Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

جے ایف 17تھنڈر، تیجس اور 2025 ء

(گزشتہ سے پیوستہ)
7 سے 10 مئی 2025 ء تک جاری رہنے والے پاک بھارت حالیہ معرکے میں بھی جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی اور اس دوران گرائے گئے 7بھارتی طیاروں میں سے 2 کو جے ایف 17تھنڈر نے نشانہ بنایا جن میں ایک رافیل بھی شامل تھا، باقی 3 رافیل سمیت 5 طیارے چین سے حاصل کئے گئے جے 10سی طیاروں نے گرائے، جے ایف 17تھنڈر نے اس جنگ کے دوران دو حیران کن زمینی حملے بھی کئے جن میں بھارت کے براہموس میزائلوں کے ایک اڈے اور روس سے حاصل کئے گئے فضائی دفاعی میزائل ایس 400 کے ایک یونٹ کو تباہ کر کے بھی اپنی دھاک بٹھا دی، یہی وجہ ہے کہ پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر خریدنے کے خواہشمند ممالک کی ایک لائن لگ گئی ہے۔
جے ایف 17تھنڈر بلاک تھری کی خریداری میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس میں تیجس کی طرح مختلف ممالک کے بھانت بھانت قسم کے پرزے، انجن اور اسلحہ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ صرف 2 ممالک چین اور پاکستان کی یہ ’’دیسی ٹیکنالوجی‘‘کا شاہکار ہے، اس خصوصیت کی وجہ سے عالمی خریداری کے کسی مرحلے پر ان طیاروں کی سپلائی میں امریکہ یا مغربی ممالک کی پابندیوں جیسی کوئی رکاوٹ پیش آنے کے امکانات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں پاکستان نے آذربائیجان کو 40 JF-17C بلاک III طیارے فروخت کرنے کا معاہدہ حاصل کیا، جو 4.6 ارب ڈالر کے تاریخی دفاعی معاہدے کا حصہ تھا۔ اس کے بعد پاکستانی اسلحہ برآمدات کو ایک اور بڑی کامیابی اس وقت ملی جب رائٹرز نے 22 دسمبر کو رپورٹ کیا کہ پاکستان نے شمالی افریقی ملک لیبیا کے ایک طاقتور دھڑے کے ساتھ 4 سے 4.6 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ طے کر لیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مشرقی لیبیا کی حکمران لیبین نیشنل آرمی (LNA) کو 16 جے ایف 17 تھنڈر طیارے، 44 حیدر ٹینک، 12 سپر مشاق تربیتی طیارے،جنگی بحری جہاز اور دیگر فوجی سازوسامان فراہم کیا جائے گا۔
مشرقی و جنوبی لیبیا پر مشتمل ملک کے اس بڑے حصے کی قیادت فیلڈ مارشل خلیفہ حفطار کر رہے ہیں،پاکستان اور مشرقی لیبیا کا یہ دفاعی معاہدہ کسی عرب ملک کو پاکستان کی جانب سے 4.5جنریشن JF-17 تھنڈر لڑاکا طیارے کی پہلی فروخت ثابت ہوگا۔ رائٹرز کے مطابق پاکستان یہ جدید ترین طیارے، ٹینک اور جنگی بحری جہاز انتہائی تیز رفتاری سے صرف آئندہ ڈھائی برس میں سپلائی کرے گا، دنیا کے جدید طیاروں اور ٹینکوں کی اس قدر تیز رفتاری سے سپلائی کے معاہدے نے اسلحہ کی عالمی مارکیٹ میں ایک بھونچال کی کیفیت پیدا کر دی ہے، اس معاہدے پر عملدرآمد مکمل ہونے پر پاکستان عالمی اسلحہ مارکیٹ کے انتہائی موثر سپلائرز میں شامل ہو جائے گا کہ جن سے خریداری پر سپلائی انتہائی سرعت سے مکمل کی جاتی ہے اور کسی قسم کی پابندیوں کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔ اگر مشرقی لیبیا کی خلیفہ ہفطار حکومت کو ڈھائی برسوں کے اندر ایف 17تھنڈر بلاک تھری طیارے مل جاتے ہیں تو اسے مغربی لیبیا میں امریکہ و ترکی کی سرپرستی میں قائم طرابلس حکومت پر فضائی برتری حاصل ہو جائے گی، کیونکہ اتنے مختصر عرصے میں دنیا کا کوئی ملک ایسے جدید طیارے مغربی لیبیا کو فروخت نہیں کر سکتا۔ جدید JF-17C بلاک III طیارے AESA ریڈار سے لیس ہیں اور چین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے PL-15E میزائل استعمال کر سکتے ہیں یہی میزائل حالیہ پاک- بھارت جھڑپوں میں بھارتی رافیل طیاروں کو مار گرانے میں بھی استعمال ہوا۔ پاکستان کے جے ایف 17طیارے کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ طیارہ 2019 ء اور 2025 ء میں فضائی اور زمینی دونوں محاذوں پر جنگی آزمائش سے سرخرو ہو کر گزر چکا ہے اور افغانستان بارڈر پر دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بھی انتہائی موثر کارکردگی دکھا رہا ہے، اس لیئے یہ کہنا بے جا نہیں کہ عالمی مارکیٹ میں ساکھ کے حوالے سے پاکستان کا جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری طیارہ بھارت کے تیجس طیاروں سے کم از کم 10 سال آگے نکل چکا ہے۔ سعودی عرب میں Spears of Victory-2025 مشقوں کے دوران JF-17 طیاروں نے نان اسٹاپ پرواز کر کے اپنی طویل فاصلے کی پرواز کی صلاحیت بھی ثابت کر دی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عراق، مصر، سوڈان، انڈونیشیا، نائیجیریا، میانمار ، بنگلہ دیش اور تاجکستان سمیت دنیا کے کم از کم 7 ممالک جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری کی خریداری میں دلچسپی لے رہے ہیں اور ممکنہ خریداری کے مختلف مراحل کی بات چیت جاری ہے۔پاکستان اور لیبیا کے دفاعی معاہدے کے حوالے سے کچھ مشکلات کا پاکستان کو سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ امریکہ اس کی شدید مخالف کرے گا، امریکی سرپرستی کی وجہ سے مغربی لیبیا کی طرابلس سرکار کو اقوام متحدہ نے تسلیم کر رکھا ہے اور مشرقی لیبیا کی بن غازی سرکار کے سربراہ فیلڈ مارشل خلیفہ ہفطار اقوام متحدہ کی نگاہوں میں ایک وار لارڈ” ہیں، امریکہ ماضی میں بھی لیبیا کی فضائیہ کو جدید بنانے کی کوشش کو ناکام بنا چکا ہے، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ لیبیا نے آخری بار اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کی کوشش 2000 کی دہائی کے آخر میں 2007 اور 2008, میں کی تھی، جب صدر معمر قذافی کی حکومت نے فرانس سے 14 رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا، مگر امریکی سرپرستی میں 2011 میں قذافی کا تختہ الٹے جانے اور ان کی ہلاکت نے یہ منصوبہ دفن کر دیا، فرانس کے سابق صدر نکولا سرکوزی کو اسی سال قذافی سے انتخابی فنڈنگ کے کیس میں سزا بھی ہوئی جو جدید ترین رافیل طیارے لیبیا کو فروخت کرنا چاہ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں