Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

پنجاب کی ٹیل پر عجیب مناظر

(گزشتہ سے پیوستہ)
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور ہر کام پر پیشگی گہری نظر رکھنے والی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سوشیو اکنامک رجسٹری سروےکا ڈیٹا بنک تیار کرنے کا کام 92 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ یہ سروے رمضان المبارک کی آمد سے قبل تیز رفتاری سے مکمل کیا جائےکیونکہ صوبے کے مستحق افراد کو رمضان پیکج اسی سروےمیں اہلیت کی بنیاد پردیاجائےگا، مریم نوازشریف نے ہدایت کی ہے کہ مستحق افراد میں رمضان راشن تقسیم کرنےکی بجائے مستحقین کے بنک اکائونٹس میں رقم منتقل کی جائے گی تاکہ کسی قسم کی بدانتظامی یا کرپشن کا کوئی چانس ہی نہ رہے، اور صوبے کے انتہائی کم آمدنی والے ضرورت مند اہل وطن رمضان المبارک کی برکتوں خصوصی طور پر سحر وافطار سےاپنی سہولت اورمرضی کے مطابق لطف اندوز ہو سکیں۔ رمضان پیکج کے تحت ضرورت مند ڈیکلیئر ہونےکی خوشخبری ہمیں ڈپٹی کمشنر رحیم یارخان ظہیر انور جپہ نے اپنے آفس میں رحیم یارخان پریس کلب کے عہدیداروں کےوفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے دی، ایک اور بڑی خبر اس گفتگو کے دوران یہ سامنے آئی کہ پاکستان کے سٹاکسٹوں اور کارٹلز نے 2100روپے من گندم خرید کر اس کی قیمت چار پانچ ہزار روپے من تک پہنچا کر کاشتکاروں اورعوام دونوں کوجس طرح ’’دونوں ہاتھوں‘‘سے لوٹا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب گندم کی موجودہ فصل کی خریداری اورسال بھر آٹےاورگندم کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کے ایشو میں اس بارخصوصی دلچسپی لے رہی ہیں اور نہ صرف بہت جلد انتظامیہ کا ڈنڈا حرکت میں آئے گا بلکہ اگلے سال کی گندم خریداری کے لئے اس بار ایک نیا تجربہ کیاجا رہا ہے جس کے تحت سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ رحیم یارخان پریس کلب کے نومنتخب عہدیداروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ظہیر انور جپہ نے بتایاکہ وزیراعلیٰ پنجاب نےتھرڈ پارٹی کےذریعے کاشت کاروں سے گندم کی سرکاری نرخوں پر خریداری یقینی بنانے کا جو نیا سسٹم دیا ہے اس کا دوہرا فائدہ ہو گا، ایک تو عوام کے ٹیکس کے اربوں روپے ضائع ہونے سے بچائے جا سکیں گےجو صوبائی محکمہ خوراک کو ہر سال سود کی مد میں بنکوں کو ادا کرنے پڑتے تھے، دوسرے ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کسان کو ان کی فصل کا پورا معاوضہ ملے اور سال کے 12 مہینے عوام کو آٹا کی فروخت کے دوران دو ڈھائی گنا خوفناک منافع کمانے کا ڈاکہ بھی نہ ڈالا جاسکے۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے کاشتکاروں کے حقوق کے تحفظ سے لے کر ترقیاتی منصوبوں تک قانون کے انتہائی سختی سے نفاذ کے حوالے سے زیرو ٹالرینس کا حکم دے رکھا ہے اور اس حکم پر پوری اسپرٹ کے ساتھ عمل کیا جا رہا ہے، جو افسر یا اہلکار اپنی ڈیوٹی انجام نہیں دے گا، جو ٹھیکیدار غیرمعیاری کام کرے گا اور جو شہری قانون کی خلاف ورزی کرے گا وہ جیل کی ہوا ضرور کھائے گا، ظہیر انور جپہ نے کہا کہ ہم اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ لانے کی بات تو کرتے ہیں لیکن قانون پر عملدرآمد کو مشقت سمجھتے ہیں، 77 برسوں میں یہ کلچر سوسائٹی میں اتنا رچ بس گیا ہے کہ اب جب وزیر اعلیٰ پنجاب نے صوبے میں تعمیر و ترقی اور قانون کی مکمل پاسداری یقینی بنانے کے لئے غیر مقبول لیکن تاریخی فیصلہ کیا ہے تو اس پر کچھ لوگ شور بھی مچا رہے ہیں لیکن عوام کی اکثریت امن و امان اور تعمیر و ترقی کے ایشوز پر زیرو ٹالرینس کی اس پالیسی سے خوش ہے کیونکہ صوبہ اب اس پٹڑی پر چڑھ رہا ہےجو ترقی یافتہ معاشرے کی طرف تیز رفتار سفر کا آغاز ہے، رحیم یارخان شہرمیں میگا سیوریج کے مسائل کے حوالے سےڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ میگا سیوریج کی لائنوں اور مین ہولز میں دس دس بارہ بارہ فٹ تک مٹی، پتھر اور گار جمع تھی کیونکہ مدت سے ان کی صفائی نہیں کی گئی تھی، اب ہم دن رات ایک کرکے یہ صفائی کروا رہے ہیں شہر کی مین سیوریج لائنوں کی بڑی تعداد کی صفائی ہو چکی ہے، کچھ علاقوں میں صورتحال ابھی تک ناگفتہ بہ ہےلیکن یہ ایریا بھی اگلے ایک ڈیڑھ ہفتے میں کلیئر ہو جائےگا۔
اربوں روپے سے تعمیر ہونے والے رحیم یارخان میگا سیورج پراجیکٹ کے مسائل کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ چھ چھ فٹ کی پائپ لائنیں شہر کی مین سڑکوں کے درمیان میں ڈال دی گئیں،ظہیر انورجپہ نے یہ خوشخبری بھی دی کہ اب چیف سیکرٹری پنجاب نے حکم دیدیا کہ آئندہ پورے صوبے میں کوئی مین پائپ لائن سڑک کے درمیان میں نہیں ڈالی جائے گی، اور یہ کہ رحیم یارخان کے میگا سیوریج کی میجراوورہالنگ کےلئے وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی دلچسپی سے اربوں روپے کے ترقیاتی پراجیکٹ پر 2026ء میں ہی کام شروع ہونےجارہاہے، جس سے رحیم یارخان کو ماڈل سٹی بنانے میں بڑی مددملےگی، انہوں نےایک اوربڑی اچھی خبریہ سنائی کہ صوبے کا اربوں کھربوں روپے کےترقیاتی بجٹ ’’بکھیر‘‘دینےکی بجائے اب ہر سال باری باری بارہ بارہ اضلاع میں کم و بیش تیس تیس ارب روپے خرچ کیا جائے گا اور اس دوران جو قصبہ ،گائوں اورشہر منتخب ہوگا اس میں تمام ترقیاتی کام ایک ساتھ مکمل کئےجائیں گے، اس فارمولے کا فائدہ یہ ہو گا اس گائوں، قصبے، شہر میں اگلے پانچ دس برسوں تک کسی محکمے کو ترقیاتی کام کیلئے نئی اکھاڑ پچھاڑ کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ضلع رحیم یارخان میں نہروں کے کنارے درخت لگانے اور صادق آباد کے ولہار جنگل میں شجر کاری کی بھی ڈپٹی کمشنر نےخوشخبری دی اورکہا کہ وہ اس سلسلے میں جلد لیاقت پور کے قاسم والا جنگل کا دورہ بھی کریں گے، رحیم یارخان پریس کلب کے صدر کی دعوت پرظہیر انور جپہ نےجلد کلب کا دورہ کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ شہریوں اور میڈیا کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنا ان کی پیشہ ورانہ خدمات کا حصہ ہے انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے کیریئر میں بطور ڈائریکٹر انٹی کرپشن بھی خدمات انجام دے چکے ہیں اس لئے کرپشن کی شکایات میں حقیقی کرپشن اور ’’درخواست بازی‘‘دونوں کے فرق سے بخوبی آگاہ ہیں اور بدانتظامی و کرپشن پر ان کے ہاں زیرو ٹالرینس ہے، رحیم یارخان پریس کلب کےوفدمیں سرپرست اعلیٰ،صدر،جنرل سیکرٹری، سینئر نائب صدر، نائب صدر،ایڈیشنل جنرل سیکرٹری، جوائنٹ سیکرٹری،فنانس سیکرٹری اورایگزیکٹوممبران شامل تھے، میڈیا کے ساتھ ڈپٹی کمشنرکا یہ مکالمہ کم و بیش ایک ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا۔اس محفل نے پنجاب کی ٹیل پرترقیاتی کاموں کی ’’خشک سالی‘‘ختم ہونے کی نوید دی جس پر میڈیا کے تمام دوست بہت مطمئن اور خوش دکھائی دیئے۔

یہ بھی پڑھیں