Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

یوم مزدوراورمحنت کش کسان

ایک زرعی ملک میں کسان کے استحصال اور مافیاز کی من مانیوں کے دوران یکم مئی دنیا بھر میں یومِ مزدور(لیبر ڈے) کے طور پرمنایاگیاہے۔ استحصال کی زد میں ہمیشہ مزدور ،محنت کش آتا ہے۔ دیہاڑی دارہی زیادہ متاثر ہوتاہے۔اس دن کی مناسبت سے سیمینارز منعقدکئے گئے ۔ ریلیاں نکالی گئی ہیں۔ اس دن کو دنیا کی مختلف مزدور تنظیمیں اپنے اپنے انداز میں مناتی ہیں ۔ مقصود مزدور کی عظمت کو دنیا بھر میں اُجاگر کرنا اورشگاگو کے شہدا ء سے یکجہتی ہوتا ہے۔ دنیا کے چند خطوں میں یکم مئی جشن بہاراں ،پھولوں کے کھلنے کی خوشی میں بھی منایا جاتا ہے تا ہم زیادہ معروف مزدور تحریک ہے۔ شگاگو کے مزدور کیا چاہتے تھے؟صرف اپنا انسانی حق ۔مزدوری کے اوقات کار کا تعین۔ جب وہ ڈیوٹی پر آتے تو واپسی کا انحصار مالک،صنعت کار یا سرمایہ دار کی مرضی پرہوتا۔ 12،14یا 16گھنٹے گزر جاتے، ڈیو ٹی ختم ہی نہ ہوتی۔یہ تصور آج تقریباً ہر جگہ، کئی نظاموں میں پایا جاتا ہے۔ اس ظالمانہ اور غلامانہ طرزِ عمل کا خاتمہ اور چند جائز مراعات، یہی مزدوروں کا مطالبہ ہوتا ہے۔ شکاگو کے مارکیٹ چوک میں جمع ہونے والے ان مزدوروں پر جارحیت کی گئی۔ ہر دور میں ریاستی جبر کے کارگر اور آزمودہ ہتھیار اپنے گماشتوں،پولیس کے ذریعے نہتے اور پرامن مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ کرائی گئی اور الزام یہ لگایا گیا کہ مظاہرین نے پولیس پارٹی پربم پھینکا تھا۔ اس جارھانہ فائرنگ کے نتیجے میں کتنے لوگ زخمی ہوئے یا مارے گئے، صحیح تعدادکبھی بھی معلوم نہ ہو سکی۔بعد ازاں گرفتا ریوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو ااور نامور مزدور رہنما گرفتار کر لئے گئے۔ ان پر مقدمہ قائم کیا گیا۔ 21جون 1886ء کو مزدور رہنماؤں سمیت کل آٹھ افراد کے مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔ ملزمان کے خلاف پولیس پارٹی پر بم پھینکنے میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔حتیٰ کہ ٹرائل کے دوران مئیرنے بھی اعتراف کیا کہ مظاہرین کے خلاف کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔ سٹیٹ اٹارنی اس بات پر اَڑے رہے کہ یہی لیڈرز ہیں اور تمام تر معاملات کے ذمہ دار یہی آٹھ افراد ہیں۔ انھوں نے گرینڈجیوری پر زور دیاکہ انہیں پھانسی پر لٹکا دیں اور ایک مثال قائم کر دیں۔ 19اگست کو7 رہنماؤں کو سزائے موت ، ایک رہنما کو 15سال قید کی سزا سنائی گئی۔دنیا بھر میں اس جانبدارانہ اور غیر منصفانہ فیصلے کی مذمت کی گئی۔ مزدور رہنماؤں کی رہائی کے لئے عالمی سطح پر مہم بھی چلائی گئی۔ جس کے نتیجے میںحکومت نے مجبور ہو کردوکی سزائے موت عمر قید میں بدل دی۔ایک نے اپنے سیل میں خودکشی کر لی ۔ پھانسی کی سزاسن کر ایک مزدورنے بھری عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پھانسی دینے سے مزدور تحریک ختم نہیں ہو جائے گی ،ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ 11نومبر1887ء کوتین مزدوروںکو پھانسی دے دی گئی۔ تقریباًچھ لاکھ افراد نے شگاگو کے ان شہدا کی آخری رسومات میں شرکت کی ۔تین مزدوروںکی رہائی کی عالمی مہم جاری رہی ۔ بالآخر 26جون1893ء کو ان مزدوررہنماؤں کی رہائی عمل میں آئی۔ سچ دیر سے سہی مگر سامنے آ گیا کہ سرمایہ داروں اور پولیس کیپٹن کی ملی بھگت سے ان ہی کے ایک آلہ کارنے پولیس پارٹی پر بم پھینکاتھا۔جس کا واحد مقصد مزدوروں کی اس پرامن تحریک کو کمزور کرنا تھا۔
کام اور محنت انسان کی عظمت اور جدوجہد کی نشانی ہے۔ ہر انسان مزدور ہے۔ کام کی ہی عزت ہے۔ مگر آج عدم مساوات کا دور ہے۔ ایک کام کرے تو چند ہزار اور دوسرے کو لاکھوں اجرت ملتی ہے۔ اس طرح کے کام بیگار سمجھے جاتے ہیں۔وزیر، مشیر، بیوروکریٹ،ایگزیکٹیوز صرف اپنے مفادات کے لئے درکار، عین مطابق پالیسیاں تشکیل دیتے، ان میں ترامیم کرتے ہیں۔یہ بعض اداروں کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ اس دور میں کئی طرح کے بیگار کیمپ کام کر تے ہیں۔ جو خون پسینہ خشک تو کیا ،ختم ہونے کے باوجود بھی اجرت دینے سے گریز کرتے ہیں۔یہ خاندانوں کو حبس بے جا میں رکھتے ہیں۔ انہیں کمی اور مزارع بنا دیتے ہیں۔ بلاشبہ عظیم مزدور رہنما پھانسی کے پھندے پر لٹک کر تاریخ میں زندہ ہوگئے۔ انھوں نے دنیا بھر کے مزدوروں کو یکجہتی،صبر و تحمل اورجہدمسلسل کا پیغام دیا۔ دنیائے عالم کے سرمایہ داروں کو بھی باور کرادیا کہ مزدور تحریک کوکسی بھی قسم کی دھونس، دھاندلی،غنڈہ گردی، ریاستی جبراور سازش کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
ذالڈگر، سرینگرکے مزدوروں کا159 واں یوم شہادت شکاگو کی مزدور تحریک سے بھی دو دہائیاں قبل 29 اپریل 1865ء کوسرینگر کے ایک مرکزی علاقہ ذالڈگر میںدو درجن سے زیادہ مزدور شال بافوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ڈوگرہ مہاراجہ کے مظالم کے خلاف مزاحمتی تحریک کی بنیاد ڈالی۔کشمیری شال باف ظلم وجبر کے خلاف ایک منفرد اور منظم جدجہد کی قیادت کر رہے تھے۔شالبافوں نے ڈوگرہ راج کے ظلم و ستم کے خلاف اور غصب شدہ حقوق کی بازیابی کے لئے ذالڈگرکی طرف ایک پرامن جلوس نکالا تو ڈوگرہ فوج کے گورنر دیوان دیوتا راج نے اسے بغاوت کا نام دیکر اس تحریک کو کچلنے کے لئے کرنل بیجا سنگھ کوروانہ کر دیا۔ ڈوگرہ فوج نے پرامن مظاہرین کو چاروں طرف گھیر کر فائرنگ کر دی۔ جس سے 28 شال باف شہید ہوئے اور سیکڑوں مظاہرین جان بچانے کے لئے دریائے جہلم میں کود گئے ۔ ان میں سے درجنوں دریا میں ڈوب گئے۔ ڈوگرہ فوج نے سینکڑوں مظاہرین کوگرفتارکیا۔آج سے ڈیڑھ صدی پہلے شال باف تحریک نے کشمیریوں کو ظالم کے خلاف لڑناسکھایا اور انہوں نے جو تحریک اپنے لہو سے شروع کی وہ آج بھی جاری ہے۔آج ذالڈ گر کے شہدا ء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔آج کا دن مزدور کی عظمت کی یاد تازہ کرتا ہے۔ شکاگو کی تحریک ہو یا سرینگر ریشم خانہ کی تحریک ، یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ جو قومیںمحنت کش کو عزت و احترام دیتی ہیں ، وہ پائیدار ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ امید ہے کہ ہم بھی اپنے محنت کش ،کسان کو معقول عزت و احترام دیتے ہوئے اس کی محنت کا معقول معاوضہ دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں