کچھ لوگ اس حد تک خود غرض ہوتے ہیں کہ اپنے لیئے دو چار کلو گرام گوشت حاصل کرنے کی خاطر اپنے دوست یا عزیز رشتے دار کی پوری بھینس ذبح کروا دیتے ہیں، کم و بیش یہی حالت ہمارے پی ٹی آئی کے کچھ رہنماں خاص طور پر وزیر اعلی خیبرپختونخوا جناب سہیل خان آفریدی صاحب اور ان کی کچن کیبنٹ کی ہے، شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کچھ یوٹیوبرز بھی اسی ذہنی کیفیت کا شکار ہیں جنہیں ہم انگریزی محاورے کے مطابق ’’ پوپ سے بھی زیادہ کیتھولک‘‘ قرار دے سکتے ہیں۔
سیاسی حوالے سے بہت سے دوسرے پاکستانیوں کی طرح ہم بھی پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی بہت سی پالیسیوں کے ناقد اور پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ملک میں حقیقی تبدیلی لانے کے بیانیہ کے حامی رہے ہیں لیکن دہشت گردی کے معاملے میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے جو بیانیہ اب پیش کیا جا رہا ہے وہ قرین انصاف نہیں، اس لیئے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کرنا ہمارا حق ہے اور آج یہ مقدمہ ہم 25 کروڑ پاکستانی عوام کی عدالت میں پیش کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی ہمدردی رکھنے کے باوجود ہم یہ توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ حکومت و اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے اختلافات کو اس حد تک نہیں بڑھانا چاہیئے کہ ملکی اور قومی مفاد کی ریڈ لائن ہی پار ہو جائے، افواج پاکستان کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری صاحب نے اپنی تازہ ترین پریس کانفرنس میں جو گفتگو کی ہے اسے آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ زیر اعلی (خیبرپختونخوا) فرما رہے ہیں کہ (ٹی ٹی پی دہشت گردوں سے ڈیل کیلئے) افغانستان ہماری مدد کرے، یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے، یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو کہ ہماری مدد کرے، وزیر اعلی کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، خیبرپختونخوا کے وزیراعلی کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا خوارج کے قدموں میں بیٹھنا ہے؟ کیا خارجی نور ولی محسود کو صوبے کا وزیر اعلی لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہیبت اللہ بتائیں گے کہ چارسدہ میں کیا ہوگا؟ ‘‘
پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور بانی چیئرمین کے حوالے سے افواج پاکستان کے ترجمان کو اس قدر تند و تیز لہجہ کیوں اختیار کرنا پڑا ہے، اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں، سب سے پہلی اور بڑی وجہ بانی پی ٹی آئی جناب عمران خان صاحب کا دہشت گردوں سے نمٹنے کے حوالے سے ایک اصولی موقف ہے کہ جس کی تشریح و تفسیر شیطان کی آنت کی طرح اب لمبی ہی ہوتی جا رہی ہے اور رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔
عمران خان کا موقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کرنے والے گروپوں کے ساتھ تاریخی تناظر میں بیٹھ کر معاملہ پرامن طور پر مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیئے، بانی پی ٹی آئی فرماتے ہیں کہ دہشت گردی کی اس نہ ختم ہونے والی جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں‘ بلاشبہ یہ موقف اپنے اندر ایک وزن رکھتا ہے، کیونکہ جنگیں ہوں یا پراکسی وارز، ان کا خاتمہ آخر کار میز پر بیٹھ کر مذاکرات کرنے سے ہی ہوتا ہے، لیکن ٹی ٹی پی دہشت گردوں کے ساتھ معاملات پرامن طور پر طے کرنے کا مرحلہ اسی وقت آ سکتا ہے کہ جب وہ بھی تنازع کو پرامن طور پر حل کرنا چاہیں اور (قانون و آئین کے تحت) جائز مطالبات کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئیں
سوال یہ ہے کہ اگر کالعدم ٹی ٹی پی مذاکرات کی میز پر آتی بھی ہے تو اس کا چارٹر آف ڈیمانڈ جس طرح کا انتہا پسندانہ ہے کیا پاکستان کے 25 کروڑ عوام، ہماری سول حکومت یا ہمارے عسکری ادارے ایسے مطالبات پر عملدرآمد کیلئے انسانی، اخلاقی، قانونی، جمہوری اور اسلامی حوالے سے مذاکرات کرنے کا کوئی آئینی حق رکھتے بھی ہیں یا نہیں؟
کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستان میں بھی طالبان رجیم جیسا نظام حکومت قائم کرنے کیلئے ہمارے 25 کروڑ عوام، سول حکومت اور عسکری ادارے بھی ٹی ٹی پی کی طرح ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کی بیعت کریں، پاکستانی خواتین کو گھروں تک محدود کر دیا جائے، ان کے تعلیم حاصل کرنے خاص طور پر اعلی اور پروفیشنل ایجوکیشن پر مکمل پابندی لگا دی جائے، ملک میں فقہ حنفی نافذ کر دیا جائے، 1973 ء کا آئین نئے سرے سے لکھا جائے، داڑھی، لباس، ٹوپی والے برقع سمیت وہی معیارات عام زندگی میں پورے 25 کروڑ پاکستانیوں پر بندوق کی نالی کے ذریعے مسلط کیئے جائیں جو افغانستان میں یہ مخصوص مکتبہ فکر نافذ کر چکا ہے، سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ پر پابندی لگا دی جائے، اور اسی قسم کا طالبانی اسلام دوسرے ممالک خاص طور پر ہمسایہ اسلامی ممالک ایران ، عراق، آذر بائیجان، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان، کرغزستان، قازقستان اور بنگلہ دیش میں بھی رائج کروانے کیلئے وہاں پاکستان اور افغانستان سے دہشت گرد تنظیمیں خفیہ طور پر بھجوائی جائیں اور انہیں پاکستان و افغانستان سے ہر طرح کی مالی، فوجی و دیگر لاجسٹک سپورٹ فراہم کی جائے، ہمسایہ اسلامی ممالک میں اس دہشت گردی کی جنگ کیلئے پاکستان و افغانستان میں دہشت گردی کے تربیتی کیمپوں کا جال پھیلا دیا جائے اور بڑی تعداد میں ننھے و معصوم طلبہ و طالبات کو برین واشنگ کرکے خود کش بمبار بنا کر مذکورہ اسلامی ممالک میں بھجوایا جائے، اور صرف اسی پر بس نہ کیا جائے بلکہ دہشت گردی کی اس جنگ کا دائرہ کار چین کے صوبے سنکیانگ کے مسلم علاقوں اور چیچنیا، داغستان، تاتارستان سمیت روس کی مسلم آبادی والی تمام ریاستوں تک بھی پھیلا دیا جائے، لیکن ساتھ میں اس شرط پر بھی سختی سے عمل کیا جائے کہ پاکستان و افغانستان کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کی تحریک کی کسی قسم کی کوئی اخلاقی، سیاسی، سفارتی اور عسکری سپورٹ نہیں کی جائے گی اور مودی سرکار اور انتہا پسند بی جے پی، شیو سینا، بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے غنڈوں کی طرف سے 20 کروڑ بھارتی مسلمانوں کے بار بار قتل عام کے واقعات اور مسلم کش فسادات پر مکمل خاموشی اختیار رکھی جائے گی اور وہاں مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کو جس بے رحمی سے بھی لوٹا جائے اسے بھارت کا اندرونی معاملہ ہی قرار دیا جاتا رہے گا۔کیا فرماتے ہیں ہمارے ’’یوپ سے بھی زیادہ کیتھولک یوٹیوبرز‘‘ بیچ اس مسئلے کے؟
(جاری ہے)