کبھی کبھی زندگی میں ایسے مواقع بھی آجاتے ہیں کہ جب لوگ اپنے گھروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے جلتا ہوا دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن بے بس ہوتے ہیں۔ ہماری زندگی میں 9 مئی کا منحوس دن ایسا آیا کہ ٹیلیویژن پر ہر طرف واویلا مچا ہوا تھا کہ پاکستا ن کے جی ایچ کیو پر حملہ کر دیا گیا۔ تمام اہم یادگاریں جلا دی گئیں اور اب بھی نئے سے نیا حملہ کیا جا رہا ہے۔یہ سب کچھ ایک گروہ پاگل پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو تباہ و برباد اور جلا رہے تھے جسے ہم عرف عام میں ’’ماں‘‘ کہتے ہیں۔ہم نے تو سن رکھا تھا کہ ماں کی طرف غصے سے دیکھنا بھی گناہ ہے چہ جائیکہ اس کو جلایا جاتا اور تو اور ہم نے بابائے قوم کے گھر ’’جناح ہاؤس‘‘ کو بھی نہ بخشا۔اس میں جتھے کے جتھے داخل ہوئے۔اس کو بھی سخت نقصان پہنچایا۔اس عظیم شخص کی رہائش ’’جناح ہاؤس‘‘ کی حرمت پامال کی گئی۔جنہوں نے عظیم جدوجہد سے یہ وطن ہمیں انگریزوں سے آزاد کرا کے دیا۔کس کس بات کا افسوس کیا جائے۔ہم نے سبز ہلالی پرچم کو بھی نہ بخشا۔ اس کی حرمت کو سخت نقصان پہنچایا۔سبز پاسپورٹ جلائے گئے۔مساجد اور دوسری عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ایمبولینسسز اور ہسپتالوں کو بھی نہ بخشا گیا۔مریضوں کو سخت اذیت پہنچائی۔ پاکستا ن کے’’جی ایچ کیو‘‘ سمیت مختلف شہروں میں اہم فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے۔یوم ِ تکبیر 28 مئی 1998ء کے جوہری دھماکوں کی یادگار جلائی گئی۔میرا قوم سے سوال ہے کہ کیا کوئی بھی محب وطن ایسا کر سکتا ہے۔میرے خیال میں ممکن ہی نہیں ہے۔لیکن ملک دشمنوں نے یہ سب کچھ کر کے دکھا دیا۔جس ریڈیو پاکستان نے سب سے پہلے ہمیں یہ خبر سنائی تھی کہ یہ ریڈیو پاکستان لاہور ہے۔اس کو بھی جلایا گیا۔میٹرو بسوں کو بھی جلایا گیا اور نہ ہی دوسری چھاؤنیوں کو بخشا گیا۔
1965 ء کی جنگ کے ہیرو ایم ایم عالم کے طیارے کا ماڈل جلتے اور تباہ ہوتے ہوئے دیکھ کر نہ کسی کی غیرت جاگی اور نہ ہی کیپٹن کرنل شیر خان شہید نشانِ حیدر کی قومی یادگار کو تباہ کرتے ہوئے کسی کو کوئی شرمندگی نہیں ہو رہی تھی۔یہ ایسی جگہیں ہیں جہاں سے ہم ویسے بھی گزرتے ہوئے انہیں سلام کر کے گزرتے ہیں۔میرا مارشل ایرئیے سے تعلق ہے جہاں ہر روز نہیں تو ہفتے میں دو تین مرتبہ کسی نہ کسی شہید جوان کی لاش آ رہی ہوتی ہے۔ پاک افواج اور عوام میں محبت اور اعتماد کے اس رشتے کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔جو لوگ اپنے شہید بیٹوں کی لاشیں دیکھ کر اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہیں۔شہداء کی لاش کو دیکھ کر آرمی چیف سمیت صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان سب ان کو سیلوٹ پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کا قومی پرچم سرنگوں ہو جاتا ہے۔دشمن کا یہ دیرینہ خواب تھا کہ افواج پاکستان اور عوام کے رشتوں میں دراڑیں ڈالی جائیں۔دشمن تو اس مسئلے میں کامیاب نہ ہو سکا۔لیکن بزدل اور بے وقوف سیاستدانوں نے دشمن کی ناپاک خواہشوں کے گلے میں ہار پہنا دیے جس سے صرف قومی فخر ہی نہیں ہمارے دل و جان اور قومی پرچم کا سر بھی غیرت سے جھک گیا۔لیکن ان ملک دشمنوں کو نہ غیرت آئی نہ شرم آئی۔میں اب بھی سوچتا ہوں کہ جس دن پاکستان جل رہا تھا اس دن ہر محب وطن کی آنکھ اشکبار تھی اور پاکستان کا ہر دشمن، ہر قومی یادگار کو جلا کر نعرے لگا رہا تھا۔اس دن کے حملہ آوروں اور ان کے سرپرستوں نے آج ریاست، قوم حتیٰ کہ شہداء کے اہل خانہ تک سے معافی نہیں مانگی جو بذاتِ خود ثبوت اور گواہی ہے کہ سیاسی ردعمل نہیں تھی بلکہ پاکستان کے خلاف کھلم کھلا منظم ایک منصوبہ تھا۔
