Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

افغانستان کیلئے حاضر ہے آئینہ

امریکی کانگریس نے 2002ء سے 2021 ء تک افغانستان کی تعمیر نو اور جمہوری منتقلی کے لیے تقریبا 144 ارب 70 کروڑ ڈالر فراہم کیے، لیکن آخرکار نہ تو تعمیر نو ہوئی اور نہ ہی جمہوری منتقلی، بلکہ افغانستان دہشت گردی کی نرسری بن چکا ہے اور افغانستان اور خطے میں استحکام لانے کیلئے خرچ کیئے گئے یہ اربوں ڈالر اب بالواسطہ طور پر پاکستان میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت مختلف دہشت گرد تنظیموں کو دنیا کے جدید ترین اسلحہ تک رسائی دینے کا باعث بن گئے ہیں، افغانستان میں کیئے گئے اس طویل اور مہنگے ناکام تجربے سے امریکہ کو سیکھنا ہو گا اور آئندہ کسی ملک میں استحکام اور جمہوریت کو فروغ دینے کا یہ طریقہ کسی صورت میں نہیں اپنانا چاہیئے کہ جو افغانستان میں استعمال کیا گیا۔ یہ ہوشربا رپورٹ اور تہلکہ خیز انکشافات اس ہفتے جاری کی گئی 137 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کیئے گئے ہیں جسیاسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (SIGAR) سگار کا نام دیا گیا ہے، یہ رپورٹ افغانستان میں دو دہائیوں تک کے امریکی منصوبوں کی بھر پور تفصیل بیان کرتی ہے۔
متوازی طور پر اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیموں اور واشنگٹن پوسٹ کی ایک تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان ہتھیاروں میں سے کچھ پہلے ہی کالعدم تحریک طالبان پاکستان تک پہنچ چکے ہیں، جس سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں شدت آئی ہے۔
اقوام متحدہ کے حالیہ جائزے اس ناکامی کے علاقائی اثرات کو مزید واضح کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک پینل نے رپورٹ کیا ہے کہ افغان طالبان اب بھی تحریک طالبان پاکستان کو لاجسٹک اور آپریشنل مدد فراہم کر رہے ہیں، جب کہ واشنگٹن پوسٹ نے دستاویزی طور پر یہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی ساختہ ہتھیار بڑی تعداد میں اب پاکستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں میں ہیں، جو ریاست کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
سگار کی رپورٹ کے مطابق ہتھیاروں کے اس پھیلا کی ایک وجہ طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں نگرانی کی کمی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے قبضے کی وجہ سے سگار کو افغان نیشنل ڈیفنس اور سیکیورٹی فورسز (اے این ڈی ایس ایف)کو فراہم کیے گئے کسی بھی سامان یا بنائی گئی سہولتوں کی تفتیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، افغانستان کی طالبان عبوری حکومت کا یہ عدم تعاون کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی ’’چوری‘‘ کو چھپانے کیلئے دانستہ اس عدم تعاون کی پالیسی پر کاربند ہے۔
امریکی محکمہ دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کابل میں افغان طالبان عبوری حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے موقع پر تقریبا 7 ارب 10 کروڑ ڈالر مالیت کا امریکی فراہم کردہ سامان چھوڑا گیا تھا، جس میں ہزاروں گاڑیاں، لاکھوں چھوٹے ہتھیار، نائٹ ویژن ڈیوائسز اور 160 سے زیادہ طیارے بھی شامل تھے، امریکیوں کی اس ’’فراخدلی‘‘ کے منفی اثرات اب پاکستان میں ظاہر ہو رہے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، پاکستان میں پکڑے گئے کم از کم 63 ہتھیاروں کے سیریل نمبرز افغان فورسز کو فراہم کیے گئے ہتھیاروں سے میل کھاتے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ان میں سے کچھ رائفلز اور کاربائنس اس پرانے اسلحہ سے کہیں زیادہ بہتر ہیں جو 2021ء سے پہلے ٹی ٹی پی کے دہشت گرد استعمال کرتے تھے۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس بھی اس تشویش کی بازگشت ہیں، 36ویں مانیٹرنگ رپورٹ (2025) میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے تقریبا 6 ہزار جنگجو افغانستان کے غزنی، ہلمند، قندھار، کنڑ، اوروزگان، اور زابل صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور القاعدہ کے ساتھ تربیتی سہولتوں کا اشتراک کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے ڈنمارک کی نائب مستقل نمائندہ، ساندرا جینسن لینڈی نے بھی تصدیق کی تھی کہ ٹی ٹی پی کو کابل میں حکام کی طرف سے لاجسٹک اور اہم عسکری مدد مل رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی سابقہ رپورٹس میں طالبان کی طرف سے کالعدم ٹی ٹی پی کے رہنمائوں کو مہمان خانوں کی فراہمی، ہتھیاروں کی اجازت، نقل و حرکت کی اجازت، اور گرفتاری سے آزادی جیسے انتظامات کی تفصیل دی گئی ہے، جنہوں نے اس دہشت گرد گروپ کو افغان علاقے میں مزید گہرا اثر رسوخ حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔ سگار کی 2025 ء کی سہ ماہی رپورٹس میں بھی سرحد پار حملوں کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں جنوبی وزیرستان میں ایک حملہ بھی شامل ہے جس میں 16 پاکستانی سیکورٹی اہلکار شہید ہو گئے تھے۔
سگار کی حتمی رپورٹ افغانستان میں امریکی سرمایہ کاری کے حجم اور افغانستان کے سیکورٹی شعبے میں اس کے بے کار ہونے کا دوبارہ جائزہ بھی پیش کرتی ہے۔ جس کے مطابق 2002 سے جون 2025 ء تک، واشنگٹن نے اے این ڈی ایس ایف کے بنیادی ڈھانچے، نقل و حمل، اور سامان کے لیے 13 ارب 20 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کی گئی۔
امریکا نے افغان فورسز کے لیے 96 ہزار زمینی گاڑیاں، 4 لاکھ 27 ہزار سے زیادہ ہتھیار، 17 ہزار 400 نائٹ ویژن ڈیوائسز، اور کم از کم 162 طیارے خریدے تھے، جولائی 2021 تک جب افغانستان کی اشرف غنی حکومت کا سقوط ہوا، افغان فضائیہ کے پاس 131 آپریشنل امریکی فراہم کردہ طیارے تھے، جن میں سے تقریباً تمام اب افغان طالبان کے زیر قبضہ ہیں، مزید 11 ارب 50 کروڑ ڈالر افغان بیسز، ہیڈکوارٹرز، اور تربیتی سہولتوں کی تعمیر پر خرچ کیے گئے تھے، جن میں سے زیادہ تر یا تو طالبان کے قبضے میں ہیں یا امریکی معائنہ کاروں کے لیے مکمل طور پر ناقابل رسائی ہیں۔ سگار کی یہ رپورٹ ایک طرح کا واضح اعتراف ہے کہ امریکا کی افغانستان میں ایک مستحکم اور جمہوری حکومت بنانے کی خواہش شروع ہی سے غلط مفروضوں اور غیر ہم آہنگ شراکت داریوں کی وجہ سے ناکام ہوئی۔ سگار کے مطابق، ابتدائی امریکی فیصلوں سے پہلی اینٹ ہی غلط رکھی گئی جب کرپٹ اور انسانی حقوق کی پامالی کرنے والے طاقتور افراد کی حمایت کی گئی اور ان کی مدد سے افغانستان میں امن و استحکام لانے کا سوچا گیا، جس سے شفاف حکمرانی کو نقصان پہنچا، اور باغی گروپوں کی بھرتی کو تقویت ملی، اور آخرکار وہ ادارے جو امریکا تعمیر کرنا چاہتا تھا، وہ کمزور ہو گئے، رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 29 ارب ڈالر ضیاع، دھوکا دہی اور بدعنوانی کی نذر ہوئے۔
سگار رپورٹ میں یہ بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں کیئے گئے اس ناکام تجربے کی انسانی قیمت کہیں زیادہ تھی، لاکھوں افغان اور 2 ہزار 450 سے زائد امریکی فوجی ان دو عشروں میں ہلاک ہوئے، اور اس کے باوجود افغان طالبان کا اقتدار بحال ہو گیا، جو اب وہی سامان استعمال کر رہے ہیں جو امریکا نے اپنے حلیفوں کے لیے خریدا تھا۔سگار رپورٹ میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ اس ناکامی کے باوجود، امریکا افغانستان کا سب سے بڑا معاون ملک ہے، جس نے اگست 2021 ء کے بعد سے 3 ارب 83 کروڑ ڈالر سے زائد کی انسانی امداد اور ترقیاتی معاونت افغان طالبان کی عبوری حکومت کو فراہم کی ہے، اس انکشاف سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے خلاف جہاد کا افغان طالبان کا نعرہ بھی ایک سراب ہی تھا اور امریکی ڈالر ملتے رہیں تو واشنگٹن کے ساتھ امارات اسلامی افغانستان کو کوئی مسئلہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں