Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

9 مئی 2023 ء کا قہر آلود دن

قوموں کی زندگی میں کچھ دن ایسے بھی آتے ہیں جو انتہائی قہر آلود ہوتے ہیں جو لاکھ بھلانے کے باوجود ذہن میں ایسے نقش ہو جاتے ہیں کہ مٹتے نہیں۔خصوصاً جب زہر آلود غلیظ ترین سیاست اپنی گندگی کے رنگ دکھاتی ہے تو پھر ایسی سیاست کے رنگ دیکھنے سے ہی کراہت آتی ہے۔ ہماری سیاست کیسے رنگ بدل رہی ہے۔9 مئی 2023ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں 16دسمبر 1971ء سے کم حادثہ نہیں تھا۔اس وقت پاکستان توڑنے والے مشرقی پاکستان اور بھارت کے لوگ شامل تھے۔9 مئی 2023ء کو فوجی اثاثوں پر حملے کرنے والے اور بچے کچے پاکستان کے لوگوں کے ساتھ ایک دفعہ پھر ہندوستان کے لوگ شامل تھے۔اس واقعے نے ہر محب وطن پاکستانی کو حیرت زدہ اور صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔یہ بالکل ایک منظم پروگرام تھا۔ورنہ ممکن ہی نہیں ایک ہی وقت میں ایک ہی جیسے حملے ایک ہی حساس ادارے کے حساس ترین علاقوں میں کرنا۔ایسا لگتا تھا کہ جیسے ان حملوں کے لئے کئی دن بلکہ کئی ہفتے یا کئی مہینے پہلے ریہرسل کی گئی ہو۔اس ہجوم کو کئی دن پہلے ان علاقوں کا وزٹ کرایا گیا ہو۔حملے کرنے کی تراکیب بتلائی اور سکھلائی گئی ہو۔ایسا منظم حملہ آناً فاناً کسی صورت ممکن نہیں تھا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ’’پاکستان ہم شرمندہ ہیں۔تیرے دشمن ابھی زندہ ہیں‘‘۔’’یا تجھے جلانے والے ابھی زندہ ہیں‘‘۔9مئی کے واقعات کو ایک سال گزر گیا اور ہم ابھی تک کوا حلال ہے یا حرام ہے کے فیصلے کی طرح یہ فیصلہ نہیں کر سکے۔ جب9 مئی کے ملزموں نے ابھی تک کسی بھی بات کی صفائی دینے کی کوشش ہی نہیں کی۔ وہ اپنے حال میں خوش ہیں‘مگن ہیں۔ تالیاں بجارہے ہیں۔پاک آرمی پر الزام تراشیاں کئے جارہے ہیں۔وہ ملک اور وہ قومیں کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتیں جہاں سزا اور جزا کا نظام نہ ہو۔
9 مئی 2023ء سے 9 مئی 2024ء تک کا حال احوال دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستان میں بھی کسی قسم کے مقدمے میں سزا اور جزا کا تصور ہی نہیں ہے۔صرف 9 مئی 2023ء نہیں کوئی بھی بڑا مقدمہ مجھے بتا دیں جس میں کسی بھی جرم کے مطابق سزا یا کسی بڑے کارنامے میں اس کارنامے کے مطابق انعام سے نوازا گیا ہو۔ قوم کے دلوں میں اس اندوہناک سانحہ کے زخم آج بھی روز اول کی طرح تروتازہ ہیں اور محب وطن عوام کے ذہنوں میں یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ 9 مئی کے واقعات کے ذمہ داروں، سہولت کاروں اور منصوبہ سازوں کو قانون کے کٹہرے میں اب تک کیوں نہیں لایا گیا اور ریاستی ادارے واقعہ میں ملوث ملزمان سے رعایت کیوں برت رہے ہیں؟اس دن کیا کچھ نہیں ہوا، اس ملک کے شہریوں نے ریاست اور اپنی ہی فوج کے سپاہیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا، پاکستان کے جھنڈے کی بے حرمتی کی گئی، ملکی تنصیبات کو آگ لگائی گئی، ہمارے محافظوں پر پتھر برسائے گئے۔چیزیں چوری ہوئیں۔وردی کی تذلیل ہوئی، یادگار شہداء کی بے حرمتی ہوئی۔کوئی ایک حرکت یا عمل ایسا نہیں جسے معاف کیا جا سکے۔جو کام پاکستان کے دشمن 75 سالوں میں نہ کر سکے وہ ایک نام نہاد سیاسی جماعت نے کر ڈالا۔آج تک یہ بات ہی نہیں کھلی کہ اس کیس کا ماسٹر مائنڈ، منصوبہ ساز اور سہولت کار کون تھا اور یہ کیسی سازش تھی؟پورا ایک سال گزرنے کے باوجود اب تک ان ملک دشمنوں کو سزائیں کیوں نہیں ہوئیں۔ان کو ٹھوس شواہد اور جرائم کی تمام تر تفصیلات کے ساتھ قوم کے سامنے نہیں لاسکے۔ عدالتوں میں بس تاریخوں پر تاریخیں چل رہی ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے عدالتیں مجرموں یا ملزموں کے ساتھ لاڈ پیار کے کھیل رہی ہیں اور ملوث افراد ضمانتوں اور ان میں وسیع کے مزے لوٹ رہے ہیں۔یہ پاکستان کے خلاف بہت بڑی سازش ہے۔ہم نے ذمہ دار جمہوریتوں میں ایسی توڑ پھوڑ کبھی نہیں دیکھی، جس میں پرتشدد ہجوم سیاسی فائدے کے لیے ریاستی املاک اور فوجی تنصیبات کو تباہ و برباد کرتے ہیں۔ موجودہ سیاسی صورتحال کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں رواداری، جمہوری اقدار اور قوم کو واضح سمت فراہم کرنے کے لیے کام کریں۔
ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا کی بدنیتی پر مبنی مہم کو روکنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا جانا چاہیے۔جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ اگر مجرموں کے منصوبہ سازوں کو ملکی قوانین کے مطابق پوری سزا نہ دی گئی تو اس کے دوبارہ ہونے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ یہ ضروری ہے کہ سپریم کورٹ فوجی عدالتوں کے زیر التوا معاملے کو مزید تاخیر کے بغیر حل کرے۔جو لوگ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلانے کے مستحق ہیں انہیں ان مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔ پاکستان 9 مئی کی تکرار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کوئی عام ملک نہیں ہے۔ یہ ایک ایٹمی طاقت ہے۔ 9 مئی جیسی کسی بھی مہم جوئی کے پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ پورے خطے اور پوری دنیا پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔کوئی بھی جو آمرانہ فرقے کے رہنماؤں کی حمایت کرتا ہے وہ 9 مئی کے تباہ کن واقعات کو دہرانے کو یقینی بنائے گا۔9 مئی کے واقعات نے تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ایک بیداری کا کام کیا۔کسی کو بھی ایک دوسرے کو کاپی کرنے کا سوچنا بھی نہیں چاہیے کیونکہ اس سے پارٹیوں اور ملک پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔پاکستان کو آج معاشی بحران، آبادی میں اضافہ، دہشت گردی، سیاسی پولرائزیشن، نسلی اور فرقہ وارانہ جھگڑوں اور ایک دشمن پڑوسی میں عدم برداشت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔پاکستان کو آج پہلے سے کہیں زیادہ معاشی بہتری، گورننس اصلاحات اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ صحت، تعلیم اور اپنے لوگوں کی ہنر مندی کی ترقی کے لیے استعمال کر سکیں۔پاکستان کو آج ان تمام مندرجہ بالا مسائل پر قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے عوام کے لیے پائیدار سیاسی، معاشی استحکام اور ترقی حاصل کر سکیں۔تمام سیاسی اداروں کو چاہیئے کہ وہ پاکستان کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے متحد ہوں اور ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کریں۔آخر میں ایک بار پھر تجویز ہے کہ 9 مئی کے پالیسی سازوں، حملے کرنے اور کرانے والوں کو جلد از جلد سخت سے سخت سزائیں دلوائی جائیں جیسا کہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے اپنی پریس کانفرنس میں ان باتوں کا اظہار بھی کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں