Search
Close this search box.
منگل ,07 جولائی ,2026ء

پاکستان کے خلاف بڑھتی ہوئی دہشت گردی

اس وقت پاکستان میں ایک طرف معاشی حالات دگر گوں ہیں‘ تو دوسری طر ف دہشت گردی نے منظم طریقے سے سراٹھایا ہواہے۔ میر علی (شمالی وزیرستان) میں پاکستان کے جانباز سپاہیوں اور افسران نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے دہشت گردوں کی بڑی مذموم کارروائیوں کو ناکام بنادیا اور کئی دہشت گردوں کو واصل جہنم کردیاہے۔ اس ہی طرح بی ایل اے نے گزشتہ دنوں گوادر پورٹ اور اس سے ملحقہ کمپلیکس پرحملہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی اس کارروائی کوناکام بنادیا گیا‘ دہشت گردوں کو پسپائی اختیار کرنی پڑی‘ تاہم دوفوجی جواں دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اس ہی طرح پاکستان کے قریب واقع افغانی سرحدوں سے باقاعدہ حملہ کیاجارہاہے۔ جس میں ٹی ٹی پی کے علاوہ کئی پاکستان دشمن تنظیمیں شامل ہیں۔ پاکستان اس صورتحال کے پیش نظر سخت اضطراب میں مبتلا ہے۔ پاکستان کے دوست ممالک ہر طرح سے پاکستان کی اخلاقی اور مالی مدد کررہے ہیں۔لیکن ہمارا مسلمان پڑوسی ملک افغانستان‘ بھارت اور اسرائیل کے اشارے پر پاکستان کے خلاف کھل کر دہشت گردی کرا رہاہے۔ ایک طرف تو افغانستان کی حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ ہمارا ملک کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث نہیں ہے اور نہ ہی ہم نے کسی کو ایسا کرنے کی اجازت دی ہے۔ لیکن ان دعوئوں کی قلعی اور اس وقت کھل جاتی ہے جب ملا بہادر کے دہشت گرد شمالی وزیرستان میں پاکستان کی چیک پوسٹوں پر حملہ کرکے پاکستان کے فوجیوں کو شہید کرتے ہیں اور فرار ہوکر افغانستان میں پناہ لیتے ہیں۔
اس وقت افغانستان میں ایک اطلاع کے مطابق صوبہ پکتیا اور خوست میں تقریباً6000ہزار کے قریب ٹی ٹی پی کے دہشت گرد موجود ہیں‘ جو افغان حکومت کے زیراثر رہتے ہوئے پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کررہے ہیں۔ چنانچہ پاکستان کی ایئرفورس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ٹی ٹی پی اور ملابہادر کے ٹھکانوں پر فضائی حملہ کیا تھا اور افغانستان کو یہ باور کرایا تھا کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کوروکے ورنہ آئندہ بھی پاکستان اپنی بقا کے خاطر ایسا قدم اٹھاسکتاہے ۔ ہرچند کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم کرناچاہتاہے۔ لیکن افغانستان نے پاکستان کے اس پرخلوص جذبے کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا ہے۔ مزید برآں اس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت پاکستان کی وجہ سے قائم ہوئی ہے‘ ورنہ امریکہ یہاں سے کبھی نہیں جاتا‘ دوحہ مذاکرات میں پاکستان نے طالبان کا ساتھ دیاتھا‘ اور پاکستان ہی کی کوششوں سے امریکہ طالبان کے ساتھ بات کرنے پر رضامند ہوا تھا۔ دوحہ مذاکرات کی وجہ سے امریکہ نے افغانستان سے جانامنظور کرلیا‘ اس طرح طالبان کی حکومت قائم ہوگئی۔
طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد پاکستان کو یہ امیدتھی کہ اب اس کی مغربی سرحدیں محفو ظ ہوگئی ہیں۔ پاکستان کو امیدتھی کہ طالبان پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشت گردانہ کاروائیاں نہیں کریں گے طالبان نے دوحہ مذاکرات میں تحریری طور پر یہ لکھا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے سلسلے میں استعمال نہیں ہوگی۔ لیکن اب طالبان حکومت کی جانب سے جوکچھ ہورہاہے اس کی وجہ سے پاکستان کی حکومت اور عوام میں سخت غم وغصہ پایاجارہاہے۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان کو مجبور اً پاکستان میں موجود افغانیوں کو واپس ان کے وطن بھیجنا پڑاہے۔ پاکستان نے 30لاکھ افغانیوں کی کئی دہائیوں تک میزبانی کی اور انہیں عزت کے ساتھ رکھا‘ پاکستان میں رہنے والے افغانیوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات پڑے ہیں‘ بلکہ روزگار کے سلسلے میں پاکستان کے محنت کشوں کو سخت تکلیف اٹھانی پڑی ہے۔ افغانستان کی حکومت کو پاکستان کے عوام اور حکومت کی ان قربانیوں کو فراموش نہیں کرناچاہیے۔
چنانچہ افغان نگراں حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے سیاسی ومعاشی وسفارتی تعلقات کاازسرنو جائزہ لے کر حالات میں بہتری پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ یہ دونوں برادر ملک امن کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنے عوام کی معاشی زندگیوں میں بہتری لانے کی حکمت عملی پر گامزن ہوسکیں۔ دوسری طرف بلوچستان کی حکومت کو بی ایل اے کی پاکستان دشمن کارروائیوں کو روکنے کے سلسلے میں موثر کارورائی کرنے کی ضرورت ہے۔ جس میں stick & carrot دونوں سے کام لے کر بلوچستان کے عوام کو خوشحال معاشی زندگی کاعطیہ دینا چاہیے۔ اس ہی طریقہ کار سے ہم بلوچستان میں امن قائم کرسکتے ہیں اور گمراہ بی ایل اے کے دہشت گردوں کو راہ راست لاسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں