Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

ایران پر امریکی حملہ کیوں رکا؟

مشرق وسطیٰ میں تیسری عالمی جنگ کے آغاز کاتھیٹرتیارتھالیکن یہ تصادم آخری لمحات میں ٹل گیا، خطرہ اگرچہ مکمل ختم نہیں ہوا لیکن اس کا ٹل جانا ہی بڑی کامیابی ہے اور کامیابی کی چند دیگر اہم ترین وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیراورسعودی ولی عہد شہزادہ محمدبن سلمان کی مصالحانہ کاوشیں ہیں کہ جواس جنگ کو روکنے میں کلیدی کردارثابت ہوئیں، ان مصالحانہ کاوشوں کی تفصیل ہم زیرنظر کالم کی دوسری قسط میں بیان کریں گے لیکن پہلے کچھ ذکر ہو جائے کہ اس جنگ کے ٹل جانے سے دنیا میں اورخطے میں سکون کا سانس کیوں لیاجا رہا ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں بحیثیتِ انسان اور بحیثیتِ مسلمان اس بات پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ایک ایسی جنگ ٹل گئی جس کے شعلے صرف ایران یا اسرائیل تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا مشرقِ وسطی، جنوبی ایشیا اور عالمی معیشت اس کی لپیٹ میں آ سکتی تھی۔ لیکن شکرگزاری کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی پوری سنجیدگی سے اٹھانا لازم ہے کہ ایران پر امریکی حملہ کیوں رکا؟ یہ حملہ اگر نہیں ہوا تو کیا یہ خطرہ مستقل طور پر ٹل چکا ہے؟ یا خطرہ ابھی باقی ہے؟ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ بیان کہ کسی نے مجھے ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل نہیں کیا، میں نے خود اپنے آپ کو قائل کیا بظاہر ایک سادہ سا جملہ ہے، مگر اس کے پس منظر میں امریکی سیاست، ٹرمپ کی شخصیت اور عالمی طاقتوں کی شطرنجی چالیں پوری شدت سے کارفرما نظر آتی ہیں۔
ٹرمپ کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ بارہا اعلانات کے باوجود اچانک یوٹرن لینے میں دیر نہیں لگاتے۔ اس لیے یہ مان لینا کہ خطرہ ہمیشہ کے لیے ٹل گیا ہے، خود فریبی کے مترادف ہوگا۔ٹرمپ نے ایران میں مبینہ طور پر 800 افراد کی متوقع پھانسیوں کا ذکر کرتے ہوئے اسے اپنے فیصلے سے جوڑا اور یہاں تک کہا کہ ایرانی قیادت نے پھانسیاں روک کر مثبت پیغام دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی انسانی ہمدردی امریکی جنگی فیصلوں کا محرک بنتی ہے؟ عراق، افغانستان، لیبیا اور شام کی تاریخ اس دعوے کی نفی کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی حقوق اکثر امریکی بیانیے میں جنگ کا جواز بنتے ہیں، جنگ روکنے کی اصل وجہ شاذ و نادر ہی بنتے ہیں۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمزکی رپورٹ ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ایران پر حملہ مخر کرنے کی درخواست کی، یہ رپورٹ اس پوری کہانی میں ایک اور اہم پرت کا اضافہ کرتی ہے۔ اسرائیل، جو عمومی طور پر ایران کے خلاف کسی بھی عسکری کارروائی کا سب سے بڑا داعی رہا ہے، اگر وہی پیچھے ہٹنے کا مشورہ دے رہا ہو تو اس کا مطلب صاف ہے کہ میدان میں کچھ ایسا بدل چکا ہے جس نے طاقت کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اسی ایک ہفتے کے دوران وہ اطلاعات بھی سامنے آئیں جن کے مطابق روس، چین اور شمالی کوریا نے ایران کو جدید میزائل ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیت فراہم کر دی ہے۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران اب وہ ایران نہیں رہا جو چند سال قبل تھا۔ اسرائیلی فضائی برتری اور امریکی بحری بیڑے کا وہ خوف، جو دہائیوں سے خطے پر طاری تھا، پہلی بار حقیقی چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں سوال مزید گہرا ہو جاتا ہے: کیا امریکہ واقعی ایران پر براہِ راست حملہ برداشت کر سکتا تھا؟جواب شاید نہیں کے قریب تر ہے۔ کیونکہ اس جنگ کی صورت میں صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ خلیج میں موجود امریکی اڈے، بحری بیڑے اور عالمی تیل سپلائی لائنز براہِ راست نشانے پر آ سکتی تھیں۔
ایک محدود حملہ بھی پورے خطے کو آگ میں جھونک سکتا تھا۔اسی تناظر میں امریکہ کی جانب سے ایک متبادل حکمتِ عملی زیرِ غور ہونے کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں، یعنی پراکسی وار، شمالی ایران میں کرد گروہ، مغربی ایران میں عرب نسلی قبائل اور جنوب مشرقی ایران میں بلوچ علیحدگی پسند عناصر، یہ سب پرانے مہرے ہیں جن کو اب نئے انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے، انہی مہروں کو ماضی میں بھی استعمال کیا جا چکا ہے۔ براہِ راست جنگ کے بجائے اندرونی عدم استحکام پیدا کرنا امریکی پالیسی کا آزمودہ نسخہ رہا ہے۔اسی دوران ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی: ایران کا چاہ بہار بندرگاہ منصوبے میں بھارت سے عملی علیحدگی کا اعلان، امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد بھارت نے نہ صرف پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا بلکہ اپنی طے شدہ سرمایہ کاری بھی ادا کر کے خود کو اس منصوبے سے الگ کر لیا۔ یہ بھارت کے لیے ایک بڑا اسٹرٹیجک دھچکا ہے اور اس بات کا واضح ثبوت ہےکہ امریکی دبا کس حد تک موثر ثابت ہو رہا ہے۔یہ تمام عوامل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایران پر حملہ محض ایک جذباتی یا وقتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی اسٹرٹیجک تیاری کا حصہ تھا، جسے حالات نے وقتی طور پر روک دیا۔لیکن سوال بدستور اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ خطرہ واقعی ختم ہو چکا ہے، یا صرف موخر ہوا ہے؟
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں