پاکستان کی معیشت اس وقت مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے اور موجودہ حکومت اسے سنبھالا دینے کے لیے سرتوڑ کوششوں میں مصروفِ عمل ہے۔بہت سے دوست ممالک کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ان کو پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کے لیے راضی کیا جا رہا ہے۔سعودی عرب، چین، قطر، ترکیہ، یو اے ای، کویت اور دیگر ممالک پاکستان میں عظیم سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس حوالے سے قوم کو جلد خوشخبریاں سننے کو ملیں گی۔سعودی عرب کے ساتھ تو معاملات اس ضمن میں آگے بڑھ رہے ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بہت پرانے ہیں۔پاکستان اور سعودیہ انتہائی گہرے دوست ہیں۔یہ تعلقات وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط اور مستحکم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔پاکستان کو جب بھی ضرورت پڑی، سعودی عرب نے آگے بڑھ کر ہاتھ تھاما اور سہارا دیا۔اسی طرح سعودی عرب کو بھی جب مشکلات کا سامنا ہوا پاکستان نے بھی برادر ملک ہونے کا فرض پوری ذمہ داری کے ساتھ نبھایا۔سعودی عرب پاکستان میں عظیم سرمایہ کاری کررہا ہے۔ماضی میں بھی اس حوالے سے کئی معاہدات ہوئے اور پچھلے مہینے بھی اسی سلسلے میں اہم پیش رفت دیکھنے میں آئیں۔سعودی وزیر خارجہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کے وفد نے پاکستان کا دورہ کیا۔ بڑے بڑے معاہدے طے پائے۔ اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف بھی پچھلے دنوں عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے لیے سعودی عرب گئے۔ وہاں سعودی ولی عہد کے عشائیے میں شرکت کی، محمد بن سلمان سمیت دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں۔وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ انتہائی کامیاب رہا۔
سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں عظیم سرمایہ کاری کے حوالے سے آئے دن پیش رفت ہورہی ہے۔دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے درمیان ملاقاتیں تعلقات کی مزید مضبوطی میں اہم کردار ادا کریں گی۔پاکستان اور سعودی عرب اقتصادی شراکت داری کے ذریعے متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مرحلے میں داخل ہونے والے ہیں کیونکہ 50 لوگوں کا ایک اعلی سطحی سعودی تجارتی وفد پاکستان آیا ہے جس کا مقصد مختلف شعبوں اور پاکستانی معیشت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنا ہے۔سعودی وفد کے دورے سے پاکستان میں کاروبار کے مختلف مواقع پر دونوں ملکوں کے سرمایہ کاروں کے آپس کے تجارتی تعلقات کو مزید بڑھاوا ملے گا۔حالات و واقعات بتا رہے ہیں کہ چند ہی سال میں ملک و قوم ترقی و خوشحالی کے ثمرات سے بھرپور طور پر بہرہ مند ہوں گے۔پاکستان کی معیشت نا صرف مضبوطی اختیار کرے گی بلکہ وطن عزیز ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں جلد شامل بھی ہوگا۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے 50 رکنی تجارتی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا۔سعودی نائب وزیر سرمایہ کاری ابراہیم بن یوسف المبارک کے دورے کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی سعودی وفد کے دورہ پاکستان کی مصروفیات پر بات چیت کی گئی۔ایس آئی ایف سی کے تحت سرمایہ کاری پر بات چیت ہوئی جس کے نتائج سامنے آرہے ہیں۔او آئی سی کے اجلاس نے غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا جبکہ اسلاموفوبیا کے خلاف بھی کھل کر بات ہوئی۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی قیادت کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں کیں اور دونوں ممالک کے تعلقات کو فروغ دینے میں مثبت پیش رفت ہوئی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سعودی تجارتی وفد کے دورہ پاکستان سے مطمئن ہیں اور اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ یہ دورہ ملک کے مستقبل کے لیے بہتر ہوگا۔انہوں نے کابینہ کے ارکان خصوصا تجارت، پٹرولیم، خزانہ، ہوابازی اور توانائی کے وزرا کے ساتھ ساتھ پاکستان سعودی سرمایہ کاری فورم کے دوران سیکرٹریز کے کردار کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ ملک کے بہتر مستقبل کے لئے اسی عزم اور لگن کے ساتھ کام کرتے رہیں گے. وزیراعظم نے کہا کہ سعودی وفد ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنے دورے کے ثمرات سے آگاہ کرے گا۔ سعودی وفد کے ساتھ کاروباری ملاقاتیں ہوئیں اور سعودی کمپنیوں نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کا جائزہ لیااورانہوں نے پاکستان کی مہمان نوازی کا کھلے دل سے اعتراف کیا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی وفد نے جتنی تعریف آپ لوگوں کی ہے، میرا دل خوشی سے باغ باغ ہوگیا۔شہباز شریف کے مطابق وفد کا کہنا تھا کہ جب کل ہمارا کابینہ اراکین کے ساتھ رابطہ ہو رہا تھا تو آپ کے وزرا نہ صرف وہاں پر مکمل طور پر موجود تھے بلکہ ہر قدم پر گائیڈ کر رہے تھے، یہ ہمارے لیے خوشگوار حیرانگی تھی، ہم نے اس طرح کا تجربہ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ سعودی وفد کے سربراہ نے سرمایہ کاری فورم کے دوران کابینہ کے ارکان اور حکومتی عہدیداروں کے عزم اور استقامت کو سراہا۔وزیر اعظم نے کہا کہ وفد نے بتایا کہ ہم بڑی خوشی کے ساتھ واپس جا رہے ہیں اور ہم واپس جا کر رپورٹ کریں گے کہ ہم نے پاکستان میں نیا دور دیکھا ہے اور جس اعتماد کے ساتھ آپ کی ٹیم نے پریزنٹیشن دی ہے یہ ہمارے لیے حوصلہ افزا خبر تھی۔شہباز شریف نے کابینہ اراکین کو کہا کہ میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں اور آپ کی محنت کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے نائب وزیر کی قیادت میں سعودی وفد کے دورے سے ملک کے مستقبل پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔سعودی عرب کے نائب وزیر سرمایہ کاری کی قیادت میں سعودی وفد کا دورہ ملک کے مستقبل کیلئے خوش آئند ثابت ہو گا۔وزیر اعظم نے پاکستان سعودی عرب سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران کابینہ کے ارکان خصوصاً تجارت، پٹرولیم اور فنانس کے شعبوں کے وزرا کے کردار کی بھی تعریف کی۔انہوں نے ملک کے بہتر مستقبل کیلئے بھرپور لگن کے ساتھ کام جاری رکھنے کا عزم کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے یقین دلایا ہے کہ حکومت ملک میں جاری مشترکہ منصوبوں کی تکمیل کے لیے سعودی سرمایہ کاروں اور تاجروں کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ بہت جلد سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ اربوں روپے کے معاہدوں پر دستخط کئے جائیں گے۔انہوں نے سعودی سرمایہ کاروں کو ہر طرح کی رکاوٹ سے آزاد جامع لائحہ عمل فراہم کرنے کیلئے حکومت کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔پاکستان اور سعودی سرمایہ کاروں کے درمیان کاروباری ملاقات کے دوران ٹھوس پیش رفت پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے پاکستان کا دورہ کرنے پر سعودی وفد کا شکریہ ادا کیا۔شہباز شریف نے کہا کہ حکومت ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری میں حائل بیورو کریسی کی تمام رکاوٹوں کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