Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

تونسہ ایڈز سانحہ اور بی بی سی کی رپورٹ

بی بی سی دنیا کا ایک بڑا معتبر ادارہ ہے اس لیئے اس کی رپورٹ پر اعتماد کیا جاتا ہے ایسی معتبر ساکھ کی وجہ سے ذمے داری بھی بڑھ جاتی ہے لیکن تونسہ ایڈز سانحہ پر رپورٹ نے سنگین شکوک وشبہات کو جنم دیا ہے جن کی وضاحت ضروری ہے، بی بی سی آئی کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تونسہ کے تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال میں استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کی وجہ سے 331 بچوں میں ایچ آئی وی ایڈز کا مہلک مرض پھیلا، بظاہر یہ ایک تحقیقاتی رپورٹ ہے لیکن اس میں تمام تر فوکس صرف تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال تونسہ پر ہے اور جو فوٹیج سامنے لائی گئی ہے وہ بھی زیادہ تر ایسے اینگلز سے لی گئی ہے کہ اس میں انجکشن لگانے والے یا لگانے والی نرس یا ڈاکٹر کا چہرہ نظر نہیں آ رہا ، بی بی سی کی اپنی رپورٹ کے مطابق تونسہ میں نومبر 2024ء سے اکتوبر 2025ء کے درمیان 331 بچے ایچ آئی وی پازیٹو ہوئے لیکن یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ بی بی سی جیسے بڑے عالمی نشریاتی ادارے نے اتنی بڑی تحقیقاتی رپورٹ کو 6 ماہ تک کیوں روکے رکھا اور 14 اپریل 2026ء کو جا کر کیوں شائع کیا۔صحافتی دنیا میں کسی بھی رپورٹ کو شائع ہونے سے روکے رکھنا اور خاص طور پر اتنے طویل عرصہ تک شائع نہ کرنا یہ تصور کیا جاتا ہے کہ رپورٹر یا میڈیا ادارے کے لوگ اس دوران بلیک میلنگ یا بارگیننگ کرتے رہے اور جب اپنے مطلوبہ اہداف کے مطابق “ڈیل” فائنل نہ ہو سکی تو رپورٹ شائع کر دی گئی، بی بی سی نے اتنی دیر تک رپورٹ دبائے رکھنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی، یہ غیر معمولی تاخیر بی بی سی جیسے بڑے بین الاقوامی میڈیا ادارے کی ساکھ کیلئے بلاشبہ اندرونی انکوائری کا ایک مضبوط کیس ہے، اس لیئے اپنی صحافتی ساکھ کی بحالی کیلئے بی بی سی کے اعلیٰ حکام کو ایسی حساس نوعیت کی رپورٹ کی نشر و اشاعت میں اتنی زیادہ تاخیر کی انکوائری ضرور کرنی چاہیے اور معقول وضاحت پیش نہ کر سکنے پر متعلقہ رپورٹرز اور ایڈیٹوریل سٹاف کیخلاف ایکشن لینا چاہیے ، بی بی سی کی اس رپورٹ میں دوسرا غیر منطقی الزام یہ لگایا گیا ہےکہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈسپوزیبل سرنجیں ضرورت کے مطابق مہیا نہیں کی جاتیں جس کی وجہ سے طبی عملہ استعمال شدہ سرنجوں سے بار بار انجیکشن لگانے پر مجبور ہے، اگر اس الزام کو درست مان لیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایچ آئی وی پازیٹو کے کیسز صرف بچوں میں ہی کیوں سامنے آئے کیونکہ اگر استعمال شدہ سرنجیں ضرورت سے کم سپلائی کی جا رہی ہیں تو وہ ہر وارڈ کا مشترکہ مسئلہ ہوا بلکہ پورے پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کا مشترکہ مسئلہ ہوا، تو ایچ آئی وی پازیٹو کا سانحہ صرف تونسہ کے ایک مخصوص علاقے کی کچھ خاص یونین کونسلوں میں ہی کیوں پیش آیا؟ بی بی سی جیسے بڑے ادارے کو کم از کم 313 کیسز میں متاثرہ بچوں کے ایڈریس کا ڈیٹا بھی شامل کرنا چاہیے تھا تاکہ اندازہ لگایا جا سکتا کہ اس غفلت کی وجہ تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال ہے یا کچھ عطائی ڈاکٹرز جو تونسہ جیسے دور دراز علاقوں میں اکثر موت بانٹتے پائے جاتے ہیں، اگر متاثرہ بچوں کا تعلق پوری تحصیل تونسہ اور اس کے قریبی علاقوں سے ہے تو یہ شک پختہ ہو سکتا ہے کہ متاثرہ بچوں کو یہ مہلک وائرس تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال تونسہ کے چلڈرن وارڈ سے لگا، لیکن اگر متاثرہ بچے تحصیل تونسہ کے مخصوص علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں تو یہ واضح ہو جائے گا کہ ان ایریاز کے کچھ عطائی ڈاکٹرز اس سانحہ کے مرکزی ملزم ہیں، بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں متاثرہ بچوں کے ایڈریسز کی جانچ پڑتال کے ذریعے اس نشان دہی کو جان بوجھ کر چھپایا یا اس کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں گیا یہ واضح نہیں تاہم پنجاب حکومت کا اس حوالے سے جو موقف سامنے آیا ہے اس نے ایک پرانے ایشو کو مخصوص مقاصد کیلئے نئی سنسنی پھیلانے کیلئے استعمال کرنے کی افسوسناک حرکت کی قلعی کھول دی ہے۔ پنجاب حکومت نے تفصیلی وضاحت میں بتایا ہے کہ ڈی ایچ کیو ڈیرہ غازی خان میں مارچ 2025 میں تونسہ کے 11 مریضوں میں ایچ آئی وی انفیکشن کی تصدیق ہوئی۔ 25 مارچ 2025 کو عالمی ادارہ صحت، سی ایم یو، یو این ایڈ اور یونیسف کی شمولیت سے مشترکہ مشن تشکیل دیا گیا اور 50000 آبادی کی اسکریننگ کی گئی جو جنوری 2025 تک جاری رہی۔ اس کے نتیجے میں 7 یونین کونسلوں میں 334 ایڈز کے مریضوں کی تشخیص ہوئی، جن میں 331 مریضوں کی عمر 12 سال سے کم رپورٹ ہوئی۔ ٹی ایچ کیو ہسپتال تونسہ میں مارچ 2025 میں ایچ آئی وی ایڈز سکریننگ اور علاج کے لیے مستقل سینٹر قائم کیا گیا جو 5000 افراد کی اسکریننگ کر چکا ہے اور روزانہ بنیاد پر سکریننگ اور مستقل علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ صحت کے عالمی اداروں اور محکمہ صحت پنجاب کے مشترکہ مشن کے مطابق کیسز بڑھنے کی وجہ بغیر سکرین شدہ خون کا استعمال یا استعمال شدہ سرنج کے بار بار استعمال سے ممکن ہے جس کی وجہ سے مریضوں کا غیر معمولی کلسٹر رپورٹ ہوا۔ پنجاب حکومت کے وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں خودکار ضائع ہونے والی سرنجیں مہیا کی گئی ہیں۔ سرنج کا ایک بار استعمال کے بعد دوبارہ استعمال ممکن نہیں ہے۔ تونسہ میں مستقل بنیادوں پر جاری رہنے والی اسکریننگ کے نتیجے میں اپریل 2025 میں 82 اور مئی 2025 میں 95 کیسز رپورٹ ہوئے مگر ضروری اقدامات کے بعد ستمبر 2025 میں یہ صرف 4 کیسز رہ گئے۔ حکومت پنجاب نے مریضوں کے علاج کے لیے 240 علاج کلینک قائم کیے اور 19 ایچ آئی وی کلینک شروع کروائے۔بی بی سی کی اردو رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایڈز کنٹرول پروگرام کی سکریننگ کے بعد سامنے آنے والے کیسز کے پیش نظر 2024 اور 2025 کے لیے ایک ہنگامی منصوبہ بنایا گیا ہے جس میں احتیاطی اقدامات اور حفاظتی پلان شامل کیا جائے گا۔ پنجاب حکومت نے واضح کیا ہے کہ بی بی سی اردو کو حکومت کے جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیل مہیا کی گئی تھی جسے رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا یہ صحافتی اصولوں کے خلاف ہے۔ بی بی سی جیسے بڑے صحافتی ادارے کی طرف سے اس چھوٹی حرکت پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ ایک سانحہ جب اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا، اس کے چھ ماہ بعد اسے من گھڑت اور سنسنی خیز انداز میں رپورٹ کرنا صحافتی بددیانتی بھی ہے کہ ایسے انداز صحافت سے عوام میں غیر ضروری خوف و ہراس پھیلتا ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں علاج پر عام آدمی کا یقین متزلزل ہو جاتا ہےبی بی سی کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسکریننگ کے عمل کے دوران اس سانحہ سے متاثرہ یونین کونسلوں میں محکمہ صحت پنجاب نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے تعاون سے 240 عطائی کلینک سیل کیے اور 9 کیخلاف ایف آئی آرز بھی درج کی گئیں، صوبائی حکومت کی طرف سے اس سارے معاملے کو صحت کے عالمی اداروں کو آگاہ کرکے ان سب کی مشترکہ نگرانی میں حل کرنا اس حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی حکومت نے اس بڑے سانحہ سے نمٹنے کے دوران کسی بھی معاملے کو چھپانے کی کوشش نہیں کی اور جونہی یہ معاملہ سامنے آیا فوری طور پر تمام متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لے کر عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کی کوشش کی گئی، لیکن بی بی سی نے دو ڈھائی سال پرانے اس معاملے کو اب کیوں اٹھایا اور چھ ماہ تک اس رپورٹ کو روکے کیوں یہ رکھا اس سوال کے جواب کا انتظار رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں