Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

عصرحاضرکادہشت گرد

دہشت گردی عصرحاضرکی سب سےہولناک لعنت ہےجس پرہرمہذب ومتمدن دنیااورمعاشرہ پریشان ہے اوراس عفریت سےمحفوظ رہنےکیلئے کوشاں بھی ہے مگربھارت واحدملک ہے جس کی موجودہ قیادت متعصب اوراقلیتوں پرزندگی حرام کرنےوالا مودی جیساسازشی کررہاہے جودہشت گردی کوہرمعاملے پربڑھاوا دینےمیں پیش پیش رہتاہ اوراپنی روش پر دیدہ دلیری سے ابھی تک قائم ہے۔ مودی کےتمام بازوئے شمشیرزن بشمول راشٹریہ سیوک سنگھ(آرایس ایس)،بجرنگ دل، وشواہندوپریشد،سنیکت ہندوسنگھرش سمیتی،کرنی سینا، سناتن سنستھا، سریرام سینے،ہندوویواواہنی، اب جو بھی دہشت گردانہ کام کرتے ہیں یاتعصب سے مامور جو کرتوت بھی کرتےہیں انہیں باعث ندامت نہیں سمجھتے بلکہ اعلانیہ اظہارکرنے لگے ہیں۔مودی سرکار کارویہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ اس حدتک ظالمانہ ہوچکاہے جس کی مثال خودبھارت ہی کی ماضی میں نہیں ملتی۔کوئی دن ایسا نہیں جاتاجب لوجہا ، گئو رکھشااوراب بچہ چوری کے نام پرکسی مسلمان کوجان سے نہ مارا جاتاہو، کسی کی سرراہ پٹائی نہ ہوئی ہو،اوریہ تمام دہشت گردانہ ظالمانہ کارروائیاں ڈھکےچھپے نہیں ہورہیں، باضابطہ کسی نہ کسی تنظیم کے بینرتلے ہورہی ہیں۔
جولوگ انفرادی طورپران دہشت گردیوں میں ملوث ہیں،وہ بھی عام طورپرکسی بھگواتنظیم سے وابستہ ہیں اوراس کااظہارکھلےعام کررہے ہیں پھر بھی نجانے ان کے خلاف ان کی تنظیم کےخلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔اگردنیاکودکھانےکیلئے اکا دکاواقعہ میں کوئی کارروائی ہوبھی رہی ہے تومحض دکھاوے کےطورپرکیونکہ ان پرمعمولی قسم کی دفعات لگائی جاتی ہیں تاکہ وہ آسانی سے ضمانت پررہائی پاسکیں ۔دہشت گردی کی زیادہ تر کارروائیاں راشٹریہ سیوک سنگھ (آرایس ایس)کی ذیلی تنظیمیں جیسےوشوا ہندو پریشد اوربجرنگ دل انجام دےرہی ہیں جبکہ بعض کارروائیاں مخصوص ریاستوں میں سرگرم عمل تنظیمیں کررہی ہیں جیسے گوا، مہاراشٹر،کرناٹک کی حدتک سناتن سنستھا،جنوبی کرناٹک میں سری رام سینے اوراترپردیش میں ہندودیوا واہنی بعض جگہوں پرنئے نام بھی سامنے آرہےہیں جیسے ہریانہ میں مسلمانوں کوجمعہ کی نمازنہ پڑھنے دینےکیلئے بھگوا تنظیموں کاایک متحدہ محاذسنکیت ہندوسنگھرش سمیتی سامنے آگیاہے۔ پدماوت علم کی مخالفت کے نام پرکھڑی کی گئی تحریک کے وقت کرنی سیناکابینر استعمال کیاگیاجس نے راجستھان اورہریانہ وغیرہ میں طوفانِ بدتمیزی مچایا۔
تنظیمیں چاہے کوئی بھی ہوں ان سب کی فکر ایک ہی ہے اورصاف پتہ چلتاہے کہ ان سب تنظیموں کے پیچھے وہی متعصب ذہنیت ہےجس کو مودی سرکارنے بڑھاوادیکرخوف کی علامت بنادیا ہے۔ہندو رکھشا کےنام پرمسلمانون، عیسائیوں اوردلتوں سے بے انتہا نفرت کا اظہار اوراپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے جھوٹ اورفریب کے ساتھ تشدد اور دہشت گردی کر رہےہیں۔عالمی قوانین کے مطابق ان تمام متعصب اوربیمارذہنیت کی تنظیموں پرفوری پابندی لگنی چاہئے خاص طورپربجرنگ دل پر،کیونکہ سب سے فعال تنظیم یہی ہے جس نے ایک طرح سے پورے بھارت میں دہشت گردی کی کمان سنبھال رکھی ہے۔ کہیں یہ براہِ راست میدان میں اترتی ہے اورکہیں اس کے زیراثرافراد یا گروپس سامنے آتے ہیں ۔ ماضی میں بجرنگ دل پر پابندی لگائےجانےکا مطالبہ بھارت کی تمام اہم سیاسی جماعتوں کے قائدین کرتے رہے ہیں جن میں دیویگوڑا، شردپورا، لالوپرشاد،رام دلاس پاسوان ،مایاوتی اورمنیش کمارتیواری کے نام قابل ذکرہیں۔
جب من موہن سنگھ وزیراعظم تھےتوسابق وزیراعظم دیویگوڑانےایک خط لکھ کرشکائت کی تھی کہ بجرنگ دل،کرناٹک اوراڑیسہ میں اقلیتوں کےخلاف جنونی اندازمیں تشدد کررہاہے ۔ ایک اورممتازبھارتی رہنمادیرپامائل نے کہاتھاکہ راشٹریہ سیوک سنگھ کی اس ذیلی تنظیم پراس لئے پابندی لگنی چاہئے کہ عام دہشتگردتوچھپ کرحملہ کرتے ہیں جبکہ بجرنگ دل کھلے عام دہشت گردی پھیلارہے ہیں۔یہ بھی کہاگیاکہ جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے وہاں پارٹی بجرنگ دل کواپنی بقاء کے لئے آکسیجن سمجھتی ہے۔نیشنل کمیشن فارمناریٹیز بھی ایک زمانے میں بجرنگ دل سے عاجزرہاہےاورپابندی لگانے کامطالبہ کرتا رہا۔کمیشن کے وائس چیئرمین مائیکل نپٹونے کرناٹک حکومت پرجب وہ بی جے پی کے تحت تھی،الزام عائدکیاتھاکہ باربارکی یاددہانی کے باوجودبجرنگ دل کوچرچ اورعیسائیوں پرحملوں سے بازنہیں رکھاجاسکا۔وشواہندوپریشدنے جوخودآرایس ایس کی ایک ذیلی تنظیم ہے۔
1984ء میں بجرنگ دل قائم ہواتھا،اپنے یوتھ ونگ کے طورپرہندوپریشدکواس کی ضرورت یوپی میں ہندوں نوجوانوں کوبابری مسجدپرقبضہ کیلئے شروع کی گئی اورنوجوان متعصب ہندونوجوانوں کواس تحریک میں شامل کرنےکیلئےباقاعدہ ایک سیل بنایاگیا۔ان کی یہ پیشکش اورتحریک اتنی کامیاب رہی کہ جلدہی اسے وسعت دیکرسارے ملک میں پھیلادیاگیا۔ رام جنم بھومی کے حوالےسے جتنی بھی ریلیاں سنگھ پریوارنے نکالیں ان سب میں بجرنگ دل کے کارکن پیش پیش رہے۔ 1962ء میں بابری مسجد کی شہادت سے لے کر 2002ء کے گجرات فسادات تک ہرخونخواری میں بجرنگی کارکن براہِ راست ملوث رہے۔نرسمہاراکی حکومت نے بابری مسجدمیں عبادت پرپابندی لگادی تھی لیکن بعدازاں ان پراس قدردباؤ پڑا کہ صرف ایک سال بعدیہ پابندی اٹھانی پڑی۔اس سے پھرسے رہ رہ کرمختلف قومی اورعالمی اداروں کی طرف سے اس کونکیل ڈالنے کامطالبہ ہوتارہا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل ہیومن رائٹس واچ،پیپلزیونین فارسول لبرٹیزاورپیپلزیونین فارڈیموکریٹک رائٹس جیسی انسانی حقوق کی تنظیمیں گاہے بگاہے، بجرنگ دل کے کالے کرتوتوں پرروشنی ڈال کربھارتی حکم رانوں سے اس پرپابندی لگانے کامطالبہ کرتی چلی آرہی ہیں مگراب تک بی جے پی اوراس سے پہلے کانگرس کی حکومت نے ان مطالبات کوتسلیم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، گویا دہشتگردی کی کھلی چھٹی دیئے جانے پربھارت کی کسی بھی حکومت کوکوئی ملال ہے اورنہ ندامت! بلکہ اب مودی سرکارکی سرپرستی نے تو دہشتگردبجرنگ دل کے حوصلے اتنے بلند کردیئے ہیں کہ اس کے منہ کوانسانی خون کاچسکالگ چکاہے۔
اب ایک مرتبہ پھرمودی سرکاراوراس متعصب جماعت کے دیگررہنما اوروزراانتخابات جیتنے اس انتہاپسندتنظیم کےساتھ کھڑے نظرآرہے ہیں،کون نہیں جانتا کہ نوادہ میں گری راج سنگھ فسادبھڑکانےکے الزام میں گرفتار بجرنگ دل کےذمہ داروں سےملنےجیل جاکراس بات پر باضابطہ آنسوبہارہاہے اوریقین دہانی کروارہاہے کہ وہ ان سب کوجلدجیل سے رہائی دلاکردم لے گا اور اسی طرح ہزاری باغ میں جیت ہنسانے ماب لنچنگ کے ملزموں کی کھلے عام میزبانی کررہاہے جوحال ہی میں ضمانت پررہا ہوئے تھے،یہ کام اس نے خاموشی سے نہیں کیابلکہ مٹھائی کھاتے ہوئے ان کے ساتھ تصویریں بنوائیں۔بجرنگ دل کے کارکن پہلے صرف لاٹھی کا استعمال کرتے تھے،اب ہرطرح کے آتشیں ہتھیاروں کا بےدھڑک استعمال کررہے ہیں۔اس سال رام نومی کے موقع پرسنگھ پریوارکی طرف سے انہیں کھلے عام ترشول اور تلوارایسے ہتھیاربانٹے گئے۔اس سے پہلے یہ خبربھی آئی کہ انہیں ہرقسم کے ہتھیارچلانے کی تربیت وٹریننگ دی جارہی ہے۔آرایس ایس کے ذریعے چلنے والے ایک اسکول میں بجرنگ دل کے سینکڑوں کارکنوں کومارشل آرٹس کی ٹریننگ دی جا رہی ہے جس میں انہیں تلوار،ترشول کے علاوہ دیگر ہتھیار چلانے کی تربیت بھی دی جارہی ہے۔ملک کے مختلف مقامات پربجرنگ دل اورہندوپریشداسکول کے بچوں کوہرقسم کے اسلحے استعمال کے استعمال کی کھلے عام ٹریننگ دی جارہی ہے۔
28فروری2015 ء کوپندرہ روزہ ملی گزٹ نےاطلاع دی تھی کہ بجرنگ دل ملی ٹینٹ ہندو فورس تیارکرنے کافیصلہ کیاہےجس کےتحت ملک کے تمام اضلاع میں شکتی آرادھنا کیندر قائم کیاجائے گاجہاں اس کےکارکن لاٹھی اورپستول چلاناسیکھیں گے۔ اس سکیم پرنہ صرف باقاعدہ عملدرآمد ہو رہاہے بلکہ اب تومودی سرکارکی سرپرستی میں ہونے والی ہندو دہشتگردانہ کارروائیوں اور وارداتوں کانوٹس انٹرنیشنل میڈیابھی لے رہاہے اورعالمی ادارے بھی بھارت پرانگلی اٹھارہے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں بھارتی حکومت پرسخت تنقیدکی گئی ہے کہ وہ اقلیتوں اوردلتوں پرہونے والے ظلم اورجبرکوروکنے میں ناکام رہی ہے۔سی آئی اے کی ورلڈفیکٹ بک میں وشواہندو پریشداور بجرنگ دل کوملی ٹینٹ،عسکریت پسندیاجنگجو قراردیا گیاہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں تنظیموں کو دہشت گردکادرجہ دینے کاباضابطہ اعلان کیاہےلیکن کیاان دہشت گردجماعتوں کے ساتھ بھی عالمی طورپرویساہی سلوک کیاجارہاہےجیساپاکستان میں بعض جماعتوں کے بارے میں روا رکھا جارہاہے؟ کیااس کھلی منافقت کاپردہ چاک کرنے کی ذمہ داری ہماری حکومت پوری کررہی ہے؟

یہ بھی پڑھیں