شہباز شریف نے دوسری مرتبہ وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔بہت خوشی ہوئی۔سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوئی جب ایک دن انہوں نے حلف اٹھایا اوردوسرے دن صبح سویرے تقریباً 7بجے وہ راول ڈیم چوک میں نالائق ٹھیکیداروں اور نا اہل افسروں کے کان کھینچنے پہنچ گئے۔تمام متعلقہ لوگوں کے کان کھینچے اور خوب کھینچے، مزہ آ گیا۔لیکن ان متعلقہ لوگوں کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ بس وزیر اعظم ایک دن آئے ہیں اب پھر کب آئیں اور کیوں آئیں گے۔انہوں نے آدھے کام پر ہی افتتاح کرا دیا اور وزیراعظم میاں شہباز شریف بھاگوان نے کام کی نوعیت چیک کئے بغیر ہی فیتہ کاٹ دیا۔حالانکہ چودہ مہینے بعد وزیراعظم شہباز شریف کا دور بھی ختم ہوگیا۔نگران حکومت انوار الحق کاکڑ کا تین چار مہینے کا دور بھی ختم ہو گیا۔اب تیسرا مہینہ پھردوبارہ میاں شہباز شریف کا بھی ختم ہوگیا۔لیکن راول ڈیم چوک کا کام ابھی ختم نہیں ہوا اور ابھی ایک سال اور کام ختم نہیں ہوگا۔وزیراعظم صاحب سے سوال ہے کہ آپ کو افتتاح کی اتنی بھی کیا جلدی تھی۔کام مکمل کر کے افتتاح کر لیتے۔آپ کو اندازہ بھی ہے کہ جلدی افتتاح کرنے سے کتنا زیادہ مالی نقصان ہوا۔ایک ایک کام کو تین تین چار چار مرتبہ کرنا پڑا اور اسی کام کے پیسے بڑھائے گئے۔ وزیراعظم یہ چوک ’’راول‘‘ کے نام پر بنا ہے کیونکہ ا س ساری جگہ کا نام ہی ’’راول‘‘ ہے۔ اسی نام پر راول ڈیم بنا اور پھر اسی کے نام پر’’راول چوک‘‘ بنا اور اسی کے نام پر راول ٹاؤن بنا۔راول ٹاؤن راول چوک سے صرف 200 گز دور ہے جو درختوں کی وجہ سے آپ کو نظر نہیں آتا۔فیڈرل دارالحکومت کے ٹاؤنز میں سب سے پرانا ٹاؤن ہے۔نااہل، کام چور، بد دیانت اور نالائق سٹاف انجینئرز نے اس کو کسی طرف سے راستہ ہی نہیں دیا۔اب چوک میں آ کر دو تین کلومیٹر کا چکر کاٹ کر اور بھول بھلیّوں میں سے گزر کر راول ٹاؤن کے رہائشی گھر پہنچتے ہیں۔باہر سے آنے والے لوگ چکروں کے چکر کاٹ کر بہت سا اضافی پیٹرول جلا کر مقررہ جگہ پہنچ پاتے ہیں۔میں نے خود اس چوک کو تعمیر کرنے والے ادارے کے گریڈ 20 کے آفیسر سے دو تین دفعہ بات کی کہ راول ٹاؤن کو راستہ کہاں سے دیا ہے۔ پہلے وہ کہتے رہے کہ ہم آخر میں کر کے جائیں گے۔ہمارے پراجیکٹ میں شامل ہے۔لیکن وہ افسر مسلسل جھوٹ بولتا رہا۔مجھے تب پتہ چلا کہ وہ اپنا کیمپ اکھاڑ کر جا رہے ہیں تو میں نے اس کو میسج کیا کہ میں وزیراعظم کے نام کالم لکھ کر گزارش کروں گا کہ پہلے راول ٹاؤن کو راستہ دے کر جائیں تو اس جھوٹے افسر نے اتنی پھرتی دکھائی کہ ایک دن رات میں سارا کیمپ کسی اور جگہ شفٹ کر دیا۔ صبح گھر سے نکلے تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔اس جھوٹے افسر اور ادارے کا نام بوجہ لکھ نہیں رہا اور اسی قسم کی مصیبت مقامی قائد ایم این اے کا نام نہ لکھنے کی ہے۔میں ان کا نام لکھنے سے بھی قاصر ہوں۔
