شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ کی ایک حکایت ہے کہ ایک بادشاہ کشتی پر سفر کر رہا تھا۔ کشتی میں ایک عجمی لڑکا بھی سوار تھا۔ جس نے اس سے قبل کبھی دریا کا سفر نہیں کیا تھا، جب کشتی دریا کے وسط میں پہنچی تو عجمی نے رونا شروع کر دیا اور ڈر کے مارے اس کا بدن کانپنے لگا، اس نے شور مچا دیا کہ مجھے واپس جا کر کنارے پر اتارا جائے، بادشاہ چونک نازک طبع ہوتے ہیں اس لئے اس لڑکے کے رونے، کانپنے اور شور مچانے سے اس کے دریائی سفر کا مزہ خراب ہو گیا۔ کشتی کے مسافروں نے بہت کوشش کی کہ وہ لڑکا خاموش ہو جائے مگر اس نے رونا بند نہ کیا نہ اس کے جسم کی کپکپاہٹ ختم ہوئی، ایک دانا شخص اس کشتی میں سوار تھا اس نے بادشاہ سے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میرے پاس ایک ایسا طریقہ ہے کہ یہ لڑکا رونا بند کر دے گا اور اس کے جسم پر خوف کے مارے طاری لرزہ بھی ختم ہو جائے گا، بادشاہ نے کہا کہ اگر ایسا کوئی طریقہ ہے تو وہ آزمایا جائے تاکہ اس رونے پیٹنے سے نجات ملے۔ اس دانا شخص نے ایک طاقتور ملاح کو بلا کر اس کے کان میں کچھ کہا اور اس نے لڑکے کو اٹھا کر دریا میں پھینک دیا، لڑکا ڈبکیاں کھانے لگا اور چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیا، جب اس نے چند غوطے کھا لیئے تو دانا شخص کے اشارے پر ملاح نے دریا میں چھلانگ لگائی اور لڑکے کو پکڑا اور واپس کشتی میں لا کر بٹھا دیا۔ وہ لڑکا اب چپ ہو کر کشتی کے ایک کونے میں نہایت اطمینان سے بیٹھ گیا اور حیرت انگیز طور پر اس کے جسم پر مارے خوف کے طاری لرزہ بھی ختم ہو گیا۔ بادشاہ اس دلچسپ تجربے اور اس کے چونکا دینے والے نتیجے پر حیران ہوا اور اس نے دانا شخص سے پوچھا کہ تو نے یہ کیا کیا ؟ اور تیرے اس کام میں کون سی حکمت اور دانائی پوشیدہ ہے ؟ دانا شخص نے جواب دیا کہ کسی نعمت کی قدر اسی کو ہوتی ہے جس نے اس نعمت سے محرومی کی تکلیف چکھی ہو۔ یہ لڑکا ڈوبنے کی تکلیف سے ناواقف تھا اس لئے اسے کشتی کی قدر و قیمت کا اندازہ نہیں تھا کہ یہ کتنی بڑی نعمت ہے، اب چند غوطے کھانے اور ڈوب کر مر جانے سے دوچار ہونے کے بعد اسے کشتی کی قدر و قیمت کا احساس ہو گیا ہے۔ اس لئے واپس کشتی میں بیٹھتے ہی اس نے سکون کا سانس لیا اور نہ صرف اس کے جسم پر طاری لرزہ ختم ہو گیا بلکہ اس نے رونا دھونا بھی بند کر دیا۔
شیخ سعدی ؒاس حکایت میں لکھتے ہیں کہ نعمت اور انعام و اکرام کی صحیح قدر اسی کو ہو سکتی ہے جو کسی آزمائش کے بعد اس کا حقدار ٹھہرا ہو، جسے کسی آزمائش کے بغیر مفت میں انعام و اکرام سے نواز دیا جائے یا محرومی کا عذاب چکھے بغیر نعمت مل جائے تو وہ اس کی صحیح قدر و قیمت سے ہمیشہ ناآشنا رہتا ہے۔ افغانستان کیلئے پاکستان کی دوستی، اس کی بندرگاہیں اور تجارتی راستے کتنی بڑی نعمت ہیں؟ ہمارے افغان طالبان بھائی اس عجمی لڑکے کی طرح اللہ کی دی ہوئی اس بڑی نعمت سے ناآشنا ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس کی قدر نہیں کی اور نہ صرف پاکستان میں جاری ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی دہشت گردی کی سرپرستی شروع کر دی بلکہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہوئے اس کی پاکستان دشمن پراکسی وار کے سہولت کار بھی بن گئے، شیخ سعدی ؒکی حکایت والے دانا شخص کی طرح پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے افغانستان کے ساتھ تجارت بند کر کے جب سے یہ نعمت واپس لی ہے، افغانستان کو آٹے دال کا بھا معلوم ہو گیا ہے، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی یہ غیر عسکری جنگ آنیوالے چند ماہ کے اندر ہی افغان طالبان کو وہ سبق سکھا دے گی جو خونریز جھڑپوں سے بھی شاید ان کی محدود سوچ سمجھ میں نہ آ سکے۔ افغانستان کا 70 سے 80 فیصد تک تجارتی مال پاکستانی بندر گاہوں اور تجارتی شاہراہوں کے ذریعے گزرتا ہے، پاکستان کے راستے تجارت کرنے میں افغانستان کو دوہرا فائدہ ہے ایک تو مال آنے جانے میں وقت بھی تھوڑا لگتا ہے اور اخراجات بھی دیگر ممالک کے راستے تجارت کے مقابلے میں 50 سے 60 فیصد کم پڑتے ہیں۔
کراچی کی بندرگاہ سے مال تین سے چار دن میں افغانستان پہنچ جاتا ہے جبکہ ایران کے راستے 6 سے 8دن اور وسط ایشیائی راستوں سے 30دن لگتے ہیں، پاکستانی راستے سے تجارت بند ہونے کی وجہ سے افغانستان میں اشیائے ضرورت ڈیڑھ دو گنا مہنگی ہو گئی ہیں اور عام افغان شہری طالبان عبوری حکومت کی عاقبت نااندیشانہ پالیسیوں کی وجہ سے آنے والے مہنگائی کے خوفناک عذاب سے دوچار ہیں، بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ دوطرفہ تجارت بند ہونے سے پاکستان کو بھی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن حقائق برعکس ہیں، افغانستان کے ساتھ سرحدیں بند کرنے سے پاکستانی تجارت و معیشت کو کچھ ایسے بڑے فوائد حاصل ہوئے ہیں کہ جن کی طرف کبھی کسی کی توجہ نہیں تھی۔ حکومت پاکستان کو ٹیکسوں کی مد میں ہونے والی آمدن کے کھاتے میں 3.4کھرب روپے کا نقصان افغانستان کے راستے ہونے والی اسمگلنگ کی وجہ سے اٹھانا پڑ رہا تھا اور ایک کھرب روپے سالانہ کا نقصان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے منگوائی گئی اشیا کی غیر قانونی طور پر پاکستان میں فروخت سے ہو رہا تھا، 11 اکتوبر سے سرحدیں بند ہونے کی وجہ سے پاکستان کو درآمدی و برآمدی ڈیوٹیوں کی مد میں ہونے والے اس بڑے نقصان سے نجات مل گئی ہے اور یہ مجموعی فائدہ اس نقصان سے کم ہے جو افغانستان کو ایکسپورٹ بند ہونے کی وجہ سے پاکستان کو ہوا ہے۔افغان طالبان عبوری حکومت کے وزیر تجارت نور الدین عزیزی کے حالیہ دورہ بھارت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ائیر کارگو سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت نئی دہلی اور امرتسر سے کابل کیلئے اناج، ادویات اور مختلف مصنوعات پہنچائی جائیں گی، ائیر کارگو کی وجہ سے سفری اخراجات تین چار گنا بڑھ جاتے ہیں اس لیئے بھارت سے فضائی تجارت اس مسئلہ کا دیرپا حل نہیں، مزید مشکل یہ پیدا ہو گی کہ حالیہ کشیدہ تعلقات کی وجہ سے پاکستان نے بھارت اور افغانستان کو اپنی فضائی حدود کے استعمال سے بھی روک دیا تو نئی دہلی و امرتسر سے کابل کا روٹ مزید طویل اور مزید مہنگا ہو جائے گا، یعنی بھارت سے تجارت شروع ہو جائے تو بھی مہنگائی کے عذاب سے جان نہیں چھوٹے گی۔ افغانستان کے وزیر تجارت کے پانچ روزہ دورے سے پہلے وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی نے بھی بھارت کا چھ روزہ طویل دورہ کیا تھا، طالبان وزرا کے ہندوستان کے یہ طویل دورے دیکھ کر ہمیں وہ طوطا یاد آ جاتا ہے جس سے ایک الو کے پٹھے نے اپنی شدید بھوک کے دوران بڑی امیدیں وابستہ کر لی تھیں۔