٹیرر نیٹ ورک میں بم بنانے کی مہارت صرف ایک ڈاکٹر “عمر النبی” کے پاس تھی جسے پاکستان میں موجود اس کے تین ہینڈلرز عکاشہ وغیرہ نے ٹیلی گرام کے ذریعے اس کی تربیت دی تھی۔ ڈاکٹر عمرالنبی کی ایک ویڈیو وائرل کی گئی ہے جس میں وہ خود کش حملے کو شہادت قرار دینے کے حوالے سے گفتگو ریکارڈ کروا رہا ہے اور اس کی باڈی لینگوئج صاف چغلی کھا رہی ہے کہ وہ زیر حراست ہے اور سامنے ٹیبل پر موجود لکھی ہوئی تحریر کو دیکھ دیکھ کر یہ بیان ریکارڈ کروا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ جیش محمد سے تعلق رکھنے والے تین افراد نے ٹیلی گرام پر ڈاکٹر عمر النبی کو بم بنانے کی تربیت دی، دو مقامات سے مجموعی طور پر جو 2900کلوگرام بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اس کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ وہ بریف کیسوں اور مختلف بیگوں میں بند تھا اور ابھی اس سے بم نہیں بنائے گئے تھے اور وہ خالص بارود تھا، اس کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ ان بیگوں اور سوٹ کیسوں میں بارود کے ساتھ لوہے کے کیل، لوہے کی گولیاں یا لوہے کے چھوٹے ٹکڑے (شارپنلز)شامل نہیں تھے، یہی وجہ ہے کہ جب نوگام پولیس اسٹیشن سری نگر میں حادثاتی طور پر یہ 2900کلو گرام بارود پھٹا تو تھانے کی عمارت زمین بوس نہیں ہوئی کیونکہ بیگ اور سوٹ کیس ابھی بم بننے کے مرحلے میں داخل نہیں ہوئے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف بھارتی تحقیقاتی اداروں کی رپورٹ یہ ہے کہ اس پورے نیٹ ورک میں صرف ڈاکٹر عمر النبی بم بنانے کا ماہر تھا جس نے اپنے گھر میں بارود اور بم بنانے کی لیبارٹری بھی قائم کر رکھی تھی اور اسی لیبارٹری میں بیٹھ کر وہ اپنے جیش محمد کے مبینہ پاکستانی سہولت کاروں سے انسٹا گرام پر بم بنانے کی تربیت لیتا تھا۔ اب یہ بات انتہائی غیر منطقی اور خلاف عقل ہے کہ جس دہشت گرد گروہ میں بم بنانے کا ماہر صرف ایک ہی شخص ہو اور ابھی 2900 کلوگرام بارود سے بم بنانے کا کام باقی ہو اور وہ یہ کام مکمل کیئے بغیر خود لال قلعہ میں خود کش حملہ کرنے کیلئے چل پڑے، اس مخمصے کا حل اب یہ نکالا گیا ہے کہ لال قلعہ کار بم دھماکے کو بھی ایک حادثاتی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ پوری کہانی غیر منطقی لگنے لگ گئی تھی اس لیئے جھول دور کرنے کیلئے اب ہنگامی ترمیم کی گئی ہے، لیکن اب ایک اور اہم مسئلہ پیدا ہو گیا ہے کہ اس نیٹ ورک سے منسلک دونوں دھماکے حادثاتی واقعات قرار دے دیئے گئے ہیں تو پھر پاکستان کے ساتھ جنگ جیسے انتہائی اقدام کا جواز کیسے پیدا کیا جائے؟ کیونکہ کوئی دہشت گردی کا حملہ تو ابھی ہوا ہی نہیں!اس لئے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر بھارت واقعی پاکستان کے ساتھ لمبی جنگ چھیڑنا چاہتا ہے تو اسے اب ایک اور فالس فلیگ آپریشن کرنا ہو گا کیونکہ لال قلعہ کار بم دھماکہ فالس فلیگ آپریشن تو ’’پنکچر‘‘ہو گیا ہے۔پاکستان پر دبا بڑھانے کیلئے مسلمان ڈاکٹروں کے اس مبینہ ’’وائٹ کالر ٹیرر نیٹ ورک‘‘کی سرگرمیوں کا دائرہ کار ترکی اور بنگلہ دیش تک بھی پھیلایا گیا لیکن یہ غبارہ ہوا زیادہ بھرنے کے چکر میں پھٹ گیا ہے، اس فالس فلیگ آپریشن کے دوران مبینہ طور پر برآمد کئے گئے بارود کا سری نگر کے نوگام پولیس اسٹیشن میں مبینہ آتش زنی کے ذریعے تباہ ہو جانا بھی ’’را‘‘کی کارروائی لگتی ہے، یا یہ بھی ہندوستان کے ٹاپ سپائی ماسٹر اجیت دووال کا ’’برین چائلڈ‘‘ہو سکتا ہے، کیونکہ انٹیلی جنس ورلڈ میں یہ اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ بھارتی پولیس نے یہ بارود خود بھارتی اداروں سے حاصل کر کے اس ڈاکٹرز نیٹ ورک پر ڈال دیا تھا اور پھر کسی بین الاقوامی انکوائری میں انٹرنیشنل فارینزک کے دوران بارود بھارتی ساختہ ثابت ہو جانے کے خدشات کی وجہ سے اسے خود ہی تباہ کر دیا گیا تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔

یہ بھی پڑھیں