جی ہاں صا حبو، یہ جو میں نے عنوان میں جمع اور واحد کا صیغہ الگ الگ استعما ل کیا ہے تواس کی وجہ یہ ہے کہ پریشان کرنے والی خبر یں دو ہیں جبکہ تسلی بخش خبر ایک ہے۔ تو پہلے پریشان کن خبر وں کا جا ئزہ لیتے ہو ئے عرض ہے کہ حکومت نے ایک ماہ میں دوسری بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 53 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 8روپے 14 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 293 روپے 94 پیسے جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 290 روپے 38 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے جو کم آمدنی والے طبقے کی قوت خرید سے تقریباً با ہر ہے۔ یکم اپریل کو بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں لگ بھگ دس روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ گو کہ اوگرا کی جانب سے پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی مارکیٹ میں ردّو بدل کو قراردیا جا رہا ہے لیکن ملک عزیز میں پٹرول ڈیزل کی بلند ترین قیمتوں کی ایک بڑی وجہ 60 روپے فی لٹر پٹرولیم لیوی ہے جبکہ حکومت نے آئی ایم ایف کو پٹرولیم مصنوعات پر 18 فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے کا وعدہ بھی کر لیا ہے۔ تاہم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا جاتا ہے اس کا اثر صرف انہی مصنوعات تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ مجموعی مہنگائی میں اضافے کا با اضافے کا باعث بنتا ہے۔ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے تمام اشیا کی قیمتوں میں ا اضافہ ہو جاتا ہے۔ گو کہ پٹرولیم مصنوعات حکومت کیلئے ٹیکس وصولی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں لیکن حکومت کو عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بھاری بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نظام میں اصلاحات کرتے ہوئے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا چاہیے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے بھی مہنگے پٹرول اور ڈیزل سے عوام کی جان چھڑائی جاسکتی ہے۔
دوسری پریشان کن خبر یہ ہے کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے 14اپریل کو روٹی کی قیمت میں چار روپے جبکہ نان کی قیمت میں پانچ روپے کمی کا اعلان کرتے ہوئے پرائس مجسٹریس کو صوبے میں سستی روٹی کی فراہمی یقینی بنانے کا پابند کیا تھا لیکن ہفتہ بھر گزر جا نے کے با وجود عوام کو حکومت کے مقرر کردہ نرخوں پر روٹی دستیاب نہیں ہو سکی۔ اب تو نان بائیوں نے سستی روٹی کے حکومتی اعلان کو عملاً مستر د ہی کر دیا ہے۔ سرکاری نرخ نامے کو نظر انداز کرنے کی یہ واحد مثال نہیں ہے تاجروں، دکانداروں کی طرف سے سرکاری ریٹ کو پس پشت ڈالنے کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ حکومت کی طرف سے سستی روٹی کی فراہمی کا اعلان لائق تحسین ہے کیونکہ اس سے عوام بالخصوص غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار نے والوں کو ریلیف مل سکے گا لیکن یہ فائدہ اسی صورت ممکن ہے جب حکومت اس فیصلے پر من و عن عملدرآمد بھی کرائے۔ اس وقت مارکیٹ میں دستیاب آٹے کی قیمت اور حکومت کی طرف سے مقرر کردہ نرخوں میں فی من ایک ہزار روپے سے زائد کا فرق موجود ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سستی روٹی کی فراہمی کے فیصلے میں حائل رکاوٹوں کو فوری دور کرے اور نانبائیوں کے جائز مطالبات پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔ پرائس کنٹرول کے بہتر میکانزم اور منافع خور عناصر کے گرد شکنجہ کتنے ہی سے عوام کو کچھ ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
اور اب آ تے ہیں تسلی بخش خبر کی جانب۔ تو سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود کی قیادت میں سعودی عرب کے اعلیٰ سطحی وفد کا دو روزہ دورۂ پاکستان موجودہ حالات میں نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے سعودی دورے کے چند روز بعد وزیر خارجہ کی قیادت میں سرمایہ کاری آبی وسائل ما حولیات زراعت اور کان کنی کے شعبوں کے سعودی وزرا پر مشتمل وفد کی پاکستان آمد سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ دونوں ممالک میں سرمایہ کاری کے شعبوں میں جو دلچسپی پائی جاتی ہے اس میں عملی پیشرفت بھی ہو رہی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ اور تاریخی تعلقات کسی وضاحت کے محتاج نہیں۔ سعودی عرب نے ہر موقع پر پاکستان کا ساتھ دیا اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے، تا ہم اب وقت ہے کہ اس تاریخی اور برادرانہ تعلق کو صنعتی و کاروباری شراکت میں ڈھالا جائے اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن نے دونوں ملکوں کیلئے اس سلسلے میں بڑی آسانی پیدا کر دی ہے۔ ویژن 2030ء کے تحت سعودی حکومت اپنی معیشت کا دائرہ وسیع کرنے اور معاشی تنوع بڑھانے کا تصور رکھتی ہے اور تیل کی دولت پر انحصار کم کر کے معیشت کے دیگر شعبوں جن میں صنعتکاری اور ٹیکنالوجی کے شعبے قابلِ ذکر ہیں کا حصہ اپنی معیشت میں بڑھانا چاہتی ہے۔ عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں اور فوسل فیول کی کھپت میں کمی کے رجحان کو دیکھا جائے تو سعودی حکومت کا تیل کی آمدنی سے انحصار کم کرنے کا تصور بر وقت اور دور بین ہے۔ نئے شعبوں، صنعتوں اور میدانوں میں سرمایہ کاری کے سعودی رجحان سے پاکستان کیلئے کئی سنہری مواقع پیدا ہوتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں ایسے متعدد پرکشش کاروباری مواقع موجود ہیں جن میں سعودی سرمایہ کارانہ دلچسپی پائی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں زراعت کان کنی، توانائی سیاحت اور آئی ٹی کے شعبے قابل ذکر ہیں۔ سرمایہ کاری کے حجم اور استعداد کے لحاظ سے بھی سعودی عرب ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ سعودی ریاستی سرمایہ کاری فنڈ اس وقت دنیا کے چند سب سے بڑے سرمایہ کاری فنڈز میں سے ایک ہے جس کا مالیاتی حجم 925 ارب ڈالر ہے؛ چنانچہ ویژن 2030ء کے تحت سرمایہ کاری میں سعودی رجحان کو دیکھتے ہوئے پاکستان کو سعودی سرمایہ کاری کے حصول کیلئے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ ہمارے ہاں سرمایہ کاری کے مواقع کی کمی نہیں۔ زراعت سے لے کر بحری وسائل اور توانائی کے منصوبوں تک سرمایہ کاری کے کئی وسیع اور امکانات سے بھر پور میدان ہمارے پاس ہیں، مگر یہ کہ ہم سرمایہ کاری کو اپنی جانب صحیح طرح راغب نہیں کر سکے۔ اس کی ایک وجہ ہمارے سکیورٹی اور تزویراتی مسائل بھی ہیں جنہوں نے سرمایہ کاری کے مواقع سے پورا فائدہ اٹھانے نہیں دیا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ سرمایہ کاری پر امن ماحول اور جان و مال کا تحفظ مانتی ہے؛ چنانچہ سعودی عرب، چین یا دیگر ممالک سے سرمایہ کاری کیلئے جو کوششیں کی جارہی ہیں ان کی کامیابی ملک میں پائیدار قیام امن سے مشروط ہے۔ ہمیں امن کو بھی وسیع تناظر میں لینا ہو گا اور سکیورٹی صورتحال کیساتھ ساتھ سماجی اور سیاسی سطح پر بھی ماحول بہتر بنانا ہوگا تا کہ ہمارا تشخص اور تاثر ایک عملی کار آمد اور مثبت ذہنیت رکھنے والے سماج کے طور پر مستحکم ہو۔ اس سلسلے میں ہمیں کافی کام کی ضروت ہے اور اس قسم کے معر کے قومی ہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔ فکری انتشار اور اداروں کے خلاف پروپیگنڈے کے ماحول میں وہ اتفاق و اتحاد ممکن نہیں۔ ہماری سیاسی قیادت کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔ ہمیں قومی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور افراد اور اداروں میں تفریق پیدا کرنے کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہو گی۔ اس وقت دنیا جس صورتحال سے دو چار ہے سیاسی قیادت کو چاہیے کہ عصری حقائق کا ادراک کرے اور معمولی فوائد کیلئے قوم کو انتشار کے حوالے کرنے سے گریز کرے۔