جناب وزیراعظم راول ٹاؤن کے لوگوں کی طرف سے اللہ کا واسطہ ہے کہ راول ٹاؤن کے انڈر گراؤنڈ پُل بنا کر راول ٹاؤن کو بھی اسی طرح کا راستہ دیں جس طرح فارم ہاؤسز کو دیا گیا ہے۔وہاں بیس بیس کنال میں صرف ایک کار یا فارم کے مالک نے جانا ہوتا ہے اور راول ٹاؤن میں روزانہ ہزاروں لوگ آتے جاتے ہیں۔ان لوگوں کا قصور یہ ہے کہ یہ غریب اور سفید پوش لوگ ہیں اور فارم ہاؤسز میں رہنے والے لوگ کھرب پتی ہیں اس لئے ان کے راستے بن گئے اور ہمارے بنے ہوئے راستے بھی بند ہو گئے۔خد ا کے واسطے انصاف کرو۔اب ایک گزارش میری وزیرداخلہ جناب محسن نقوی سے ہے کہ جناب راول ٹاؤن کے رہائشی ایریا میں چوری کی گاڑیوں کا ڈیمپ بنا دیا گیا ہے۔جہاں سینکڑوں گاڑیاں کھڑی کر دی گئی ہیں۔اس کے پاس پولیس کا کیمپ بنا دیا گیا ہے۔لوکل آبادی اور پولیس کیمپ اور چوری کی گاڑیوں کے درمیان صرف ایک سڑک ہے۔ شام کو پوری آبادی کی خواتین واک کرتی تھیں۔وہ بند ہو گیا کیونکہ جب خواتین سڑکوں پر سے گزر رہی ہوتی ہیں اور جن کافر نظروں سے پولیس والے ا ن کو دیکھ رہے ہوتے ہیں وہاں خواتین کا چلنا تو درکنار مرد بھی چلنے سے شرماتا ہے۔سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس کار ڈیمپ کے سامنے کے گھروں کی خواتین گھروں میں قید ہو کر رہ گئی ہیں۔ وہ دن کے وقت اپنے کپڑے دھو کر بھی مکانوں کی چھتوں پر جا کر نہیں لٹکا سکتیں۔سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان تمام گھروں کی خواتین باقاعدہ پردہ کرتی ہیں۔نقوی صاحب آ پ آل رسول ہیں۔آپ سے زیادہ خواتین کے پردے کی اہمیت کو کوئی نہیں جانتا۔آپ پردے دار گھروں کی خواتین کے ماحول کو بھی بخوبی جانتے ہیں اور نوجوان پولیس کے چھڑے چھاڑ اکیلے رہنے والے عملے کے ماحول کو بھی خوب سمجھتے ہیں۔مجھے آ پ سے 100فیصد امید ہے کہ آپ ضرور ایکشن لیں گے اور اس پولیس کے کیمپ کو کسی اور طرف شفٹ کرنے کے آرڈر فرما دیں گے۔ہو نا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہم مقامی ایم این اے سے فریاد کرتے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی آپ تک یا چئیرمین سی ڈی اے تک رسائی نہیں یا اگر رسائی ہے تو کوئی ان کی بات سننے یا ماننے کے لئے تیار نہیں۔ورنہ دو سال سے راول ٹاؤن کے سفید پوش لوگ مقامی ایم این اے کے گھر کا طواف کر رہے ہیں۔کچھ نہ کچھ اس کا حل نکل آنا چاہیئے تھا۔ہمارے علاقے کے ایم این اے پوری اسمبلی میں سب سے زیادہ شریف النفس انسان ہیں۔اس لئے ہم ان کو کوئی بھی ذاتی یا عوامی کام کہہ کر ان کی شرافت میں مداخلت ہی نہیں کرتے۔ اگر وہ بھی اپنا اثر ورسوخ استعمال کرتے تو یہ بہت معمولی کام تھا۔ میری ان سے بھی درخواست ہے کہ آپ ممبر قومی اسمبلی ہیں راول ٹاؤن کے لوگوں نے آپ کو ووٹ اس لئے دئیے تھے کہ آپ ان کے مسائل حل کریں گے اور ان کے لئے سہولتیں پیدا کریں گے لیکن یہاں کے لوگ تو الٹے عذاب میں پھنس گئے ہیں۔آج یہ کام جو ایک قلم کا مزدور کر رہا ہے یہ ممبر قومی اسمبلی کو کرنا چاہئے تھا۔ آپ کو وزیراعظم، وزیر داخلہ اور چئیرمین سی ڈی اے تک ہر وقت آنے جانے کی رسائی ہے۔خدا کے لئے ڈاکٹر صاحب اپنی ذمہ داری کو سمجھیں ان میں سے کسی کا دروازہ کھٹکھٹا کر یہ دونوں کام کروا دیں۔