Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

مغربی فلسفہ و تہذیب اور مسلم امہ کا رد عمل

(گزشتہ سےپیوستہ)
پھر اہل السنۃ والجماعۃ نے تو اپنا تعارف ہی دنیا میں اس حوالہ سے کرایا کہ ہمارے نزدیک:
* خلافت نامزدگی کے ذریعے نہیں بلکہ مسلمانوں کی رائے سے قائم ہوتی ہے۔
* خلافت کسی خاندان کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔
* خلیفہ خدا کا نمائندہ نہیں ہوتا بلکہ رسولِ خدا کا نائب اور عوام کا نمائندہ ہوتا ہے۔
* خلیفہ معصوم نہیں ہوتا کہ اس کی ہر بات کو بلا چوں و چرا تسلیم کر لیا جائے۔
* خلیفہ عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے اور کسی بھی شہری کو اس سے جواب طلبی کا حق حاصل ہے۔
* خلیفہ مشاورت کے نظام کا پابند ہوتا ہے۔
لیکن ان واضح اور مسلمہ اصولوں کے باوجود ہمارے ہاں خلافتوں کا نظام خاندانی حکمرانی اور طاقت کے حوالے سے جاری و ساری رہا، حتیٰ کہ جب مغرب نے مذہب اور مذہبی پیشواؤں کے صدیوں کے جامد کردار کے رد عمل میں مذہب کا طوق گردن سے اتار پھینکا اور بادشاہت سے پیچھا چھڑا کر عوام کی رائے سے حکومت کی تشکیل کا راستہ اختیار کیا تو ہم نے دونوں کو ایک ہی زمرے میں شمار کرتے ہوئے مسترد کر دیا۔ حالانکہ یہ دو باتیں الگ الگ تھیں۔ مذہب کے اجتماعی و معاشرتی کردار کی نفی ایک مستقل مسئلہ ہے جس میں مغرب کا طرزعمل، ردعمل پر مبنی، انتہا پسندانہ اور انتقامی ہونے کی وجہ سے غلط ہے۔ لیکن یہ اصول کہ حکومت کی تشکیل عوام کی مرضی سے ہونی چاہیے اور حاکم وقت کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے، اس سے بالکل مختلف چیز ہے جو خالصتاً اسلامی اصول ہے۔ لیکن ہم چونکہ خود اپنی عملی زندگی میں اس اصول پر عمل پیرا نہیں رہے تھے، اس لیے ہم نے اس خالص اسلامی اصول اور خود اپنے پڑھائے ہوئے سبق کو بھی مغرب کی لادینیت کے کھاتے میں ڈال دینے میں عافیت محسوس کی۔ اور آج عالمی صورتحال یہ ہے کہ مغرب حکومت اور نظام کی تشکیل میں رائے عامہ کو اصل بنیاد قرار دینے کا علمبردار بنا ہوا ہے اور ہمارے ہاں عالم اسلام کی حکومتیں شخصی یا گروہی آمریتوں کی شکل میں اس کے مد مقابل کھڑی ہیں۔
اس مرحلہ میں مجھے مغرب کے جمہوری نظام کا تھوڑا سا تجزیہ کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے تاکہ اپنی گزارش کو زیادہ وضاحت کے ساتھ پیش کر سکوں۔ اس وقت مغرب کا جمہوری نظام تین اصولوں پر مبنی ہے:
(۱) حکومت و معاشرت کے اجتماعی شعبوں میں مذہب کا کوئی دخل نہیں اور مذہب خالصتاً ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے۔
(۲) دستور و قانون کی تشکیل خالصتاً عوام کا حق ہے اور ان کے منتخب نمائندے جو بھی طے کر لیں، وہی دستور اور قانون ہے۔ وہ اپنے فیصلوں یا قانون سازی میں آسمانی تعلیمات یا کسی قسم کی خارجی ہدایات کے پابند نہیں ہیں۔
(۳) حکومت کی تشکیل اور اس کی بقا عوام کی رائے اور مرضی پر موقوف ہے اور عوام کی مرضی یا قبولیت کے بغیر قائم ہونے والی کوئی حکومت جائز حکومت نہیں ہے۔
پہلے دو اصولوں کے غلط ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے، لیکن تیسرے اصول کو بھی ان کے ساتھ نتھی کر کے غلط قرار دے دیا جائے، اس میں مجھے اشکال ہے اور میں مسلم امہ کے اس مجموعی رد عمل کو درست سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوں، جو اس حوالے سے چند اہل دانش کے استثنا کے ساتھ اس سلسلے میں اب تک نظری اور عملی طور پر دنیا کے سامنے ہے۔ اس سلسلے میں میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ مغرب نے مطلق العنان بادشاہت کو مسترد کر کے عوام کی مرضی سے حکومت کی تشکیل کا اصول تو اسلام سے لیا لیکن چونکہ وہ رد عمل میں مذہب کے اجتماعی کردار کی بھی نفی کر چکا تھا، اس لیے اس کا خلا پر کرنے کے لیے اس نے پہلے دو اصول وضع کر کے انہیں اپنے سسٹم کی بنیاد بنا لیا۔
سائنس اور ٹیکنالوجی جو دراصل مغرب کے فلسفہ و تہذیب کے عروج و غلبہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اس کی اصل بنیاد اسپین ہے اور مسلم سائنس دانوں کی تعلیمات ہیں جس سے مغرب کے سنجیدہ دانشوروں کو بھی انکار نہیں ہے، لیکن اسپین سے مسلمانوں کی بے دخلی کے بعد ہم نے اس راہ میں پیشرفت ترک کر دی اور یہ محاذ مغرب نے سنبھال لیا۔ آج دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے جو ترقی و عروج ہے، اس میں اصل بنیاد مسلمان سائنس دان ہیں، لیکن محنت، دماغ سوزی، تحقیقات، تجربات اور مسلسل پیشرفت کا کریڈٹ مغرب کے پاس ہے اور اسی وجہ سے کنٹرول بھی اس کے ہاتھ میں ہے۔ ہماری بے بسی کا عالم یہ ہے کہ اب سے ایک صدی قبل عرب دنیا میں تیل کے ذخائر دریافت ہونے کا امکان نظر آیا تو ہماری سب سے بڑی حکومت ’’خلافت عثمانیہ‘‘ کے پاس تیل نکالنے، اسے صاف کرنے اور دنیا تک پہنچانے کی صلاحیت موجود نہیں تھی۔ چنانچہ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد ان کی جگہ لینے والی عرب علاقائی حکومتوں نے مغربی کمپنیوں کو تیل کے چشمے کھودنے، تیل کو ریفائن کرنے اور اسے دنیا کی مارکیٹ تک پہنچانے کے ٹھیکے دیے۔ وہ کمپنیاں عرب ممالک میں آئیں، ان کے پیچھے بینک آئے، تاجر آئے، پھر سفارت کار آئے اور سب کے بعد مغرب کی فوجیں وہاں آ کر تیل کے چشموں کے گرد گھیرا ڈالے بیٹھی ہیں۔
جبکہ عسکری سائنس اور صلاحیت کی صورتحال یہ ہے کہ پورے عالم اسلام میں صرف پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے اور وہ بھی مسلسل دھمکیوں، سازشوں اور نفرت انگیزی کی زد میں ہے۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں