Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

عاصم منیر، شمالی افریقہ اور افغانستان

افغانستان کی طالبان عبوری حکومت بھارت کی طرف جھک جانے کی وجہ سے نہ صرف پاکستان کے تجارتی راستوں اور سستی زرعی و صنعتی پیداوار سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے بلکہ اس نے پاکستان کی مدد سے افغانستان کی مسلح افواج کو دور جدید کے چیلنجز سے عہدہ برا کرنے کے لئے ’’ایمرجنسی ری بلڈ‘‘کے مواقع بھی کھو دیئے ہیں۔امارات اسلامی افغانستان کی خارجہ پالیسی کا اس سے بڑا بلنڈر کیا ہوگا کہ ہزاروں کلومیٹر دور واقع اسلامی ممالک آذر بائیجان اور مشرقی لیبیا، پاکستان کے جدید ترین سستے ہتھیاروں سے اپنی مسلح افواج کو لیس کر رہے ہیں لیکن پاکستان کی دہلیز پر واقع ہمسایہ اسلامی ملک افغانستان نے خود کو اس نعمت سے ازخود محروم کر لیا ہے۔کچھ عرصہ قبل آذربائیجان نے پاکستان سے جے ایف 17تھنڈر طیاروں کی خریداری کیلئے 4.6 ارب ڈالر کا بڑا معاہدہ کیا، اب لیبیا (مشرقی لیبیا)نے بھی پاکستان سے جے ایف 17تھنڈر طیاروں اور حیدر ٹینک سمیت جدید ترین اسلحہ کی خریداری کا معاہدہ کیا ہے جس کی مالیت بھی 4.6 ارب ڈالر ہی بتائی جا رہی ہے، اس معاہدے کے تحت لیبیا کی خلیفہ ہفطار حکومت پاکستان سے 16 جے ایف 17تھنڈر طیارے، 12 سپر مشاق تربیتی طیارے، 44 مین بیٹل ٹینک حیدر اور ایک کثیر المقاصد جنگی بحری جہاز خرید رہی ہے۔امریکہ، نیٹو ممالک اور روس سے جدید ترین ہتھیاروں کی خریداری پر ساتھ ساتھ سخت شرائط بھی عائد کی جاتی ہیں۔
بعض اوقات جدید ترین اسلحہ کی خریداری کو عالمی دفاعی گروپ میں شمولیت یا بحری اڈے لینے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن پاکستان سے جدید ترین ہتھیاروں کی خریداری کی صورت میں ایسی کوئی شرط عائد نہیں کی جاتی، اس لیئے اب مشرقی ایشیاء ، مشرق وسطیٰ ، وسط ایشیاء کے بعد شمالی افریقہ بھی پاکستانی ہتھیاروں کی نئی مارکیٹ بن کر سامنے آ رہا ہے۔ پاکستان اور لیبیا کے درمیان یہ دفاعی معاہدہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مشرقی لیبیا کے دارالحکومت بن غازی کے دورے کے دوران ہوا ہے جس میں انہوں نے لیبیا کے سربراہ فیلڈ مارشل خلیفہ ہفطار اور ان کے نائب لیفٹیننٹ جنرل صدام ہفطار سے ملاقاتیں کیں اور دو طرفہ دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، ان ملاقاتوں میں لیبیا کی بری بحری اور فضائی افواج کی دور جدید کی دفاعی ٹیکنالوجیز کے مطابق تعمیر نو جیسے اہم امور بھی زیر غور آئے، سوڈان اور مصر کے بعد لیبیا کے ساتھ بھی اعلیٰ ترین رابطوں سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شمالی افریقہ میں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی ہیٹرک مکمل ہو گئی ہے، انہوں نے یہ ہیٹرک اپنی ایسی تیز رفتار دفاعی سفارتکاری کے ذریعے مکمل کی ہے کہ جو بھارت کی مودی سرکار کے زخموں پر مونگ دلنے والی بات ہے، پاکستان کے ساتھ براہ راست چار روزہ جنگ میں شکست فاش کے بعد اب دفاعی ایکسپورٹس کی جنگ میں بھی اسلام آباد نے نئی دہلی کو چاروں شانے چت کر دیا ہے۔