9 مئی 2023ء کا واقعہ نہایت منظم ایک گروہ کا منصوبہ تھا۔جو آج تک بھی اسی راستے پر چلنے کے لیے کاربند ہے۔ ان لوگوں نے خود اعتراف بھی کیا اور پریس کانفرنسوں میں بتایا کہ عمران خان اور اس کے چند حواریوں نے اس سارے پلان کی منصوبہ بندی کی۔پوری تفصیل سے سارے راستوں اور جگہوں کے نقشے تک پہلے ہی مہیا کئے گئے تھے کہ کہا ں کہاں حملے کرنے ہیں۔وہ حساس جگہیں تک دکھائی گئیںاور اسی منصوبے کے تحت ان تمام جگہوں کو نشانہ بنایا گیا۔25 کروڑ پاکستانی اور میڈیا گواہ ہے کہ 9 مئی کس نے کیا کیا، کس نے کروایا، آڈیوز اور ویڈیوز موجود ہیں۔9 مئی کے دن یہ صرف پاک افواج اور حکومت نہیں جوہری قوت اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی مذموم کوشش اور سازش تھی۔9 مئی کے حملے نے 6 ستمبر 1965ء میں رات کے اندھیرے میں پاکستان پر دشمن کے حملے کی یاد تازہ کر دی تھی۔9 مئی کا حملہ بھی اسی طرز، اسی سوچ اور اسی ایجنڈے کی ایک تسلسل ہے۔سازش یہ تھی کہ افواج کے جوابی ردعمل سے عوام کا لہو بہے گا تو سارے پاکستان میں آگ لگ جائے گی۔لیکن میں مسلح افواج اور اس کی قیادت کو خراج ِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے دشمن کی اس ناپاک سوچ اور عزائم کو انتہائی تحمل اور دانشمندی سے ناکام بنا دیا۔جوہری پاکستان کو ایک ناکام ریاست قرار دے کر جوہری اثاثے تباہ کرنے کی سازش تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دشمن کی سازشیں ناکام ہو گئیں۔
میں یہاں لکھنے میں حق بجانب ہوں کہ9 مئی کو قوم کے وقار پر حملہ تھا۔جب قوموں کو کھوکھلا کرنا مقصود ہو تو اس کے قومی وقار کو مجروح کیا جاتا ہے۔اس لئے اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا اور اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔میرا ذاتی خیال تھا کہ زیادہ نہیں تو کم از کم 10سال تک ہر سال 9 مئی کو پاکستان میں قومی سطح پر چھٹی دی جاتی۔اگر اتنا بھی ممکن نہ ہو تو کم از کم پانچ سال، اگر اتنا بھی نہیں تو چار سال ہر 9 مئی کے دن چھٹی دے کر اس منحوس دن سے قوم کے ہونہاروں کو آگاہ رکھا جاتا۔ تقاریب کا انعقاد کر کے تقاریر سے اس دن سے قومی مجرموں کے کردار سے قوم کو آگاہ رکھا جاتا۔شواہد یہ سچائی ثابت کرتے ہیں کہ 9 مئی کا سال ہا سال منظم منصوبہ بندی کا نکتہ انتہا تھا۔اس دن والوں پر (بھارت اور اسرائیل سمیت) غیر ملکی کمپنیوں اور شہریوں نے ڈالروں، پاؤنڈز اور دیگر غیر ملکی سرمائے کی بارش کر دی گئی۔الیکشن کمیشن کو متنازع بنانے کی ایک بنیادی وجہ فارن فنڈنگ کیس بھی ہے۔10سال گزر گئے اب تو اس کیس کے فیصلے پر بھی عمل درآمد ہونا چاہیئے تھا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کے لئے ایک بے اثر شخص کو ہیرو بنایا گیا۔اسے صادق اور امین کے جھوٹے سرٹیفکیٹ دلوائے گئے۔جس کا کوئی کردار ہی نہیں اسے باکردار بنا کر مسلط کر دیا گیا۔جہاز بھر بھر کے اس کی حکومت بنائی گئی۔اس کے حق میں میڈیا کی پوری مہم چلوائی گئی۔سرمائے کے انبار جمع کئے گئے۔ٹیکنالوجی کے ذریعے خالی کرسیوں کو لاکھوں میں بدل دیا گیا۔اس کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دیا جاتا تھا۔چور چور ڈاکو ڈاکو کا شور مچا کر بدنام کرایا گیا۔ گھروں،ہسپتالوں پر حملے کرائے گئے۔مخالفین کے گھروں کے دروازوں پر لٹھ برداروں نے ڈنڈے برسائے۔گلی محلوں، چوک چوراہوں میں ان پر آوازیںکسی گئیں۔ گولیاں چلوائی گئیں۔ سیاہیاں پھینکوائی گئیں۔ انہیں اسلام سے خارج قرار دیا گیا۔سوشل میڈیا کو گالم گلوچ کا کوڑا دان بنا دیا گیا۔مخالفین کی عزت دار ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو جیلوں میں بند کر دیا گیا۔ان کے گھروں کی دیواریں پھلانگی گئیں۔ہسپتالوں میں سے چاند رات کو نکلوا کر قید خانے میں بند کروا دیا گیا۔گرفتار والد کے سامنے بیٹی کو ہتھکڑی لگوائی گئی۔ دم توڑتے مریضوں کا مذاق اڑایا گیا۔ پاکستان کے ساتھ ایک گریٹ گیم ہوئی۔یہ سب ایک بڑے کھیل کاحصہ تھا۔جس کی حقیقت 2018ء کے الیکشن کے بعد کھل کر سامنے آئی۔ اس ایجنڈے کو پورا کرنے کے کئی مرحلے تھے۔ اسی لئے میرے کالم کا عنوان ہے جب پاکستان جل رہا تھا۔