Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

جے ایف 17تھنڈر، تیجس اور 2025 ء

بھارت کے 4.5 جنریشن کے لڑاکا طیارے تیجس کے حوالے سے ہمیشہ بلند بانگ دعوے کئے جاتے رہے ہیں اور یہاں تک کہا گیا کہ امریکہ اور آسٹریلیا نے بھی ان کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے لیکن تیجس کی ایکسپورٹ کے حوالے سے عملی نتیجہ ابھی تک ’’زیرو پلس زیرو اس ایکوئل ٹو زیرو‘‘والا ہی ہے، جن دیگر ممالک کے حوالے سے دعوے سامنے آئے ان میں ملائشیا، ارجنٹائن، مصر، انڈونیشیا، فلپائن اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں لیکن کسی ایک ملک کے ساتھ بھی ابھی تک ڈیل فائنل نہیں ہوئی، بھارت دنیا کا ایک بڑا ملک ہے اس حوالے سے اس کے تجارتی تعلقات بھی بڑے پیمانے پر ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ اس کے دفاعی ادارے پچھلے کئی برسوں کی زوردار مارکیٹنگ کے باوجود تیجس کے لئے ایک ڈیڑھ درجن طیاروں کا آرڈر بھی حاصل نہیں کر پائے جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری کی عالمی مارکیٹ میں فتوحات کا سلسلہ مزید تیز ہو گیا ہے اور دوبئی ائیرشو کے موقع پر ایک اور ’’دوست ملک‘‘کے ساتھ جے ایف 17تھنڈر بلاک تھری کی خریداری کے معاہدے کے حوالے سے ایم او یو پر دستخط کئے جانے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اس دوران پاکستان آذر بائیجان اور لیبیا سے دو بڑے آرڈر حاصل کر چکا ہے، دنیا کے مزید 7ممالک کی فضائیہ جے ایف 17تھنڈر بلاک تھری کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کر چکی ہے اور اس حوالے سے خریداری سے قبل کا روایتی تبادلہ خیال مختلف مراحل میں ہے۔
بھارتی میڈیا کی طرف سے تیجس کا جتنا شور پچھلے 20برسوں سے مچایا جا رہا ہے عملی طور پر نتیجہ اسی قدر خراب ہے، طیارے میں ابتدائی طور پر بھارت کا اپنا تیار کیا گیا انجن ’’کاویری‘‘ استعمال کرنے کی کوشش کی گئی اس انجن کی تیاری کے دوران امریکی و روسی پرزوں کا استعمال بھی کیا گیا، ایک انجن کو ٹیسٹ کیلئے روس بھی بھجوایا گیا لیکن وہ ٹیسٹ پاس نہ کر سکا، آخر کار بھارت نے 2008 ء میں کاویری پراجیکٹ ہی ختم کر دیا اور تیجس کیلئے امریکی انجن استعمال کرنا شروع کر دیئے جن کی بروقت سپلائی مسئلہ بنی ہوئی یے، بھارت نے حال ہی میں امریکہ سے مزید 113انجن خریدنے کا معاہدہ کیا ہے جو 2027 ء سے 2032 ء کے عرصے میں امریکہ کی طرف سے سپلائی کیئے جائیں گے لیکن دنیا اس وقت تک ففتھ جنریشن طیاروں کے دور میں داخل ہو چکی ہو گی، امریکی انجنوں کی سست سپلائی بھی تیجس کے لئے کوئی فوری آرڈر حاصل کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے، امریکی انجن کی وجہ سے بھارت تیجس طیارے کسی ایسے ملک کو فروخت نہ کرنے کا بھی پابند ہے جس کے روس اور چین کے ساتھ قریبی اسٹریٹجک تعلقات ہوں، خلیج میں منعقدہ حالیہ ائیر شو میں تیجس کی تباہی اور پائلٹ کی ہلاکت نے بھی اس طیارے کی عالمی مارکیٹنگ پر منفی اثر ڈالا ہے، تیجس میں استعمال ہونے والی پائلٹ کی ایجکشن سیٹ برطانیہ سپلائی کرتا ہے، کاک پٹ کے دیگر اہم اور حساس آلات بھی برطانیہ، امریکہ، فرانس، اٹلی اور جرمنی سے آتے ہیں، دوبئی ائیرشو 2025ء میں فضائی مظاہرے کے دوران تیجس طیارے کے حادثہ کا ایک اور افسوسناک پہلو یہ تھا کہ بھارتی پائلٹ بروقت ایجکٹ نہ کر سکا اور ہلاک ہو گیا، اس پہلو نے ایجیکشن سیٹ سپلائی کرنے والی برطانوی کمپنی کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، کاک پٹ کیلئے حساس آلات فراہم کرنے والی دیگر مغربی کمپنیوں کو بھی اس حادثے سے جھٹکا لگا۔ تیجس صرف نام کا بھارتی طیارہ ہے عملاً اس کے 80 فیصد تک حساس اور اہم پرزے اور اسلحہ مغربی ممالک سپلائی کرتے ہیں جس میں اسرائیلی ائیر ٹو ائیر ففتھ جنریشن میزائل پائیتھون 5 اور امریکی لیزر گائیڈڈ بم خاص طور پر قابل ذکر ہیں، تیجس کے لئے مستقبل میں بھی کوئی آرڈر نہ ملنے کے امکانات اس لئے بھی واضح ہیں کہ امریکہ اور یورپی ممالک نے دنیا کے ہر دوسرے ملک پر اپنی حساس دفاعی ٹیکنالوجی کی فراہمی پر پابندیاں لگا رکھی ہیں اس لیئے بھی کوئی ملک یہ طیارہ خریدنے کا سودا نہیں کر رہا کہ سپلائی کے مرحلے پر اگر اچانک امریکہ نے پابندیاں لگا دیں تو بھارت سے تیجس کی فراہمی ناممکن ہو جائے گی۔رواں برس 2025ء جہاں بھارت کے لئے اپنے طیارے تیجس کی مکمل ناکامی کا سال رہا، وہیں پاکستان کے لئے یہ سال JF-17تھنڈر لڑاکا طیارے کی فتوحات اور برآمدات دونوں کے حوالے سے خاصا کامیاب ثابت ہوا ہے، 7 سے 10 مئی 2025 ء تک جاری رہنے والے پاک بھارت حالیہ معرکے میں بھی جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی اور اس دوران گرائے گئے 7بھارتی طیاروں میں سے 2 کو جے ایف 17تھنڈر نے نشانہ بنایا جن میں ایک رافیل بھی شامل تھا، باقی 3 رافیل سمیت 5 طیارے چین سے حاصل کئے گئے جے 10سی طیاروں نے گرائے، جے ایف 17تھنڈر نے اس جنگ کے دوران دو حیران کن زمینی حملے بھی کئے جن میں بھارت کے براہموس میزائلوں کے ایک اڈے اور روس سے حاصل کئے گئے فضائی دفاعی میزائل ایس 400 کے ایک یونٹ کو تباہ کر کے بھی اپنی دھاک بٹھا دی، یہی وجہ ہے کہ پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر خریدنے کے خواہشمند ممالک کی ایک لائن لگ گئی ہے۔
(جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں