پاکستانی سیاست بھی کسی فلم انڈسٹری سے کم نہیں، اس لئے ہمارے ہاں ’’نوری نت‘‘ جیسے کرداروں کی کوئی کمی نہیں، یہ کردار کم و بیش ہر صوبے، ہر ضلعے اور ہر تحصیل میں کسی نہ کسی شکل میں ضرور پائے جاتے ہیں۔ جس طرح فلم کے پہلے دو ڈھائی گھنٹے نوری نتوں کے انداز قابل دید اور ڈائیلاگ لرزہ طاری کر دینے والے ہوتے ہیں، انتخابی سیاست میں بھی اکثر ایسا ہو جاتا ہے لیکن جب ’’مولا جٹ‘‘حرکت میں آتا ہے اور فلم کا آخری گھنٹہ شروع ہوتا ہے ’’نوری نتوں‘‘ کی حالت زار دیکھ کر لوگ عبرت پکڑتے ہیں۔ قومی سطح پر عمران خان ’’نوری نت‘‘والا یہ کردار بڑے بہترین انداز میں انجام دے رہے ہیں اور ان کی پارٹی کی حالت یہ ہے کہ 8 فروری کے احتجاج کی تیاریاں شروع کرنے سے پہلے ہی قیادت کا سانس پھول گیا ہے، اسے ہم حالات کی ستم ظریفی ہی کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان جیسے ممالک میں سیاسی جماعتوں کی تشکیل اور ان کے عروج و زوال میں ملکی اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہمیشہ کلیدی رہا ہے، قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ہی یہ طے کر لیا گیا تھا کہ ملکی باگ ڈور آئے روز وفاداریاں تبدیل کرنے والے سیاستدانوں کے حوالے نہیں کی جا سکتی، اس لئے اسٹیبلشمنٹ نے ملکی سیاست میں ’’ہارڈ کور‘‘ یعنی کھجور اور بیر جیسے پھلوں کی ’’گٹھلی‘‘ والی حیثیت اختیار کر لی اور سات عشرے گزر چکے ہیں اس ’’ہارڈ کور‘‘کو جس کسی نے ’’چبانے‘‘کی کوشش کی اس کی بتیسی ہل گئی یا دانت ٹوٹ گئے، اس حوالے سے تازہ ترین کوشش پاکستان تحریک انصاف والوں نے کی لیکن نتیجہ وہی رہا، یعنی ڈھاک کے تین پات۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن انتہائی خاموشی اور مستقل مزاجی کے ساتھ اگلے عام انتخابات کی ’’تیاریاں‘‘کر رہی ہے جو ممکنہ طور پر 2029 ء کے شروع میں ہی ہوں گے، اس سے قبل جن حلقوں سے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی سزا یافتہ ہونے کے باعث نااہل قرار پا گئے وہاں ضمنی الیکشن بھی ہو سکتا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان کی مرکزی قیادت مسلسل دو الیکشن ہارنے والے حلقوں میں پارٹی امیدوار تبدیل کر رہی ہے اور اس حوالے سے پچھلے 45 سالہ انتخابی ریکارڈ کی روشنی میں انتخابی شطرنج کے مہرے از سر نو ’’سیٹ‘‘کئے جا رہے ہیں، ن لیگی قیادت کی یہ دوراندیشی پارٹی کے ان ’’نوری نتوں‘‘کو ہضم نہیں ہو رہی جن کی ’’ن لیگیت‘‘ اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے اور اپنی ذات پر ہی ختم ہو جاتی ہے، یعنی پارٹی انہیں ان کی مرضی کے ’’اوپن پارٹی ٹکٹ‘‘ پیش کر دے تو وہ ن لیگ کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑتے ہیں اور اگر پارٹی قیادت کی طرف سے ٹکٹوں کی ’’الاٹمنٹ‘‘میں ان کی ضد یا مرضی و منشا کی غیر مشروط ’’اطاعت‘‘نہ کی جائے تو پھر بھاڑ میں گئی ’’ن لیگ‘‘ یہ ’’نوری نت‘‘ فوراً پیپلز پارٹی کے ٹکٹ کے لئے اپلائی کر دیتے ہیں یا تحریک انصاف کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کوشاں دکھائی دیتے ہیں، اگر اس میں بھی ناکام رہیں تو پھر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ کر ن لیگ کے ووٹ بنک کو تقسیم کر کے پارٹی قائد میاں محمد نواز شریف اور پارٹی صدر میاں محمد شہباز شریف کے فیصلوں کو غلط ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ ’’نوری نتوں‘‘ کو اپنی پارٹی کی مرکزی قیادت کی عزت سے کھیلنے کا جو زعم ہے، اس کلچر سے ن لیگ کی طرح پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی بھی ’’مالا مال‘‘ہیں، ایک اور دلچسپ صورتحال ان نوری نتوں کی دلچسپ فرمائشیں ہوتی ہیں، وہ پارٹی کے دور حکومت کے پورے پانچ سال کھیلنے کو چاند مانگتے ہیں، اور جونہی عام انتخابات کا وقت قریب آتا ہے پانچ سال کھیلنے کے لئے ’’چاند‘‘دینے والی پارٹی قیادت کی عزت و حرمت ’’ماند‘‘کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ’’انوکھے لاڈلے‘‘جو ہوئے۔ لیکن کب تک ؟ یہ باغیانہ بلیک میلنگ عرصہ دراز تک برداشت کی جاتی رہی لیکن جب سے پنجاب کی آئرن لیڈی مریم نواز شریف نے صوبے میں پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی ہے، نوری نتوں کی طبیعت صاف کرنے کا خصوصی اہتمام کیا جا رہا ہے، چاہے ان کا تعلق اپوزیشن سے ہو یا خود حکومتی جماعت سے یا قومی سیاست سے ہو یا مقامی سیاست سے ۔ سب کونکیل ڈالی جا رہی ہے، نوری نتوں کی ذاتی ووٹ بنک والی منطق بھی بڑی عجیب ہوتی ہے۔
لوگوں کے کام قومی و صوبائی حکومتوں کی پاور کے مرہون منت، انتظامیہ کی طرف سے تمام لاڈ اور ناز نخرے اٹھانے اور ترقیاتی کاموں کی بہار بھی اسی حکومتی طاقت کا سرچشمہ اور ان دونوں خدمات کے صلے میں حلقے کے ووٹرز کی طرف سے جو عوامی حمایت حاصل ہوتی ہے اسے یہ ’’نوری نت‘‘پارٹی سے وفاداری کی بجائے اپنی ذاتی وفاداری میں بدلنے کیلئے بضد رہتے ہیں اور اسی بنیاد پر پانچ سال غیر منصفانہ فیصلے کرتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں پارٹی کے بھاری ووٹ بنک والے حلقوں میں نفرت و بغاوت جنم لیتی ہے اور پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے، اس صورتحال کی ایک دلچسپ مثال قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر چوہدری محمد جعفر اقبال کا حلقہ انتخاب ہے۔ اس انتخابی حلقے کا موجودہ نام این اے 172 ہے، 1980 ء اور 1990 ء کے عشروں میں ن لیگ مسلسل یہاں سے جیتا کرتی تھی، ان نو دس برسوں کے چاروں عام انتخابات میں ہر بار یہ ہوا کہ پورے ملک سے چاہے ن لیگ جیتے یا پیپلز پارٹی، یہ پہلے سے سے کنفرم ہوتا تھا کہ صوبے کے کچھ خاص حلقوں کی طرح رحیم یارخان ضلعی ہیڈکوارٹرز والی قومی و صوبائی نشستیں بھی لازمی طور پر ن لیگ ہی جیتے گی اور ہر بار ایسا ہی ہوتا رہا۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے 2000 ء کے عشرے میں جو پولیٹیکل انجینئرنگ کی اس کی وجہ سے ملک بھر میں کئی مزید ’’نوری نت‘‘پیدا ہو گئے کچھ ایسی ہی صورت حال ضلع رحیم یار خان میں بھی بنی، لیکن اب جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تاریخی طور پر ن لیگی کہلانے والے تمام انتخابی حلقے واپس لینے کی سیاسی پلاننگ شروع کر رکھی ہے این اے 172 میں چوہدری جعفر اقبال کو17برسوں بعد ان کا وہ حق واپس مل گیا ہے کہ جو پرویز مشرف کی پولیٹیکل انجینئرنگ اور اس سے پیدا ہونے والے نوری نت کلچر نے بلڈوز کر دیا تھا، چوہدری جعفر اقبال کو جب سے پارٹی نے اگلے عام انتخابات کے لئے قومی اسمبلی کا امیدوار نامزد کیا ہے، پرانے ن لیگی ہیوی ویٹس بڑی تعداد میں حکومتی جماعت میں واپس آ رہے ہیں، جہاندیدہ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی یہ دور اندیشی اگلے عام انتخابات تک صوبے میں قومی اسمبلی کے بہت سے حلقوں میں ’’ریورس انجینئرنگ‘‘کا باعث بن سکتی ہے، واللہ اعلم باالصواب