فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے ’’ڈنڈا ڈاکٹرائن‘‘ کو اگر ہم شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبال ؒ کے اس شعر کی ’’عملی تفسیر‘‘ قرار دیں تو بیجا نہ ہوگا کہ جس میں مشرق کے اس عظیم فلسفی نے فرمایا ہے کہ:
رِشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طِلسم
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد
پچھلے کئی عشروں سے یار لوگوں نے بھارت کو پاکستان سے پانچ گنا بڑا ملک اور کئی گنا بڑی فوج والی ریاست قرار دے کر سر پر چڑھا رکھا تھا، یہ بھی کہا جاتا رہا کہ پاکستان کے فارن کرنسی ریزرو بمشکل 20ارب ڈالر ہیں جبکہ بھارت 700ارب ڈالر کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے ساتھ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن چکا ہے، یہ دور کی کوڑی بھی لائی جاتی رہی کہ بھارت تو امریکہ کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کا تعلق ہمیشہ ’’ٹیکٹیکل‘‘رہا ہے یعنی ہمارے ساتھ تو صرف ’’سپاٹ فکسنگ‘‘کے تحت ڈیل کیا جاتا ہے کہ جب موقع آیا یا ضرورت محسوس ہوئی تو کچھ لے دے کر کام” لیا اور اس کے بعد رات گئی بات گئی والا معاملہ شروع، بھارت کے گودی میڈیا نے ’’برہمن کے اس طلسم‘‘کی چکا چوند سے دنیا بھر کی آنکھوں کو خیرہ کر رکھا تھا، بھلا ہو پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا کہ اس سیدزادے نے صرف 4روزہ جنگ میں نئی دہلی کی اس ’’چاندنی‘‘ کی حقیقت یا اصل اوقات دنیا کے سامنے کھول کر دی ہے کہ چاندنی صرف چار دن کی ہوتی ہے۔مثل مشہور ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس اور جس کا ڈنڈا اس کا سنڈا، بھارت جیسے انتہا پسند ملک اور مودی جیسے ہٹلر صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں اس لئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے ہندوستان سے اسی کی زبان میں ’’ڈیل‘‘کر کے کئی عشروں کے ’’طلسم‘‘کو توڑ ڈالا ہے، اس چار روزہ جنگ میں افواج پاکستان نے ہر شعبے میں بھارت سے بہتر ہونے کا ثبوت فراہم کرکے اسلام آباد پر نئی دہلی کی نفسیاتی برتری کے بت کو پاش پاش کر دیا ہے۔
اس نئی صورتحال میں اب رولز آف گیمز نئے سرے سے سیٹ کرنے پڑیں گے اور بنگلہ دیش، سری لنکا اور مالدیپ جیسے چھوٹے ممالک کو بھی سانس لینے کا موقع ملے گا کہ جو پچھلے 7عشروں سے بھارتی دھونس دھاندلی والی خارجہ پالیسی سے دبکے رہنے پر مجبور تھے اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صرف پاکستانیوں کے نجات دہندہ نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیاء کے نجات دہندہ ثابت ہوئے ہیں تو بیجا نہ ہوگا۔پاکستان کے مرد آہن نے اپنے ’’ڈنڈا ڈاکٹرائن‘‘کے ذریعے صرف مشرقی سرحدوں کے عشروں پرانے ’’طلسم کدے‘‘ کو پاش پاش نہیں کیا بلکہ ملک کی مغربی سرحدوں پر ’’مسلط‘‘کئی فکری مغالطوں سے بھی ملک و قوم کی جان چھڑئوا دی ہے، افغانستان کی طالبان عبوری حکومت نے پاکستان میں ٹی ٹی پی کے فتنہ الخوارج اور بی ایل اے کے فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی کی سرپرستی و سہولت کاری کے ذریعے جینا دوبھر کر رکھا تھا، ستم ظریفی یہ تھی کہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے بعد ہمارے ہاتھوں کے تراشے ہوئے پتھر کے صنم، بت خانے میں ’’بھگوان‘‘بن کر بیٹھ گئے تھے اور کوئی جائز بات سننے کے بھی روادار نہیں تھے، دوحہ ڈائیلاگ کے دوران امریکی افواج کی واپسی کے وقت ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کی زیر قیادت موجودہ افغان طالبان رجیم نے یہ گارنٹی دی تھی کہ وہ افغان سرزمین کو کسی ملک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے لیکن پھر سلسلہ یہ شروع کر دیا گیا کہ افغانستان سے ’’ایکسپورٹ‘‘ ہونے والی دہشت گردی کا سب سے پہلا شکار اپنے سب سے بڑے غم خوار اسلامی ہمسائے پاکستان کو بنا ڈالا کہ جس نے پچھلے 45 برس کی جنگوں کے دوران کئی ملین افغان مہاجرین کے لئے عملاً ’’انصارستان‘‘کا کردار ادا کیا تھا۔ کہنے کو تو افغان عبوری حکومت کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ ایک بڑے عالم دین بھی ہیں لیکن انہیں افغانستان کے پچھلے 45برس کے ’’الانصار‘‘کے خون کی ہولی کھیلنے والے خوارج کی سرپرستی کرتے ہوئے نہ دوحہ ڈائیلاگ کے دوران کئے گئے اپنے وعدے کا پاس رہا اور نہ ہی پاکستان کے پچھلے 45 برس کے احسانات اور قربانیوں کا، اور فتنہ الخوارج و فتنہ الہندوستان نے افغان سرزمین سے آپریٹ کرتے ہوئے سابق حامد کرزئی و اشرف غنی حکومتوں کے ادوار سے بھی زیادہ خونریز دہشت گردی کا سلسلہ شروع کر دیا۔
مقام حیرت یہ ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت اور تمام جنگجووں نے ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کی بیعت کر رکھی ہے اور ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ اپنی مسلسل نافرمانی پر انہیں اپنی بیعت سے ’’آزاد‘‘کرکے اعلان لاتعلقی بھی نہیں کرتے، اس گنجلک مخمصے نے پاکستان کو عرصے سے عاجز کر رکھا تھا اور کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ جھوٹ کون بول رہا ہے بیعت کرنے والے یا جن کی بیعت کی گئی ہے۔ اس جھوٹ کے طلسم کو بھی آخر کار فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے اپنی ’’عصائے کلیم پالیسی‘‘المعروف ’’ڈنڈا ڈاکٹرائن‘‘کے ذریعے ہی توڑا اور افغانستان کے اندر فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر یہ واضح کر دیا کہ اب پاکستان کے عوام اور افواج پاکستان کا خون بہانے والوں کا ان کی محفوظ پناہ گاہوں اور تربیت گاہوں تک پیچھا کیا جائے گا، پاکستان کی اس نئی پالیسی نے خطے میں ایک بڑی جنگ کے خطرات پیدا کر دیئے جس کی وجہ سے خطے کے امن کے حوالے سے اپنے اپنے اسٹریٹجک مفادات رکھنے والے تمام دوست ممالک اور بڑی قوتوں ترکی، ایران، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات سے روس اور چین تک تمام متعلقہ ممالک کو ’’متحرک‘‘ ہونا پڑا، اور معاملات اب آخر کا ترکی کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن کی سرپرستی میں ایک نگران باڈی کے قیام کی طرف چل پڑے ہیں کہ جو ڈیورنڈ لائن پر کراس بارڈر ٹیررازم کی روک تھام کی ذمے دار ہو گی۔پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے’’قلندرانہ کردار‘‘ کے ملک کی مشرقی کے بعد مغربی سرحدوں پر بھی مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں، اس حوالے سے شاعر مشرق کی مشہور نظم ایک بار پھر یاد آ رہی ہے، فرمایا :
کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد
مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد
نہ فلسفی سے، نہ ملا سے ہے غرض مجھ کو
یہ دل کی موت، وہ اندیشہ و نظر کا فساد
فقیہِ شہر کی تحقیر!کیا مجال مری
مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دل کی کشاد
کئے ہیں فاش رموزِ قلندری میں نے
کہ فکرِ مدرسہ و خانقاہ ہو آزاد
رِشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طِلسم
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد