جس طرح کووڈ 19 وائرس کے بارے میں آج تک ابہام ہے کہ یہ دنیا کے کس ملک میں سب سے پہلے انسانوں میں منتقل ہوا اور وبا کی صورت اختیار کر گیا اسی طرح کا معاملہ نیپاہ (Nipah) وائرس کا بھی ہے، کووڈ 19 کو سب سے پہلے چین نے دریافت کیا اس لیئے یہ چین کے کھاتےمیں پڑ گیا اسی طرح نیپاہ وائرس کو سب سے پہلے سنگاپور اورملائشیا نے ملائیشیا کے ایک گائوں Sungai Nipah سے دریافت کیااس لیئے اس کا نام اس گائوں کےحوالے سے نیپا (Nipah) وائرس رکھ دیا گیا۔ لیکن بعد کے واقعات سے انکشاف ہوا کہ نیپاہ وائرس کے سب سے زیادہ کیسز شمال مشرقی بھارت میں سامنے آئے جنہیں بھارت نے اپنی بدنامی کے ڈر سے دنیا سے چھپایا اور پھر یہ وائرس شمال مشرقی بھارت سے مشرقی ایشیا کے ممالک تک جا پہنچا۔ اس حوالے سے دنیا کےبہت سےطبی ماہرین اورمیڈیا ادارے اس وائرس کو انڈین وائرس یا انڈیا وائرس کہتے ہیں۔
انڈیا وائرس دنیا کے لئےکتنا بڑا خطرہ ہےاور بھارت اس خطرے کودنیا کی نظروں سے پوشیدہ رکھ کر کس طرح انسانیت کیخلاف سنگین جرم کامرتکب ہورہاہے،یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ اس کم و بیش ناقابل علاج وائرس کے تصدیق شدہ کیسز بھارت میں سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ اسی سال فروری مارچ 2026 میں سری لنکا اور بھارت میں کرکٹ کا ٹی 20 ورلڈ کپ منعقد ہونےجا رہا ہے جس میں دنیائے کرکٹ کی تمام مایہ ناز ٹیمیں شریک ہوں گی اور دنیا بھرسےلاکھوں شائقین کرکٹ یہ میچز دیکھنے بھارت اور سری لنکا آئیں گے جس کی وجہ سے اس مہلک وائرس کے کسی تیز رفتار وبا کی اسپیڈ سے پوری دنیا میں پھیلنے کا خطرہ ہے۔ ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ 2026 کا افتتاحی میچ 7 فروری 2026 کو کھیلا جائے گا اور فائنل 8 مارچ 2026 کو ہوگا۔
29 جنوری 2026 کی صبح بھارت کی صحت کےمحاذپراس وقت کھلبلی مچ گئی جب مغربی بنگال میں انڈیا وائرس کے نئے کیسز کی تصدیق ہوئی۔ امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (CDC) اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، Indian Virus کی شرح اموات %40 سے %75 کے درمیان ہے، جو اسے COVID-19 سے کئی گنا زیادہ جان لیوا بناتی ہے۔ اس وائرس کا تاحال نہ تو کوئی مخصوص علاج دریافت ہوا ہے اور نہ ہی کوئی ویکسین تیار کی جا سکی ہے، جس کی وجہ سے طبی ماہرین اسے دنیائے انسانیت کے لیےاب تک کا سب سے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
مغربی بنگال کے ہسپتالوں سے آنے والی اطلاعات جن کو الجزیرہ (Al Jazeera) نے رپورٹ کیا ہے کے مطابق اب تک اس وائرس کے کم از کم پانچ تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں طبی عملہ نرسیں بھی شامل ہے۔ ایک نرس کی حالت تو انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے، انڈیا وائرس سے متاثرہ 100 سے زائد مریضوں کو ہائی الرٹ قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ Indian Virus اب انسان سے انسان میں تیزی کے ساتھ منتقل ہو رہا ہے۔
دی نیویارک ٹائمز (The New York Times) نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں اس صورتحال کو 2019 کے اواخر کی یاد دلانے والا قراردیا ہے،جب کورونا وائرس کے ابتدائی کیسز کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کیا گیا تھا۔ چین کی حکومت نے بھارت میں Indian Virus کے پھیلائو پر ہائی الرٹ جاری کر دیاہے، چین کے بڑے اخبارات ساتھ چائنا مارننگ پوسٹ (SCMP) اور China Daily کے مطابق چینی حکام نئے قمری سال کی چھٹیوں سے قبل شدید تشویش کا شکار ہیں اورانہوں نے بھارت اوراس سےمتصل مشرقی ایشیائی ممالک کےساتھ سرحدی نگرانی سخت کر دی ہے تاکہ اس مہلک وائرس کو چین میں داخل ہونےسےروکاجاسکے۔
دنیابھر میں کرکٹ کےمداح اور ESPN جیسے عالمی ادارے آئی سی سی (ICC) سے مطالبہ کررہےہیں کہ Indian Virus کی تصدیق شدہ موجودگی سامنے آ جانے کے بعد کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کرکٹ کی زندگیوں پر جوا نہ کھیلا جائے، ابتدائی تحقیق کے مطابق یہ وائرس جتنا مہلک ہے اورجس تیزی سے پھیلتا ہےاسےدیکھتے ہوئے یہ خطرہ بےجا نہیں کہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران بھارت کے کرکٹ اسٹیڈیمز کھیلوں کے میدان کی بجائے ہسپتالوں کے وارڈز میں نہ بدل جائیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت آنے جانے والی بڑے پیمانے کی بین الاقوامی پروازوں اور کرکٹ جیسے بڑے اجتماعات کو نہ روکا گیا تو یہ Indian Virus انتہائی تیز رفتاری سے ایک ملک سے دوسرے ملک میں وبا کی صورت منتقل ہو سکتا ہے۔
انڈیا وائرس پھیپھڑوں کے ذریعے جسم میں داخل ہونے کی بجائے براہ راست انسانی دماغ پر حملہ کرتا ہےجس کےباعث انسیفلائٹس (دماغی سوزش) جیسے مہلک اثرات کھلاڑیوں اور شائقین کی زندگیوں کو چند دنوں کے اندر براہِ راست خطرے میں ڈال دیں گے۔
سی این این (CNN) کی ایک رپورٹ کے مطابق، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور سنگاپور نے پہلے ہی بھارت سے آنے والے مسافروں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے سخت اسکریننگ شروع کر دی ہے۔ تائیوان نے اس وائرس کو ‘کیٹیگری 5’ کا شدید ترین خطرہ قرار دیا ہے، جو کہ عام طور پر جنگی حالات یا انتہائی مہلک وبا کے دوران نافذ کیا جاتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ (The Washington Post) کے مطابق، بھارت میں صحت کا نظام اس وقت شدید دبائو میں ہے اور مقامی ذرائع کیسز کی تعدادچھپا رہے ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس سےکہیں زیادہ خوفناک ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے اس وائرس کو اپنی “Priority Pathogen” لسٹ میں شامل کر رکھا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ وائرس دنیا کی اگلی سب سے بڑی وبا بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق انڈیا وائرس چمگادڑوں سے جنگلی سوروں اور پھر انسانوں میں پھیلا، بھارت کی وسطی و مشرقی ریاستوں میں جنگلی سوروں اور چمگادڑوں کی بہتات ہے،اور ابتدائی طور پرجو کیسز سامنے آئےان میں دیہاتیوں میں اس وائرس کی موجودگی زیادہ پائی گئی، چمگادڑ زیادہ تر پھل دار درختوں سے اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں اس لیئے کیلا، کینو، امرود جیسے باغات میں کام کرنے والے یا جنگلات اور گنے کے کھیتوں کی لیبر اس وائرس کا ابتدائی شکار بن رہی ہے جہاں جنگلی سوروں کی آمد و رفت زیادہ ہے۔ بھارت میں کمبھ میلا، بہار کے الیکشن میں بڑے عوامی اجتماعات اور مذہبی تقریبات میں دیہات کے عوام بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اس وائرس کے وسطی و شمال مشرقی ریاستوں چھتیس گڑھ، اڑیسہ ،جھاڑ کھنڈ ، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، اتر کھنڈ، بہار، ہماچل پردیش، مقبوضہ جموں و کشمیر، مشرقی پنجاب، دہلی، مغربی بنگال، آسام، میزورام، تری پورہ، منی پور، ناگا لینڈ اور اروناچل پردیش میں صورتحال زیادہ خراب ہے کیونکہ بہار ، مغربی بنگال، آسام اور شمال مشرقی ریاستوں میں چمگادڑوں اور جنگلی سوروں کی بہت بڑی تعداد ہےجبکہ شمالی اوروسطی بھارت میں جنگلی سوروں کی بہتات ہے، اور ان دونوں کی وجہ سے انڈیا وائرس اس پورے خطے میں تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔
ٹی 20 ورلڈکپ کےسیمی فائنل سمیت کل چارمیچ کلکتہ میں کھیلےجائیں گےجو انڈیا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ بھارتی ریاست کی راجدھانی ہے، چنائی اور نئی دہلی کے قرب و جوار کی ریاستیں بھی چمگادڑوں اور جنگلی سوروں کے ملاپ کی وجہ سےخطرے کے نشان میں ہیں۔ چنائی میں 7 اور نئی دہلی میں 6 میچ شیڈول ہیں۔
بھارت یوں تودنیا میں سب سےزیادہ ویکسین سپلائی کرنےوالاملک ہےاور اپنی فارما سیوٹیکل انڈسٹری پر فخر کرتا ہے لیکن حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سے اپنے ملک کے مہلک ترین وائرس کی ویکسین تیار کرنے اور عوام کو لگانے میں کوئی دلچسپی نہیں لی جا رہی، ان حالات میں یہ عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ ٹی 20 ورلڈ کپ کسی دوسرے ملک منتقل کروائے اور بھارت پر زور دے کہ پہلے وہ ملک گیر لیول پر اس بات کی اسکریننگ کرے کہ اب تک کتنے فیصد لوگ اس مہلک انڈیا وائرس سے متاثرہ ہو چکے ہیں۔