پاکستان کا جدید ترین تھرڈ جنریشن مین بیٹل ٹینک حیدر حالیہ چند برسوں کے دوران چین سے اشتراک کے ذریعے سامنے آیا اور مارچ 2025 ء میں اس کی مکمل دیسی پیداوار شروع ہو چکی ہے، لیبیا کو 44 حیدر ٹینکوں کی فروخت غالبا اس کی پہلی ایکسپورٹ ہے، جس کے ذریعے پاکستان نے جدید ترین لڑاکا طیاروں کے بعد جدید ترین ٹینکوں کی عالمی مارکیٹ میں بھی قدم رکھ دیا ہے۔ افواج پاکستان کی قیادت، اس کے انجینئروں، سائنس دانوں اور ہنر مند افرادی قوت کی یہ تاریخی کامیابیاں ان ناقدین کا منہ بند کرنے کیلئے کافی ہیں جن کی زندگیوں کا واحد مقصد دوسروں کے کام میں کیڑے نکالنا ہی رہ گیا ہے۔ پاکستان جیسے عظیم دوست ملک اور پاکستانیوں جیسی عظیم ’’انصارستان‘‘ قوم کی چالیس پچاس سالہ قربانیوں کو فراموش کرکے افغانستان کی طالبان عبوری حکومت نے فتنہ الخوارج ، فتنہ الہندوستان اور فتنہ المودی سرکار کی شیطانی ٹرائیکا سے دوستی لگا کر خود اپنے پاں پر کلہاڑی مار لی ہے، اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنی کئی عشروں کی آزمودہ دوستی کی طرف واپس پلٹے تاکہ پاک افغان بارڈر پر مکمل امن بحال کر کے دونوں ممالک نہ صرف دوطرفہ تجارت کو فروغ دیں بلکہ پاکستان اور افغانستان کو ایشیاء کی تجارت کا دروازہ بنا کر پورے خطے کا چوک و چوراہا بن جائیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مشترکہ جیو اسٹریٹجک تجارتی راہداریوں کے ذریعے دونوں ممالک ایک طرف ماسکو سے بیجنگ تک اور دوسری طرف ریاض سے بن غازی تک دو براعظموں کی تجارت کی نئی شاہراہِ ریشم کو بحال کرکے شاعر مشرق کے اس خواب کی عملی تصویر پیش کریں کہ جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
چالیس پچاس برس کی مسلسل جنگوں اور خانہ جنگی سے تباہ حال افغانستان کی تعمیرنو کیلئے مکمل امن ناگزیر ہے، اور دنیا کا کوئی بھی اپنے لیئے ملک مکمل امن اسی وقت تک حاصل نہیں کر سکتا کہ جب تک وہ اپنے ہمسایہ ممالک میں مکمل امن کو اپنی خارجہ و دفاعی پالیسی کا بنیادی ستون نہیں بناتا، یوں بھی مسلمانوں کیلئے تو حکم ہے کہ ہم اپنے بھائی کیلئے وہی چیز پسند کریں جو ہم خود اپنے لیئے پسند کرتے ہیں، ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کیلئے ملین ڈالر کا سوال ہے کہ افغان طالبان کیسے بھائی ہیں کہ جو اپنے ملک کیلئے تو ’’مکمل امن‘‘والی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں اور اپنے چالیس پچاس سالہ ’’انصارستان‘‘ کے لئے ’’مکمل امن‘‘کی پالیسی ان کی ترجیحات میں شامل نہیں اور اس حوالے سے فتویٰ دیتے وقت ان کا قلم کانپنے لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں